WTI Crude Oil دباؤ کا شکار، US-Iran Talks نے Oil Market کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا

Market Volatility Rises as Supply Expectations and Geopolitical Tensions Shape Oil Outlook

WTI Crude Oil کی قیمتیں اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہیں. جہاں عالمی سیاست اور سپلائی کے خدشات نے مارکیٹ کو $62.00 سے $63.00 کے درمیان محدود کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ایٹمی مذاکرات اور اوپیک پلس (OPEC+) کی جانب سے پیداوار میں ممکنہ اضافے پر لگی ہوئی ہیں۔

موجودہ حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ WTI Crude Oil آئندہ ہفتوں میں بھی سفارتی اور معاشی عوامل کے زیر اثر رہے گا۔ عالمی معیشت کی رفتار، توانائی کی طلب اور جغرافیائی سیاست Oil Market کی سمت متعین کریں گے۔ سرمایہ کار اب ہر نئی خبر اور سفارتی بیان کو مارکیٹ سگنل کے طور پر دیکھ رہے ہیں. جو توانائی سیکٹر میں بڑے مالی فیصلوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • قیمتوں کا استحکام: WTI Crude Oil کی قیمتیں فی الحال $62.00 اور $63.00 کے درمیان "سائیڈ ویز” (Sideways) ٹریڈنگ کر رہی ہیں۔

  • امریکہ-ایران مذاکرات: واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایٹمی ڈیل (Nuclear Deal) کی بحالی کی خبریں سپلائی میں اضافے کے خوف کی وجہ سے قیمتوں کو اوپر جانے سے روک رہی ہیں۔

  • اوپیک پلس (OPEC+) کا کردار: اپریل سے تیل کی پیداوار بڑھانے کی افواہوں نے مارکیٹ میں تیزی (Bullish trend) کے جذبات کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔

  • تکنیکی مزاحمت: $63.00 کا لیول ایک مضبوط "ریزسٹنس” (Resistance) کے طور پر سامنے آیا ہے. جبکہ $62.00 پر فوری "سپورٹ” (Support) موجود ہے۔

کیا WTI Crude Oil کی قیمتیں $63.00 سے اوپر جا سکیں گی؟

خام تیل کی مارکیٹ اس وقت ایک "ویٹ اینڈ واچ” (Wait and Watch) کی پالیسی پر گامزن ہے۔ گزشتہ ہفتے کی بلند ترین سطح $65.65 سے تقریباً 4 فیصد گرنے کے بعد، قیمتیں اب ایک تنگ رینج (Tight Range) میں محصور ہیں۔ پیر کے روز ایشیائی مارکیٹس میں نئے سال کی تعطیلات اور امریکہ میں "پریزیڈنٹ ڈے” (President’s Day) کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں سست رہیں۔

مارکیٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک کوئی بڑی جیو پولیٹیکل (Geopolitical) تبدیلی نہیں آتی. تیل کی قیمتوں میں بڑی چھلانگ لگانا مشکل نظر آتا ہے۔ خاص طور پر جب سپلائی سائیڈ سے دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہو۔

WTI Crude Oil price as on 16th Feb. 2026
WTI Crude Oil price as on 16th Feb. 2026

کیا ایران پر سے پابندیاں ختم ہونے والی ہیں؟

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات اس وقت تیل کی مارکیٹ کے لیے سب سے بڑا "ایکس فیکٹر” ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق توانائی، کان کنی اور ہوائی جہازوں کے سودے میز پر موجود ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں. اور ایران پر سے اقتصادی پابندیاں (Economic Sanctions) اٹھا لی جاتی ہیں. تو عالمی مارکیٹس میں روزانہ لاکھوں بیرل اضافی تیل شامل ہو سکتا ہے۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی ایران جیسی بڑی آئل پروڈیوسنگ ریاست کے ساتھ مذاکرات کی خبر آتی ہے. مارکیٹ "سیل آن ریو مڑ” (sell on rumor) کی پالیسی اپناتی ہے۔ چاہے اصل سپلائی مہینوں بعد آئے۔ ٹریڈرز کو ہمیشہ ایسی خبروں پر جذباتی ہونے کے بجائے سپلائی چین کے ڈیٹا پر نظر رکھنی چاہیے۔

اوپیک پلس (OPEC+) اور پیداوار میں اضافے کی افواہیں

WTI Crude Oil کی قیمتوں پر دباؤ کی ایک اور بڑی وجہ اوپیک پلس ممالک کی جانب سے اپریل سے پیداوار بڑھانے کی بازگشت ہے۔ موسم گرما میں عالمی سطح پر تیل کی طلب (Demand) میں اضافے کی توقع ہے. جس کو پورا کرنے کے لیے پیداواری ممالک سپلائی بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔

عنصر (Factor) اثر (Impact) وجہ (Reason)
ایران ڈیل منفی (Bearish) سپلائی میں اچانک اضافے کا خدشہ۔
اوپیک پلس اعتدال پسند (Neutral/Bearish) پیداوار میں بتدریج اضافے کی افواہ۔
عالمی طلب مثبت (Bullish) سفری پابندیوں میں کمی اور گرمیوں کا سیزن۔

ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis): اہم لیولز

اگر ہم چارٹ پر نظر ڈالیں، تو WTI Crude Oil کی قیمتیں $62.00 کے "سپورٹ زون” (Support Zone) کو ٹیسٹ کر رہی ہیں۔

  • ریزسٹنس (Resistance): $63.00 کا لیول توڑنا خریداروں (Bulls) کے لیے پہلا بڑا چیلنج ہے۔ اگر قیمت اس سے اوپر بند ہوتی ہے، تو اگلا ہدف $64.50 ہو سکتا ہے۔

  • سپورٹ (Support): $62.00 کا لیول ٹوٹنے کی صورت میں قیمت تیزی سے $60.50 یا اس سے بھی نیچے جا سکتی ہے۔

سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ "آر ایس آئی” (RSI – Relative Strength Index) جیسے اشارے استعمال کریں. تاکہ مارکیٹ کے اوور سولڈ (Oversold) یا اوور باٹ (Overbought) ہونے کا اندازہ لگایا جا سکے۔

کیا فوجی کشیدگی قیمتوں کو بڑھا سکتی ہے؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات، جس میں انہوں نے فوجی کارروائی کے آپشن کو مسترد نہیں کیا. اور مشرق وسطیٰ میں دوسرے طیارہ بردار جہاز کی آمد نے مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے میزائل پروگرام پر حملوں کی خبریں سچ ثابت ہوتی ہیں. تو تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اچھال (Spike) آ سکتا ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی

موجودہ صورتحال میں خام تیل کی مارکیٹ کسی بھی سمت میں بڑا بریک آؤٹ (Breakout) دے سکتی ہے۔ ایک طرف سفارتی کوششیں قیمتوں کو نیچے رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، تو دوسری طرف جنگ کے بادل سپلائی میں تعطل کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔

ٹریڈرز کے لیے مشورہ: ایسے غیر یقینی حالات میں "اسٹاپ لاس” (Stop Loss) کا استعمال لازمی کریں۔ مارکیٹ فی الحال رینج میں ہے، لہذا بریک آؤٹ کا انتظار کرنا دانشمندی ہوگی۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا، یا ہمیں WTI Crude Oil کی قیمتوں میں ایک بار پھر $70.00 کا لیول دیکھنے کو ملے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button