AUDUSD میں اتار چڑھاؤ، RBA کی Hawkish پالیسی اور Fed کی Rate Cut توقعات نے مارکیٹ کو سنبھال لیا

Australian Economic Stability and Fed Rate Cut Expectations Shape Currency Market Direction

فروری 2026 کے دوسرے ہفتے میں آسٹریلوی ڈالر (AUD) اور امریکی ڈالر (USD) کے درمیان دلچسپ رسہ کشی جاری ہے۔ منگل کے روز ایشیائی سیشن کے دوران، AUDUSD کی قیمت 0.7050 کی سطح کے قریب دیکھی گئی. جو کہ (RBA) کے مانیٹری پالیسی اجلاس کے منٹس (Minutes) جاری ہونے کے بعد معمولی گراوٹ کا شکار ہوئی۔

اگرچہ RBA نے اپنے سخت گیر موقف (Hawkish stance) کو برقرار رکھا ہے. لیکن شرح سود میں اضافے کے حوالے سے واضح ٹائم لائن کی کمی نے آسٹریلوی ڈالر کے بیلوں (Bulls) کو کچھ حد تک محتاط کر دیا ہے۔ دوسری جانب، فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے ریٹ کٹ (Rate cut) کے امکانات امریکی ڈالر کو دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں. جو بالواسطہ طور پر (AUD) کے لیے ایک سہارا (Support) ثابت ہو رہے ہیں۔

عالمی رسک سینٹیمنٹ، چین کی معاشی رفتار اور امریکی ڈالر کی اچانک مضبوطی ایسے عوامل ہیں جو AUDUSD کے مثبت رجحان کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے سرمایہ کار آئندہ لیبر مارکیٹ رپورٹس اور عالمی معاشی ڈیٹا پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

عالمی مالیاتی منظرنامے میں اس وقت AUDUSD ایک حساس معاشی اشارہ بن چکا ہے جو نہ صرف آسٹریلیا بلکہ عالمی رسک اپیٹائٹ کی عکاسی کر رہا ہے۔ اگر موجودہ معاشی استحکام برقرار رہتا ہے. تو یہ کرنسی جوڑا سرمایہ کاروں کے لیے مزید مواقع پیدا کر سکتا ہے. جبکہ کسی بھی عالمی معاشی جھٹکے کی صورت میں مارکیٹ کا رخ اچانک بدل بھی سکتا ہے۔

اہم نکات (Key Highlights)

  • RBA کا سخت موقف: آسٹریلوی مرکزی بینک افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے اب بھی شرح سود بڑھانے کا آپشن کھلا رکھے ہوئے ہے۔

  • معاشی استحکام: آسٹریلیا کی لیبر مارکیٹ اور ریٹیل سیلز میں بہتری آسٹریلوی ڈالر کو گرنے سے بچا رہی ہے۔

  • چین کا اثر: چین کی معیشت میں بتدریج بہتری آسٹریلیا کی برآمدات (Exports) کے لیے مثبت ہے. جو کہ (AUD) کے لیے ایک "بیک گراؤنڈ سپورٹ” کا کام کر رہی ہے۔

  • ٹیکنیکل آؤٹ لک: جوڑی کے لیے 0.7100 ایک اہم مزاحمتی (Resistance) سطح ہے. جبکہ 0.6970 مضبوط سپورٹ زون ہے۔

آسٹریلوی معیشت: سست روی مگر استحکام (Easing, not Unravelling)

آسٹریلیا کے حالیہ معاشی اعداد و شمار (Economic Data) یہ بتاتے ہیں کہ معیشت ٹھنڈی تو ہو رہی ہے. لیکن یہ کوئی بحرانی صورتحال نہیں ہے۔ اسے ماہرین "سافٹ لینڈنگ” (Soft Landing) کا نام دے رہے ہیں۔

روزگار اور لیبر مارکیٹ (Labor Market)

آسٹریلیا کی لیبر مارکیٹ توقعات سے زیادہ مضبوط ثابت ہو رہی ہے۔ دسمبر کے دوران روزگار میں 65,200 کا اضافہ ہوا اور بے روزگاری کی شرح (Unemployment Rate) کم ہو کر 4.1% پر آ گئی۔ مارکیٹ کی نظریں اب جنوری کی جابز رپورٹ پر ہیں. جو کہ (RBA) کے اگلے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

افراط زر کا چیلنج (Sticky Inflation)

مہنگائی (Inflation) اب بھی ریزرو بینک کے لیے سب سے بڑا دردِ سر بنی ہوئی ہے۔ دسمبر میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) 3.8% رہا، جو کہ بینک کے ہدف سے زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے RBA کے حکام فی الحال "پیوٹ” (Pivot) کرنے یا ریٹ کم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی لیبر مارکیٹ اتنی مضبوط ہو. اور افراط زر ہدف سے اوپر ہو، تو سینٹرل بینک مارکیٹ کی ریٹ کٹ کی توقعات کو مسلسل مسترد کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلوی ڈالر ابھی تک بڑے کریش سے بچا ہوا ہے۔

چین کی صورتحال: سپورٹ مگر سست رفتار (China Context)

آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہونے کے ناطے، چین کی معیشت (AUD) پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔

  • جی ڈی پی گروتھ: چین کی معیشت چوتھی سہ ماہی میں 4.5% کی شرح سے بڑھی۔

  • مینوفیکچرنگ ڈیٹا: چین کے پی ایم آئی (PMI) انڈیکس مینوفیکچرنگ میں کچھ کمزوری دکھا رہے ہیں. جو کہ تشویشناک ہو سکتا ہے۔

  • ٹراڈ سرپلس: چین کا تجارتی توازن (Trade Surplus) 114 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے. جو آسٹریلوی خام مال (Raw materials) کی مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔

China آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے. اور اس کی معاشی کارکردگی براہ راست AUDUSD پر اثر انداز ہوتی ہے۔ چینی معیشت نے سالانہ بنیادوں پر 4.5 فیصد ترقی دکھائی. مگر مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سست روی کے آثار بھی سامنے آئے۔ People’s Bank of China نے Loan Prime Rates کو مستحکم رکھتے ہوئے بتدریج معاشی سپورٹ جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے. جو آسٹریلوی کرنسی کے لیے ایک بنیادی سہارا فراہم کر رہا ہے۔

RBA مانیٹری پالیسی: سخت گیر لہجہ (Restrictive Stance)

فروری کے منٹس سے واضح ہے کہ گورنر مشیل بُلاک (Michele Bullock) اور ان کی ٹیم افراط زر کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ آفیشل کیش ریٹ (OCR) فی الحال 3.85% پر ہے، اور مارکیٹ مزید 37 بنیادی پوائنٹس (bps) اضافے کی توقع کر رہی ہے۔

RBA کے منٹس سے کیا سیکھا؟

  • افراط زر اب بیرونی کے بجائے مقامی ڈیمانڈ (Demand-driven) کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔

  • پراپرٹی مارکیٹ میں ہاؤسنگ لونز (Home Loans) میں 10.6% کا اضافہ ظاہر کرتا ہے. کہ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی (Liquidity) موجود ہے۔

مارکیٹ پوزیشننگ: سرمایہ کاروں کا اعتماد (Trader Sentiment)

سی ایف ٹی سی (CFTC) کے ڈیٹا کے مطابق، بڑے ٹریڈرز اور انسٹی ٹیوٹشنز نے آسٹریلوی ڈالر میں اپنی لانگ پوزیشنز (Long positions) میں اضافہ کیا ہے۔ یہ 2017 کے بعد کی بلند ترین سطح ہے۔

  • نیٹ لانگ پوزیشنز: 33,200 کنٹریکٹس۔

  • اوپن انٹرسٹ: معمولی کمی کے ساتھ 247,200 کنٹریکٹس۔

یہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ ٹریڈرز اب (AUD) کی واپسی پر شرط لگا رہے ہیں. لیکن وہ "اندھا دھند” خریداری (Euphoria) سے گریز کر رہے ہیں۔

تکنیکی تجزیہ: AUDUSD کی اہم سطحیں (Technical Levels)

اگر ہم ڈیلی چارٹ (Daily Chart) پر نظر ڈالیں، تو آسٹریلوی ڈالر اس وقت ایک مضبوط اپ ٹرینڈ (Uptrend) میں ہے۔

لیول کی قسم قیمت (Price) اہمیت (Significance)
فوری مزاحمت (Resistance) 0.7158 اگر یہ ٹوٹا تو 0.7283 اگلا ہدف ہوگا۔
فوری سپورٹ (Support) 0.6976 23.6% فیبونچی (Fibonacci) ریٹریسمنٹ لیول۔
اہم سپورٹ (Major Support) 0.6870 38.2% ریٹریسمنٹ، یہاں سے باؤنس متوقع ہے۔
موونگ ایوریج (55-day SMA) 0.6783 مارکیٹ اس لیول سے اوپر ہے، جو کہ بلش (Bullish) علامت ہے۔

Relative Strength Index (RSI): اس وقت 65 کے قریب ہے، جس کا مطلب ہے. کہ مارکیٹ میں ابھی بھی اوپر جانے کی گنجائش موجود ہے. اور یہ "اوور بوٹ” (Overbought) نہیں ہوئی۔

AUDUSD as on 17th Feb. 2026 after RBA Minutes released
AUDUSD as on 17th Feb. 2026 after RBA Minutes released

مستقبل کا منظرنامہ: کیا دیکھنا ضروری ہے؟

آنے والے دنوں میں (AUDUSD) کی موومنٹ کا انحصار ان عوامل پر ہوگا:

  • امریکی ڈالر کی چال: اگر امریکی افراط زر (PCE Data) کم آتا ہے. تو ڈالر مزید گرے گا اور (AUD) بڑھے گا۔

  • آسٹریلوی جابز ڈیٹا: اگلے ہفتے آنے والی روزگار کی رپورٹ ریٹ ہائیک (Rate hike) کے امکانات واضح کرے گی۔

  • چین کے پالیسی اقدامات: پی بی او سی (PBoC) کی جانب سے کسی بھی بڑے اسٹیمولس (Stimulus) کا اعلان آسٹریلوی ڈالر کو راکٹ بنا سکتا ہے۔

حتمی رائے (Conclusion)

مختصر یہ کہ (AUDUSD) اس وقت عالمی رسک اپیٹائٹ (Risk Appetite) اور چینی معیشت کا عکاس ہے۔ جب تک آسٹریلیا کا مقامی ڈیٹا مضبوط ہے اور RBA اپنا سخت موقف برقرار رکھتا ہے. تب تک ہر "ڈپ” (Dip) خریداری کا موقع ثابت ہو سکتی ہے۔ 0.7100 کی سطح سے اوپر کلوزنگ ایک نئے بل رن (Bull Run) کا آغاز ثابت ہوگی۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا RBA واقعی اس سال شرح سود میں مزید اضافہ کرے گا. یا فیڈ کی طرح اسے بھی جھکنا پڑے گا؟ کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button