OGDCL کی سندھ میں بڑی کامیابی: ٹنڈو اللہ یار میں گیس اور کنڈینسیٹ کے ذخائر دریافت

New Development Well Signals Production Growth, Investor Confidence and Pakistan’s Expanding Hydrocarbon Potential

پاکستان کی سب سے بڑی آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنی، OGDCL نے صوبہ سندھ کے ضلع ٹنڈو اللہ یار میں ایک نئے ترقیاتی کنویں "ڈارس ویسٹ-3” (Dars West-3) سے کامیابی کے ساتھ ہائیڈرو کاربن کے ذخائر حاصل کر لیے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے. جب پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی وسائل پر انحصار بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بلاگ میں ہم اس دریافت کے ٹیکنیکل پہلوؤں، معیشت پر اثرات اور سرمایہ کاروں کے لیے اس کی اہمیت کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

اہم نکات (Key Highlights)

  • کامیاب ٹیسٹنگ: OGDCL نے ٹنڈو اللہ یار میں 2,100 میٹر گہرائی تک ڈرلنگ مکمل کر کے گیس اور کنڈینسیٹ دریافت کر لیا۔

  • پیداواری صلاحیت: اس کنویں سے روزانہ 9.70 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ (MMSCFD) گیس اور 580 بیرل کنڈینسیٹ حاصل ہوگا۔

  • انفراسٹرکچر: گیس کو سسٹم میں شامل کرنے کے لیے پائپ لائن بچھانے کا کام جاری ہے. جسے KPD-TAY پلانٹ کے ذریعے SSGCL نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔

  • کمپنی کی پوزیشن: OGDCL پاکستان کے 40% سے زائد رقبے پر ایکسپلوریشن کے حقوق رکھتی ہے. جو اسے مارکیٹ لیڈر بناتا ہے۔

OGDCL کی نئی دریافت کی تفصیلات کیا ہیں؟

او جی ڈی سی ایل (OGDCL) نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو مطلع کیا ہے کہ انہوں نے Lower Goru Formation کے C-Sand ریزروائر میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کنواں 2,100 میٹر کی گہرائی تک کھودا گیا تھا۔ ٹیسٹنگ کے دوران، 36/64 انچ کے چوک سائز (Choke Size) پر 1,725 Psi کے پریشر کے ساتھ گیس کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ دریافت نہ صرف کمپنی کے پروڈکشن پورٹ فولیو میں اضافہ کرے گی بلکہ ملک میں گیس کی قلت کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، ڈارس ویسٹ ایریا میں مسلسل دوسری کامیابی (پہلی 2023 میں ہوئی تھی) اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خطہ ہائیڈرو کاربن کے لحاظ سے انتہائی زرخیز ہے۔

لوئر گورو فارمیشن (Lower Goru Formation) کی اہمیت کیا ہے؟

پاکستان کے انرجی سیکٹر میں لوئر گورو فارمیشن کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ سندھ کے زیادہ تر کامیاب کنویں اسی فارمیشن سے نکلتے ہیں۔ سی-سینڈ (C-Sand) ریزروائر اپنی بہترین پوروسیٹی (Porosity) اور پرمیبلٹی (Permeability) کی وجہ سے مشہور ہے. جس کا مطلب ہے کہ یہاں سے تیل اور گیس نکالنا ٹیکنیکل لحاظ سے زیادہ سودمند ہوتا ہے۔

معیشت اور انرجی سیکٹر پر اس کے اثرات

پاکستان اس وقت شدید انرجی کرائسز (Energy Crisis) سے گزر رہا ہے. اور ایل این جی (LNG) کی درآمد پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔

  • درآمدی بل میں کمی: مقامی سطح پر 9.70 MMSCFD گیس کی پیداوار سے مہنگی درآمدی گیس پر انحصار کم ہوگا۔

  • انڈسٹریل سپورٹ: سندھ میں گیس کی دریافت سے مقامی صنعتوں، خاص طور پر فرٹلائزر اور پاور سیکٹر کو ریلیف ملے گا۔

  • سرکاری خزانے میں اضافہ: چونکہ حکومتِ پاکستان OGDCL میں 67% کی حصہ دار ہے. اس لیے منافع کا بڑا حصہ قومی خزانے میں جائے گا۔

اپنی 10 سالہ ٹریڈنگ جرنی کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی OGDCL جیسی بڑی کمپنی کسی نئی دریافت کا اعلان کرتی ہے. تو مارکیٹ میں وقتی تیزی کے ساتھ ساتھ طویل مدتی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔

2010 کی دہائی کے وسط میں جب اسی طرح کی دریافتیں ہوئی تھیں، تو آئل اینڈ گیس سیکٹر نے انڈیکس کو لیڈ کیا تھا۔ ایک تجربہ کار ٹریڈر ہمیشہ یہ دیکھتا ہے. کہ دریافت کے بعد "فرسٹ گیس” (First Gas) یعنی سسٹم میں گیس کب شامل ہوگی. کیونکہ اصل ریونیو تبھی شروع ہوتا ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے تجزیہ: کیا OGDCL کے شیئرز خریدنے کا یہ صحیح وقت ہے؟

OGDCL کا مالیاتی ڈھانچہ انتہائی مضبوط ہے۔ یہ کمپنی نہ صرف پیداوار میں خود کفیل ہے. بلکہ اس کے پاس ٹیکنیکل ماہرین کی ان-ہاؤس (In-House Expertise) ٹیم بھی موجود ہے جس نے اس کنویں کی ٹیسٹنگ خود کی ہے۔

جوائنٹ وینچر کی ساخت (Joint Venture Structure)

ڈارس ویسٹ ڈی اینڈ پی ایل (Dars West D&PL) جوائنٹ وینچر میں حصہ داری درج ذیل ہے.

  • OGDCL (آپریٹر): 77.5%

  • GHPL (گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ): 22.5%

آپریٹر ہونے کے ناطے، OGDCL کے پاس آپریشنل کنٹرول ہے. جو کہ مینجمنٹ کے لحاظ سے ایک مثبت پہلو ہے۔

آپریٹر ہونے کے ناطے، او جی ڈی سی ایل کے پاس آپریشنل کنٹرول ہے، جو کہ مینجمنٹ کے لحاظ سے ایک مثبت پہلو ہے۔

OGDCL کی مارکیٹ پوزیشن کا موازنہ

خصوصیت تفصیل
کل رقبہ پاکستان کے کل ایکسپلوریشن رقبے کا 40% سے زائد
میجر شیئر ہولڈر حکومتِ پاکستان (67%+)
حالیہ دریافت 9.70 MMSCFD گیس اور 580 bpd کنڈینسیٹ
مستقبل کا منصوبہ KPD-TAY پلانٹ سے کنکشن

ٹیکنیکل تجزیہ اور مستقبل کی حکمتِ عملی

ایک ایکسپرٹ اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں سمجھتا ہوں کہ OGDCL کی طاقت اس کے وسیع ایکسپلوریشن رقبے میں ہے۔ 2,100 میٹر کی گہرائی تک کامیابی حاصل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے. کہ کمپنی اب کم گہرائی والے (Shallow) کے بجائے درمیانے درجے کے ریزروائرز کو تیزی سے ڈویلپ کر رہی ہے. تاکہ لاگت کم اور پیداوار زیادہ ہو۔

سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ: اگر آپ طویل مدتی سرمایہ کاری (long-term Investment) میں دلچسپی رکھتے ہیں. تو OGDCL جیسے ڈیویڈنڈ دینے والے اسٹاکس آپ کے پورٹ فولیو کا لازمی حصہ ہونے چاہئیں۔ تاہم، سرکولر ڈیٹ (circular debt) کے مسائل پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے. جو پاکستان کے انرجی سیکٹر کا ایک پرانا چیلنج ہے۔

اختتامیہ.

OGDCL کی ڈارس ویسٹ-3 میں کامیابی پاکستان کے انرجی سیکٹر کے لیے ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ یہ نہ صرف کمپنی کی ٹیکنیکل مہارت کا ثبوت ہے بلکہ سندھ کے خطے میں مزید دریافتوں کی امید بھی پیدا کرتا ہے۔ 9.70 MMSCFD گیس اور 580 bpd کنڈینسیٹ بظاہر چھوٹے اعداد و شمار لگ سکتے ہیں، لیکن جب ایسے متعدد کنویں سسٹم میں شامل ہوتے ہیں، تو یہ قومی معیشت پر بڑے مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کے خیال میں مقامی دریافتیں پاکستان کو مہنگی ایل این جی سے نجات دلا سکیں گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

Source: OGDC – Stock quote for Oil & Gas Development Company Limited – Pakistan Stock Exchange (PSX)

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button