پاکستان کی معیشت پر اعتماد: IMF کی طرف سے EFF اور RSF جائزے سے پہلے اعتماد کی بحالی
Fiscal Discipline, External Stability and Reform Commitments Strengthen Investor Confidence Ahead of Key Programme Assessment
عالمی مالیاتی ادارے (IMF) نے حال ہی میں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے ملک میں معاشی استحکام (Economic Stability) اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا اعتراف کیا ہے۔
جولائی 2024 میں منظور ہونے والے 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف (Extended Fund Facility) پروگرام کے تحت پاکستان نے اپنے مالیاتی ڈسپلن اور بیرونی کھاتوں (External Accounts) میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔
آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشنز، جولی کوزاک کے مطابق، پاکستان کی کارکردگی طے شدہ اہداف کے عین مطابق رہی ہے. جس کے نتیجے میں IMF کا وفد 25 فروری 2026 کو پاکستان کا دورہ کرے گا. تاکہ تیسرے معاشی جائزے (Third Review) کا آغاز کیا جا سکے۔ اس تحریر میں ہم ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے. جو پاکستانی مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔
اہم نکات
-
آئی ایم ایف کا دورہ: آئی ایم ایف کی ٹیم 25 فروری 2026 کو پاکستان پہنچے گی. تاکہ EFF کے تیسرے اور RSF کے دوسرے جائزے کا آغاز کیا جا سکے۔
-
مثبت معاشی اشارے: پاکستان نے 14 سال بعد پہلی بار کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس (Current Account Surplus) حاصل کیا ہے. اور بنیادی مالیاتی سرپلس (Primary Surplus) جی ڈی پی کا 1.3 فیصد رہا ہے۔
-
گورننس اور ٹیکس اصلاحات: ادارے نے ٹیکس ڈیزائن کی سادہ سازی اور اثاثوں کی شفافیت (Asset Transparency) پر زور دیا ہے. تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو سکے۔
-
مارکیٹ کا اعتماد: ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق پاکستان تمام سات مقداری کارکردگی کے معیار (Quantitative Performance Criteria) پر پورا اترنے کے قریب ہے۔
IMF کا دورہ پاکستان کتنی اہمیت کا حامل ہے؟
IMF کا ہر جائزہ مشن پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے لیے "سرٹیفکیٹ آف ہیلتھ” کی حیثیت رکھتا ہے۔ 25 فروری کا یہ دورہ صرف قسط کے حصول کے لیے نہیں. بلکہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں اور کثیر جہتی اداروں (Multilateral Institutions) کو یہ پیغام دینے کے لیے ہے. کہ پاکستان کی معاشی سمت درست ہے۔
اپنے 10 سالہ تجربے میں میں نے دیکھا ہے. کہ جب بھی IMF کسی ملک کے "پالیسی ایفرٹس” کی تعریف کرتا ہے. تو بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں اس ملک کے ‘یورو بانڈز’ کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔ یہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک سبز سگنل ہوتا ہے. کہ ملک ڈیفالٹ کے خطرے سے مکمل باہر آ چکا ہے۔
پاکستان کے معاشی استحکام کے اہم ستون کیا ہیں؟
جولی کوزاک کے بیان کے مطابق، پاکستان کی معاشی بحالی کے پیچھے تین بڑے عوامل ہیں.
1. مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline)
پاکستان نے مالی سال 2025 کے دوران 1.3% کا بنیادی مالیاتی سرپلس (Primary Surplus) برقرار رکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے قرضوں کی سود کی ادائیگی کے علاوہ اپنے اخراجات کو اپنی آمدنی کے اندر رکھا ہے۔
2. کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری (Improvement in Current Account)
14 سال کے طویل وقفے کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کا حصول ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) پر دباؤ کم ہوا ہے. اور روپے کی قدر میں استحکام (Currency Stability) آیا ہے۔
3. گورننس اور شفافیت (Governance and Transparency)
آئی ایم ایف نے حال ہی میں ‘گورننس اور کرپشن تشخیصی رپورٹ’ شائع کی ہے۔ اس میں سرکاری خریداریوں (Public Procurement) میں شفافیت اور ٹیکس پالیسی کو آسان بنانے کی تجاویز دی گئی ہیں۔
کیا پاکستان تمام آئی ایم ایف اہداف (IMF Targets) پورے کر رہا ہے؟
پاکستان کے معروف بروکریج ہاؤس، ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان ان تمام سات مقداری کارکردگی کے معیار (QPCs) کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے. جو ستمبر اور دسمبر 2025 کے لیے مقرر کیے گئے تھے۔
| ہدف (Target) | نوعیت (Nature) | اسٹیٹس (Status) |
| پرائمری بجٹ سرپلس | مالیاتی (Fiscal) | مکمل (Achieved) |
| نیٹ انٹرنیشنل ریزرووز | مانیٹری (Monetary) | ہدف کے قریب (On Track) |
| ٹیکس وصولی | ریونیو (Revenue) | چیلنجنگ مگر بہتری |
| کرنٹ اکاؤنٹ | ایکسٹرنل (External) | سرپلس (Surplus) |
فروری 26 کا دورہ: EFF اور RSF جائزے میں کیا ہوگا؟
IMF کی ٹیم دو اہم فریم ورکس پر بات چیت کرے گی.
-
Extended Fund Facility (EFF): اس کا مقصد گہرے معاشی ڈھانچہ جاتی مسائل (Structural Weaknesses) کو حل کرنا ہے۔
-
Resilience and Sustainability Facility (RSF): یہ کلائمیٹ چینج (Climate Change) اور طویل مدتی معاشی لچک پیدا کرنے کے لیے مختص فنڈ ہے۔
مارکیٹ پلیئرز کے لیے اہم بات یہ ہے کہ RSF کے تحت ملنے والی فنڈنگ عموماً سستی ہوتی ہے۔ جب میں 2020 کے دوران مارکیٹ ڈیٹا مانیٹر کر رہا تھا. تو اس طرح کے ریزلینس فنڈز نے اسٹاک مارکیٹ میں خاص طور پر انرجی اور انفراسٹرکچر سیکٹر میں تیزی پیدا کی تھی۔
ٹیکس اصلاحات اور کرپشن کا خاتمہ: نیا روڈ میپ
آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ اب صرف نمبرز پورے کرنا کافی نہیں. بلکہ نظام کی تبدیلی ضروری ہے۔
-
ٹیکس ڈیزائن کی سادہ سازی: پیچیدہ ٹیکس قوانین کو ختم کر کے ٹیکس نیٹ کو بڑھانا۔
-
اثاثوں کا اعلان (Asset Declaration): سرکاری افسران اور بااثر حلقوں کے اثاثوں کی شفافیت کو یقینی بنانا۔
-
لیول پلینگ فیلڈ: نجی شعبے اور سرکاری اداروں کے درمیان مساوی مقابلہ فراہم کرنا۔
اختتامیہ.
آئی ایم ایف کا فروری 2026 کا دورہ پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اگر پاکستان کامیابی سے یہ جائزے مکمل کر لیتا ہے، تو نہ صرف اسے اگلی قسط ملے گی بلکہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (FDI) میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ حکومت کے لیے اب اصل چیلنج ان اصلاحات کو سیاسی دباؤ کے باوجود برقرار رکھنا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آئی ایم ایف کی یہ سخت شرائط طویل مدت میں عام آدمی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی یا اس سے Inflation کا نیا طوفان آئے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



