خریداروں کی واپسی سے PSX میں تیزی، KSE100 میں ایک ہزار پوائنٹس کا اضافہ.
Investor Accumulation, Economic Stability Signals and Global Market Trends Drive Pakistan Equities Higher
پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX) کے لیے یہ ہفتہ اتار چڑھاؤ (Volatility) سے بھرپور رہا۔ گزشتہ سیشن میں 6,000 سے زائد پوائنٹس کی تاریخی گراوٹ کے بعد، جمعہ کے روز مارکیٹ نے ایک بار پھر اپنی سمت درست کی. اور بینچ مارک KSE100 انڈیکس تقریباً 1,000 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
سرمایہ کاروں نے گرتی ہوئی قیمتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرکشش ویلیو ایشنز (Attractive Valuations) پر خریداری کی. جس سے مارکیٹ میں مثبت رحجان (Positive Sentiment) واپس آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بیرونی مالیاتی اعتماد برقرار رہا اور IMF پروگرام کی پیش رفت جاری رہی تو KSE100 نئی بلند سطحوں کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ تاہم عالمی مارکیٹ دباؤ، Oil Prices اور مقامی سیاسی عوامل اب بھی رسک فیکٹر بنے ہوئے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے موجودہ صورتحال ایک واضح پیغام رکھتی ہے. مارکیٹ میں خوف کے بعد اکثر مواقع پیدا ہوتے ہیں، اور اس ہفتے PSX نے اسی اصول کو ایک بار پھر ثابت کر دیا۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
مارکیٹ ریکوری: KSE100 انڈیکس 999.42 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 173,169.71 کی سطح پر بند ہوا۔
-
آئی ایم ایف (IMF) کی تعریف: عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا. جس سے اعتماد بحال ہوا۔
-
سرمایہ کاروں کی حکمت عملی: بڑے بروکرج ہاؤسز کے مطابق، حالیہ کریش کے بعد حصص (Shares) سستے ہونے پر ‘بائے آن ڈپ’ (Buy on dip) کی حکمت عملی اپنائی گئی۔
-
عالمی تناظر: جہاں پاکستانی مارکیٹ میں تیزی رہی، وہیں ایشیائی مارکیٹس اور امریکی نجی ایکویٹی سیکٹر میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔
PSX میں تیزی کی اصل وجہ کیا ہے؟
جمعہ کے روز PSX میں تیزی کی بنیادی وجہ "ویلیو بائنگ” (Value Buying) تھی۔ جب جمعرات کو مارکیٹ 3.74% گری، تو بہترین کمپنیوں کے شیئرز اپنی اصل قیمت سے کم پر دستیاب تھے۔ سرمایہ کاروں، خاص طور پر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (Institutional Investors) نے اسے خریداری کا بہترین موقع سمجھا۔
آئی ایم ایف (IMF) کی جانب سے پاکستان کی معاشی اصلاحات کی تعریف نے جلتی پر تیل کا کام کیا (مثبت معنوں میں)۔ جب عالمی ادارے معاشی سمت کی توثیق کرتے ہیں. تو غیر ملکی اور مقامی بڑے سرمایہ کاروں کا خطرے کا احساس (Risk Perception) کم ہو جاتا ہے۔
میں نے اپنے 10 سالہ تجربے میں دیکھا ہے کہ جب بھی مارکیٹ کسی بڑے ‘پینک سیلنگ’ (Panic Selling) کے بعد 3% سے زیادہ گرتی ہے. تو اگلے دن ‘سمارٹ منی’ (Smart Money) یعنی تجربہ کار سرمایہ کار ہمیشہ انٹری لیتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے. جب خوف عروج پر ہوتا ہے. لیکن بنیادی طور پر مضبوط کمپنیاں کوڑیوں کے دام مل رہی ہوتی ہیں۔
KSE100 کی کارکردگی اور اتار چڑھاؤ کا تجزیہ
جمعہ کا سیشن ایک رولر کوسٹر سواری کی طرح رہا۔ انڈیکس نے دن کا آغاز مثبت کیا اور 174,148 کی بلند ترین سطح (Intraday High) کو چھوا. لیکن پھر منافع خوری (Profit Taking) کی وجہ سے اچانک 169,592 تک گر گیا۔
انڈیکس کو سہارا دینے والے بڑے ناموں میں OGDC، PPL، MLCF، SYS اور FFC شامل تھے. جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 654 پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ توانائی (Energy) اور ٹیکنالوجی (Technology) کے شعبوں میں اب بھی جان باقی ہے۔

KSE30 Index کی صورتحال
دوسری طرف بینچ مارک انڈیکس KSE30 میں کاروباری دن اور ہفتے کا اختتام اتار چڑھاؤ کے بعد مثبت انداز میں 384 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ ہوا. انڈیکس کی بلند ترین سطح 53312 جبکہ کم ترین لیول 51915 رہا.

آئی ایم ایف (IMF) کے مثبت ریمارکس اور ان کے اثرات
آئی ایم ایف نے پاکستان کے ریفارم پروگرام کی کامیابی کو تسلیم کیا ہے۔ ان کے مطابق:
-
مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline): حکومت کے اخراجات اور آمدنی میں توازن بہتر ہوا ہے۔
-
بیرونی کھاتوں کا استحکام (External Accounts): زرمبادلہ کے ذخائر اور کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری آئی ہے۔
-
اعتماد کی بحالی: ان اصلاحات سے بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کا امیج بہتر ہوا ہے۔
ایک ماہرِ معاشیات کے طور پر، میں سمجھتا ہوں. کہ آئی ایم ایف کا یہ بیان صرف ایک رپورٹ نہیں. بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک "گرین سگنل” ہے. کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل کر استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ کے حالات اور PSX پر اثرات (Global Market Context)
جب ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں عالمی صورتحال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ جمعہ کو عالمی سطح پر کچھ منفی اشارے ملے:
-
ایشیائی مارکیٹس: جاپان کا نکئی (Nikkei) 1% گر گیا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ بھی مندی کا شکار رہا۔
-
وال سٹریٹ (Wall Street): امریکہ میں نجی ایکویٹی (Private Equity) کے حصص میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی، خاص طور پر Blue Owl اور Blackstone کے شیئرز گر گئے۔
-
خام تیل (Crude Oil): مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا. جو کہ پاکستان جیسے درآمدی ملک کے لیے ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔
عالمی مندی کے باوجود PSX کیوں اوپر گئی؟
پاکستان کی مارکیٹ اکثر عالمی رجحانات سے ہٹ کر کام کرتی ہے. کیونکہ یہاں مقامی عوامل (Local Factors) جیسے کہ آئی ایم ایف ڈیل اور شرح سود (Interest Rates) زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
اکثر نوآموز ٹریڈرز یہ غلطی کرتے ہیں. کہ وہ عالمی مارکیٹ کو دیکھ کر Pakistan Stock Exchange میں پوزیشن لیتے ہیں۔ یاد رکھیں، پاکستان ایک ‘فرنٹیئر مارکیٹ’ (Frontier Market) ہے. یہاں کی چال اپنی ہوتی ہے. خاص کر جب لوکل انسٹی ٹیوشنز ایکٹیو ہوں.
روپے کی قدر اور تجارتی حجم (Trading Volume)
پاکستانی روپے نے ڈالر کے مقابلے میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی اور معمولی بہتری کے ساتھ 279.56 پر بند ہوا۔ تجارتی حجم (Volume) میں تھوڑی کمی دیکھی گئی، جو 537 ملین شیئرز رہا۔ کے الیکٹرک (K-Electric) 73 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا۔
شیئرز کی کل قدر (Value) 27.36 ارب روپے سے کم ہو کر 23.79 ارب روپے رہ گئی، جو اس بات کی علامت ہے کہ بڑے سرمایہ کار ابھی بھی مکمل طور پر مارکیٹ میں واپس نہیں آئے اور محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
آگے کی حکمت عملی: سرمایہ کاروں کو کیا کرنا چاہیے؟
موجودہ صورتحال میں، مارکیٹ "انتظار کرو اور دیکھو” (Wait and Watch) کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اگرچہ 1,000 پوائنٹس کی ریکوری خوش آئند ہے. لیکن 175,000 کی سطح ایک بڑی مزاحمت (Resistance) ثابت ہو سکتی ہے۔
عملی تجاویز (Actionable Insights):
-
بلیو چپ کمپنیز (Blue Chip Companies): صرف ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں. جن کے بنیادی ڈھانچے (Fundamentals) مضبوط ہوں، جیسے بینکنگ اور فرٹیلائزر سیکٹر۔
-
سٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال: مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہمیشہ اپنے نقصان کو محدود رکھنے کے لیے Stop Loss کا استعمال کریں۔
-
طویل مدتی سوچ: قلیل مدتی سٹہ بازی (Speculation) کے بجائے 6 سے 12 ماہ کا ہدف رکھیں۔
حرف آخر.
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعہ کی تیزی ایک مثبت اشارہ ہے. لیکن یہ حتمی نہیں ہے۔ آئی ایم ایف کی تعریف اور پرکشش قیمتوں نے مارکیٹ کو سہارا تو دیا ہے، لیکن عالمی سیاسی حالات اور مقامی افراط زر کے اعداد و شمار اگلے ہفتے کی سمت کا تعین کریں گے۔ ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میری رائے میں مارکیٹ اب بھی "کنسولیڈیشن” (Consolidation) کے فیز میں ہے، جہاں ہر بڑی گراوٹ خریداری کا موقع پیش کرتی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ KSE100 اگلے ہفتے 180,000 کی نفسیاتی حد عبور کر پائے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



