امریکی ڈالر دباؤ میں، جاپانی ین کے مقابلے کمزور

US Dollar امریکی ڈالر (USD) نے پیر کے یورپی سیشن کے دوران ابتدائی نقصانات کا کچھ حصہ واپس حاصل کیا۔ تاہم مجموعی طور پر گرین بیک دباؤ میں رہا۔ پریس ٹائم پر US Dollar Index (DXY) تقریباً 0.2% کمی کے ساتھ 97.60 کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا۔ جبکہ اس سے قبل یہ 97.40 کی سطح کے قریب عارضی سہارا حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔

ہیٹ میپ کے مطابق آج امریکی ڈالر سب سے زیادہ کمزور جاپانی ین (JPY) کے مقابلے رہا۔ جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے۔ کہ مارکیٹ میں رسک سے گریز (Risk-Off) رجحان غالب ہے۔

تجارتی پالیسی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، ڈالر پر دباؤ

ڈالر کو ابتدائی سیشن میں اس وقت شدید فروخت کا سامنا کرنا پڑا۔ جب سرمایہ کاروں نے امریکی تجارتی پالیسی کے مستقبل پر خدشات ظاہر کیے۔

Supreme Court of the United States نے سابق صدر Donald Trump کی ٹیرف پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ International Emergency Economic Powers Act (IEEPA) کے تحت عائد کردہ محصولات قانونی جواز نہیں رکھتے۔

اس فیصلے نے امریکی پالیسی کی ساکھ پر سوالات کھڑے کر دیے۔ جس کے نتیجے میں ڈالر کی کشش میں نمایاں کمی آئی۔

جواباً، صدر ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے عالمی سطح پر درآمدی ڈیوٹی میں 15% اضافے کا اعلان کیا۔ جس نے تجارتی کشیدگی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔

کمزور معاشی اعداد و شمار نے دباؤ بڑھایا

ڈالر پر دباؤ کی ایک بڑی وجہ حالیہ معاشی ڈیٹا بھی رہا۔

جی ڈی پی کی سست رفتار نمو

Bureau of Economic Analysis کے مطابق امریکی معیشت کی چوتھی سہ ماہی کی سالانہ نمو 1.4% رہی۔ جو 3% کے تخمینے اور سابقہ 4.4% ریڈنگ سے خاصی کم ہے۔

یہ سست روی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ بلند شرح سود اور عالمی غیر یقینی صورتحال معاشی سرگرمی کو متاثر کر رہی ہے۔

 PMI میں غیر متوقع کمی

S&P Global کے مطابق فروری کا کمپوزٹ PMI 52.3 رہا، جو جنوری کے 53.0 سے کم ہے۔ اگرچہ یہ 50 سے اوپر رہ کر توسیع کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم رفتار میں کمی تشویش کا باعث ہے۔

جاپانی ین کی مضبوطی کیوں؟

ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین کی مضبوطی کی بنیادی وجوہات:

عالمی تجارتی کشیدگی کے خدشات

امریکی پالیسی غیر یقینی صورتحال

کمزور معاشی ڈیٹا

محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) کی طلب میں اضافہ

جب مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے تو سرمایہ کار عموماً ین جیسے محفوظ اثاثوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔

فیڈ حکام کی تقاریر پر نظریں

آگے چل کر سرمایہ کاروں کی توجہ Federal Reserve کے حکام کی تقاریر پر مرکوز رہے گی۔

اگر فیڈ حکام سست معاشی نمو کے تناظر میں نرم مؤقف (Dovish Tone) اپناتے ہیں تو ڈالر مزید دباؤ میں آ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ افراط زر کے خطرات پر زور دیتے ہیں تو ڈالر کو سہارا مل سکتا ہے۔

تکنیکی منظرنامہ

مزاحمت (Resistance): 98.00 (نفسیاتی سطح)

سپورٹ (Support): 97.30 اور 96.80

اگر DXY 97.30 سے نیچے بند ہوتا ہے تو مزید کمی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

نتیجہ

امریکی ڈالر اس وقت دوہری دباؤ کا شکار ہے:

تجارتی پالیسی پر قانونی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال

کمزور معاشی اعداد و شمار

جب تک واضح پالیسی سمت یا مضبوط معاشی ڈیٹا سامنے نہیں آتا، ڈالر میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ جاپانی ین جیسے محفوظ اثاثے مضبوط رہ سکتے ہیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button