صدر ٹرمپ کا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب 2026: کیا ٹیرفس واقعی امریکی معیشت کی ترقی کا راز ہیں؟
State Of The Union Speech Signals Protectionism as Engine Of Growth
امریکی صدر Donald Trump نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے پہلے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ (SOTU) خطاب میں ملکی معیشت کی بحالی کا سہرا اپنی سخت تجارتی پالیسیوں اور خصوصاً ٹیرفس (Tariffs) کے سر باندھا ہے۔ بدھ کی رات کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے دعویٰ کیا. کہ امریکہ ایک ایسی معاشی واپسی (Turnaround) کا مشاہدہ کر رہا ہے. جو تاریخ میں مثال نہیں رکھتی۔
ایک ماہرِ مالیاتی مارکیٹ (Financial Market Strategist) کے طور پر، جب ہم ان بیانات کا جائزہ لیتے ہیں. تو ہمیں صرف سیاسی نعروں کو نہیں بلکہ ان کے پیچھے چھپے معاشی اعداد و شمار اور سپلائی چین (Supply Chain) کے اثرات کو دیکھنا ہوتا ہے۔ صدر کا یہ ماننا ہے کہ US Economic Turnaround and Tariffs Impact براہِ راست ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں. کیونکہ ان کے بقول ٹیرفس نے نہ صرف اربوں ڈالر کا ریونیو (Revenue) پیدا کیا. بلکہ غیر ملکی کمپنیوں کو امریکہ میں سرمایہ کاری پر بھی مجبور کیا۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
معاشی ترقی: صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا کہ ایک سال کے اندر امریکی معیشت دوبارہ "دہاڑ” رہی ہے اور نجی شعبے (Private Sector) میں ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوئی ہیں۔
-
ٹیرفس کا کردار: وفاقی آمدنی بڑھانے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے ٹیرفس کو بنیادی ہتھیار قرار دیا گیا ہے۔
-
افراط زر میں کمی: کور انفلیشن (Core Inflation) کے 1.7% تک گرنے اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کو انتظامیہ کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔
-
انرجی سیکٹر: "ڈرل بیبی ڈرل” (Drill Baby Drill) کی پالیسی کے تحت تیل اور گیس کی پیداوار ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔
-
ٹیکس اصلاحات: "نو ٹیکس آن ٹپس” (No Tax on Tips) اور اوور ٹائم پر ٹیکس کے خاتمے جیسے اقدامات سے عوامی سطح پر ریلیف کا دعویٰ۔
ٹیرفس اور امریکی معاشی واپسی: ایک گہرا تجزیہ.
صدر Donald Trump کے مطابق، ٹیرفس صرف ایک ٹیکس نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ٹول (Strategic Tool) ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ممالک جو پہلے امریکہ کا "فائدہ اٹھاتے” تھے. اب اربوں ڈالر ادا کر رہے ہیں۔
معاشی نقطہ نظر سے، ٹیرفس درآمدی اشیاء (Imported Goods) کو مہنگا کر دیتے ہیں. جس سے مقامی مینوفیکچررز (Local Manufacturers) کو فائدہ پہنچتا ہے۔ صدر نے واضح کیا کہ اگرچہ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ "بدقسمت” (Unfortunate) تھا، لیکن زیادہ تر ممالک اور کارپوریشنز پرانے معاہدوں پر قائم رہنا چاہتی ہیں. کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ نئے معاہدے ان کے لیے مزید سخت ہو سکتے ہیں۔
اپنی 10 سالہ ٹریڈنگ کے سفر کے دوران میں نے دیکھا ہے. کہ جب بھی ٹیرفس کی خبر آتی ہے، مارکیٹ میں فوری طور پر ‘وولیٹائلٹی’ (volatility) بڑھ جاتی ہے۔ 2018-19 کے ٹریڈ وار کے دوران، ہم نے دیکھا کہ کس طرح مینوفیکچرنگ اسٹاکس نے ٹیرفس کے اعلان پر مثبت ردعمل دیا. جبکہ ریٹیل سیکٹر پر دباؤ آیا۔ موجودہ صورتحال میں بھی، سمارٹ انویسٹرز ان سیکٹرز پر نظر رکھے ہوئے ہیں. جو مقامی پیداوار پر انحصار کرتے ہیں۔
افراط زر اور قیمتوں کا رجحان: کیا واقعی افراطِ زر ختم ہو چکا ہے؟
Donald Trump نے اپنے خطاب میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا. کہ ان کی انتظامیہ نے کور انفلیشن (Core Inflation) کو پچھلے پانچ سالوں کی کم ترین سطح 1.7% پر پہنچا دیا ہے۔ مالیاتی مارکیٹ کے لیے یہ ایک انتہائی اہم اشارہ (Signal) ہے۔
جب کور انفلیشن کم ہوتی ہے، تو فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) پر شرحِ سود (interest rates) کو کم کرنے یا برقرار رکھنے کا دباؤ کم ہو جاتا ہے، جو اسٹاک مارکیٹ (stock market) کے لیے عام طور پر خوش آئند ہوتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، جو کہ زیادہ تر ریاستوں میں $2.30 فی گیلن سے نیچے آ چکی ہیں، براہِ راست صارفین کی قوتِ خرید (purchasing power) میں اضافہ کرتی ہے۔
| معاشی اشاریہ (Economic Indicator) | موجودہ شرح / مقدار | اہمیت |
| کور انفلیشن (Core Inflation) | 1.7% | 5 سال کی کم ترین سطح |
| پیٹرول کی قیمت (Gasoline Price) | < $2.30/gallon | صارفین کے اخراجات میں کمی |
| تیل کی پیداوار (Oil Production) | +600,000 barrels/day | توانائی میں خود کفالت |
| تعمیراتی ملازمتیں (Construction Jobs) | 70,000 نئی آسامیاں | رئیل اسٹیٹ کی مضبوطی |
توانائی کی پالیسی: "ڈرل بیبی ڈرل” کے اثرات
امریکہ میں تیل اور قدرتی گیس (Natural Gas) کی ریکارڈ پیداوار نے نہ صرف مقامی قیمتوں کو مستحکم کیا ہے بلکہ عالمی منڈی میں ڈالر کی پوزیشن کو بھی متاثر کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسی نے امریکہ کو توانائی کا خالص برآمد کنندہ (Net Exporter) بنانے کی طرف تیز رفتاری سے گامزن کیا ہے۔ وینزویلا سے 80 ملین بیرل تیل کا حصول بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے. تاکہ سپلائی چین میں کسی بھی رکاوٹ کو دور کیا جا سکے۔
ٹریڈرز کے لیے، توانائی کی قیمتوں میں استحکام کا مطلب ہے کہ ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کے اخراجات کم ہوں گے. جس سے کمپنیوں کے ‘پرافٹ مارجن’ (Profit Margins) میں بہتری آئے گی۔
ٹیکس میں رعایت اور عام آدمی پر اس کے اثرات
Donald Trump نے اپنے خطاب میں "تاریخ کے سب سے بڑے ٹیکس کٹس” (Largest Tax Cuts) کا ذکر کیا۔ اس میں سب سے نمایاں "نو ٹیکس آن ٹپس، اوور ٹائم، اور سوشل سیکیورٹی” (No Tax on Tips, Overtime, Social Security) ہے۔
یہ پالیسی خاص طور پر سروس سیکٹر (service sector) کے کارکنوں کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔ جب کارکنوں کے پاس زیادہ ڈسپوزایبل انکم (Disposable income) ہوتی ہے، تو وہ معیشت میں زیادہ خرچ کرتے ہیں، جس سے معاشی پہیہ تیزی سے گھومتا ہے۔ تاہم، معیشت دان اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ ان ٹیکس چھوٹ سے وفاقی خسارے (Federal Deficit) پر کیا اثر پڑے گا۔ ٹرمپ کا جواب سادہ ہے. ٹیرفس سے حاصل ہونے والی آمدنی اس خسارے کو پورا کرے گی۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ٹیرفس کا مستقبل
امریکی سپریم کورٹ نے ٹیرفس کے حوالے سے جو فیصلہ دیا، صدر نے اسے "بدقسمت” قرار دیا۔ لیکن مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر کے پاس اب بھی دیگر قانونی راستے موجود ہیں۔ صدر نے واضح کیا کہ غیر ملکی ممالک اب بھی معاہدوں پر عمل کر رہے ہیں. کیونکہ وہ امریکی مارکیٹ تک رسائی کھونا نہیں چاہتے۔
لانگ ٹرم (Long Term) میں، صدر Donald Trump کا منصوبہ ہے کہ انکم ٹیکس (Income Tax) کے موجودہ نظام کو آہستہ آہستہ ٹیرفس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بدل دیا جائے۔ یہ ایک انقلابی تبدیلی ہوگی. جو امریکی ٹیکس ڈھانچے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گی۔
مارکیٹ کا ردعمل اور ڈالر کی صورتحال
صدر کے خطاب کے بعد، یو ایس ڈالر انڈیکس (US Dollar Index) میں معمولی کمی دیکھی گئی. اور یہ 97.75 پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ نے صدر کے بیانات کو پہلے ہی ‘پرائس ان’ (Price In) کر لیا تھا۔ عام طور پر، ایسی تقاریر کے دوران ‘وولٹیلیٹی’ تو ہوتی ہے. لیکن اصل رجحان آنے والے دنوں کے معاشی ڈیٹا سے طے ہوتا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
Donald Trump کا 2026 کا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ایک "پرو گروتھ” (Pro-Growth) اور "امریکہ فرسٹ” (America First) ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹیرفس کا معاشی واپسی میں کردار اب محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی تجربہ بن چکا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے پیغام واضح ہے. توانائی، مینوفیکچرنگ اور مقامی پیداوار سے جڑے شعبے آنے والے وقت میں توجہ کا مرکز رہیں گے۔
امریکی معیشت کا یہ "ٹرن اراؤنڈ” (turnaround) عالمی تجارتی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لا رہا ہے۔ اگر آپ ایک ٹریڈر یا انویسٹر ہیں. تو آپ کو صرف ہیڈ لائنز پر نہیں بلکہ ان پالیسیوں کے زمینی اثرات پر نظر رکھنی چاہیے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ٹیرفس واقعی انکم ٹیکس کا متبادل بن سکتے ہیں؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



