شدید مندی کے بعد زبردست واپسی، PSX میں KSE100 Index کی تاریخی چھلانگ نے سرمایہ کاروں کو چونکا دیا
KSE100 Index Surges Nearly 2.6% Amid IMF Confidence, Global AI Optimism and Easing Rollover Pressure
پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں گزشتہ چند روز سے جاری مندی کے بادل چھٹ گئے ہیں. اور "بُلز” (Bulls) نے مارکیٹ پر اپنا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ جمعرات کے روز KSE100 Index میں تقریباً 4,266 پوائنٹس کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس نے سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند کر دیے ہیں۔
بدھ کے روز شدید Selling Pressure اور Futures Activity نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا تھا، مگر جمعرات کا سیشن ایک واضح Psychological Breakthrough ثابت ہوا۔ 488 کمپنیوں میں سے 291 کے Shares میں اضافہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار دوبارہ Risk لینے کیلئے تیار ہیں۔
اگر Global Environment سازگار رہا اور IMF Review مثبت رہا تو تجزیہ کاروں کے مطابق KSE100 Index کیلئے مزید Upside Momentum پیدا ہوسکتا ہے۔ اس تحریر میں ہم تفصیلی جائزہ لیں گے. کہ اس اچانک تیزی کی وجوہات کیا ہیں. اور مستقبل میں مارکیٹ کی سمت کیا ہو سکتی ہے۔
اہم نکات
-
مارکیٹ کی بحالی: KSE100 انڈیکس 2.59% اضافے کے ساتھ 168,893 کی سطح پر بند ہوا۔
-
کشش والی قیمتیں: 25 ہزار پوائنٹس کی حالیہ کریکشن (Correction) کے بعد حصص کی قیمتیں پرکشش (Attractive Valuations) ہو چکی ہیں۔
-
رول اوور پریشر کا خاتمہ: فیوچر کنٹریکٹس کی میعاد ختم ہونے کے قریب ہونے سے فروخت کا دباؤ کم ہوا۔
-
مثبت معاشی اشارے: آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ مذاکرات اور بہتر ٹیکس وصولی نے اعتماد میں اضافہ کیا۔
PSX میں حالیہ تیزی کی اصل وجہ کیا ہے؟
مارکیٹ میں حالیہ تیزی کی بنیادی وجہ حصص کی قیمتوں کا اپنی اصل قدر سے نیچے گرنا (Attractive Valuations) اور فیوچر مارکیٹ میں رول اوور ہفتے (Rollover Week) کے اختتام پر فروخت کے دباؤ میں کمی ہے۔ جب بڑے شیئرز سستے داموں دستیاب ہوئے. تو سرمایہ کاروں نے دوبارہ خریداری شروع کر دی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں Pakistan Stock Exchange KSE100 Bullish Recovery کا عمل اس وقت شروع ہوا جب انڈیکس اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے تقریباً 25,000 پوائنٹس نیچے گر چکا تھا۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، جب مارکیٹ اتنی بڑی کریکشن (Correction) لیتی ہے. تو تکنیکی بنیادوں پر ایک "باؤنس بیک” (Bounce Back) ناگزیر ہو جاتا ہے۔
ایک طویل تجربے کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ جب ریٹیل سرمایہ کار خوف زدہ ہو کر مال بیچ رہے ہوتے ہیں. تو بڑے ادارے ‘سمارٹ منی’ خاموشی سے انٹری لیتی ہے۔ یہ 25 ہزار پوائنٹس کی کمی دراصل ایک ‘ہیلتھ کریکشن’ تھی جس نے نئے خریداروں کے لیے جگہ بنائی۔
دوسری جانب پاکستانی روپیہ بھی Interbank مارکیٹ میں معمولی مضبوط ہوا اور 279.50 پر بند ہوا، جس نے Macro Stability Narrative کو مزید تقویت دی۔
مارکیٹ کے اہم محرکات (Market Drivers) کا تجزیہ
1. پرکشش ویلیوشنز (Attractive Valuations)
اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا سنہری اصول "سستا خریدیں اور مہنگا بیچیں” ہے۔ حالیہ مندی کے بعد، انڈیکس کے بڑے اسٹاکس جیسے FFC، ENGRO، اور PPL اپنی تاریخی کم ترین قیمتوں (P/E Ratios) کے قریب آ گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قیمتیں طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے بہت پرکشش تھیں۔
2. فیوچر رول اوور کا خاتمہ (Easing Rollover Pressure)
فروری کے فیوچر کنٹریکٹس (Future Contracts) کی میعاد ختم ہونے والی تھی۔ عام طور پر رول اوور ہفتے میں مارکیٹ دباؤ کا شکار رہتی ہے کیونکہ سرمایہ کار اپنی پوزیشنز کو اسکوائر (Square off) کرتے ہیں یا اگلے مہینے پر منتقل کرتے ہیں۔ جمعرات کو یہ دباؤ کم ہوتے ہی مارکیٹ نے سانس لیا۔
3. آئی ایم ایف اور حکومتی اعتماد
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ بیانات نے مارکیٹ کو سہارا دیا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ تیسرے معاشی جائزے (3rd Economic Review) کے لیے آمادگی اور ٹیکس وصولی کے اہداف میں بہتری نے یہ پیغام دیا. کہ ملک کا مالیاتی انتظام درست سمت میں ہے۔
انڈیکس کے بڑے کھلاڑی: کن حصص نے تیزی میں حصہ ڈالا؟
مارکیٹ کی اس بحالی میں چند بڑے سیکٹرز اور کمپنیوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ ذیل میں ان کمپنیوں کی فہرست ہے جنہوں نے انڈیکس میں سب سے زیادہ پوائنٹس کا اضافہ کیا:
| کمپنی کا نام | انڈیکس میں حصہ (تقریباً پوائنٹس) |
| FFC (Fauji Fertilizer) | 400+ |
| ENGRO (Engro Corp) | 350+ |
| HUBC (Hub Power) | 300+ |
| PPL (Pakistan Petroleum) | 300+ |
| HBL (Habit Bank) | 250+ |
ان کمپنیوں میں خریداری ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد اب صرف سٹہ بازی تک محدود نہیں. بلکہ وہ بنیادی طور پر مضبوط کمپنیوں (Blue Chip Stocks) میں پیسہ لگا رہے ہیں۔

عالمی مارکیٹ کے اثرات اور پاکستان
پاکستان کی مارکیٹ تنہا کام نہیں کرتی۔ جمعرات کو عالمی سطح پر، خاص طور پر ایشیائی مارکیٹوں میں مثبت رجحان رہا۔ این ویڈیا (Nvidia) کے شاندار مالیاتی نتائج نے ٹیکنالوجی سیکٹر میں نئی جان پھونک دی، جس کا اثر جاپان کے نکی (Nikkei) اور جنوبی کوریا کے کوسپی (KOSPI) پر بھی پڑا۔ پاکستان میں ٹیکنالوجی اور ریفائنری سیکٹرز نے اس عالمی لہر سے فائدہ اٹھایا۔
مزید برآں، روپے کی قدر میں استحکام (settle at 279.50) نے غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی کرائی. کہ کرنسی کے اتار چڑھاؤ کا خطرہ فی الحال کم ہے۔
کیا یہ تیزی برقرار رہے گی؟ (Future Outlook)
Pakistan Stock Exchange KSE100 Bullish Recovery کے بعد اب سوال یہ ہے کہ کیا انڈیکس 170,000 کی نفسیاتی حد عبور کر پائے گا؟
ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میرا ماننا ہے. کہ مارکیٹ کی اگلی سمت کا تعین درج ذیل عوامل کریں گے:
-
آئی ایم ایف ریویو کے نتائج: اگر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہوتے ہیں، تو انڈیکس نئی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔
-
سیاسی استحکام: معاشی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔
-
شرح سود (Interest Rates): اگر افراط زر میں کمی آتی ہے اور اسٹیٹ بینک شرح سود کم کرنے کا اشارہ دیتا ہے، تو رقم بینکوں سے نکل کر اسٹاک مارکیٹ میں آئے گی۔
مارکیٹ میں والیم (Volume) کا 619 ملین سے بڑھ کر 692 ملین ہونا اس بات کی علامت ہے کہ سائیڈ لائن پر بیٹھے سرمایہ کار اب ایکشن میں آ رہے ہیں۔ تاہم، ایک پیشہ ور ٹریڈر ہمیشہ ‘اسٹاپ لاس’ (Stop Loss) کے ساتھ کام کرتا ہے. کیونکہ مارکیٹ میں ہمیشہ غیر متوقع موڑ آ سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ (Actionable Insights)
اگر آپ ایک ریٹیل انویسٹر ہیں. تو اس وقت جذباتی ہو کر خریداری کرنے کے بجائے "ویلیو انویسٹنگ” (Value Investing) پر توجہ دیں۔
-
پورٹ فولیو ڈائیورسیفیکیشن: تمام پیسہ ایک ہی سیکٹر میں نہ لگائیں۔ فرٹیلائزر، انرجی اور بینکنگ کے درمیان توازن رکھیں۔
-
ڈیویڈنڈ دینے والے شیئرز: ایسی کمپنیوں کا انتخاب کریں. جن کا ٹریک ریکارڈ منافع دینے (Dividend Yield) میں اچھا ہو۔
-
تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis): خریداری سے پہلے سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز کا جائزہ ضرور لیں۔
حرف آخر.
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کی تیزی ایک خوش آئند پیش رفت ہے. جس نے ثابت کیا کہ مارکیٹ کے بنیادی عوامل (Fundamentals) ابھی بھی مضبوط ہیں۔ Pakistan Stock Exchange KSE100 Bullish Recovery نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب بھی قیمتیں حد سے زیادہ گرتی ہیں. سمارٹ سرمایہ کار اسے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم، سرمایہ کاروں کو عالمی جیو پولیٹیکل حالات اور آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ KSE100 انڈیکس اس سال 180,000 کی سطح عبور کر لے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں یا اپنی ٹریڈنگ حکمت عملی ہمارے ساتھ شیئر کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



