Operation Ghazab lil-Haq اور پاکستان کی Defence Economy کا نیا باب
Cross-Border Escalation Drives Strategic Defence Calculations, Budget Priorities and Regional Financial Risk Dynamics
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی نے ایک نئی اور سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ تفصیلات کے مطابق، "آپریشن غضب الحق” Operation Ghazab Lil-Haq کے دوران سیکورٹی فورسز نے افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ کا بھرپور جواب دیتے ہوئے دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس آپریشن میں 133 افغان طالبان ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
ایک ماہر مالیاتی اسٹریٹجسٹ (Financial Market Content Strategist) کے طور پر، ہمیں صرف ان خبروں کو دفاعی نقطہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے. بلکہ ان کے ملکی معیشت (Economy) اور سرمایہ کاری کے ماحول (Investment Climate) پر پڑنے والے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔
جیو پولیٹیکل رسک (Geopolitical Risk) ہمیشہ سے فنانشل مارکیٹس کے لیے ایک اہم عنصر رہا ہے. اور پاک افغان سرحد پر ابھرتی ہوئی یہ صورتحال طویل مدتی اقتصادی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
Operation Ghazab lil-Haq نے واضح کردیا ہے کہ جدید ریاستوں میں دفاع اور معیشت ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ جہاں ایک طرف سرحدی تحفظ ریاستی خودمختاری کی ضمانت بنتا ہے. وہیں دوسری جانب مالی وسائل کی درست منصوبہ بندی ہی طویل المدتی استحکام فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب یہ ہے کہ وہ سلامتی کی ضروریات اور معاشی ترقی کے درمیان متوازن Financial Strategy کو کیسے برقرار رکھتا ہے۔
اہم نکات (Key Points)
-
Operation Ghazab Lil-Haq کی تفصیلات: پاکستان نے چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں موثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کے متعدد ٹھکانے، ٹینک اور اسلحہ ڈپو تباہ کر دیے۔
-
دفاعی ردعمل: صدر، وزیراعظم اور وزراء نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت (Territorial Integrity) پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
-
اقتصادی اثرات: سرحدی تنازعات کی وجہ سے ٹرانزٹ ٹریڈ (Transit Trade) اور مقامی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے. جو مارکیٹ میں غیریقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
-
سرمایہ کاروں کے لیے پیغام: ایسے حالات میں مارکیٹ عارضی طور پر اتار چڑھاؤ (Volatility) کا شکار ہو سکتی ہے. لہذا دفاعی اور لاجسٹک سیکٹرز پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
Operation Ghazab Lil-Haq کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
پاک افغان سرحدی تنازعہ ڈیورنڈ لائن پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور دراندازی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ یہ پاکستان کی قومی سلامتی اور علاقائی تجارت (Regional Trade) کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سرحد سے اربوں ڈالر کی تجارت اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی وابستہ ہے۔
حالیہ واقعات کے مطابق، افغان طالبان نے خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں پاکستانی افواج نے کابل، پکتیا اور قندھار میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق، اس کارروائی میں 80 سے زائد ٹینک، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں (APCs) تباہ کی گئیں۔ جبکہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ کھلی جنگ ہے.

یہاں میرا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جب بھی سرحدوں پر اس سطح کی فوجی کارروائی ہوتی ہے، تو بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں ملک کے "سیاسی خطرے” (Political Risk) کے اسکور کا دوبارہ جائزہ لیتی ہیں۔ 10 سالہ مارکیٹ تجزیہ کاری کے دوران میں نے دیکھا ہے. کہ ایسی خبروں کے فوری بعد اسٹاک مارکیٹ میں ‘فرنٹ لائن اسٹیٹس’ رکھنے والے سیکٹرز میں دفاعی خریداری بڑھ جاتی ہے۔
Operation Ghazab Lil-Haq کے معاشی اور مارکیٹ پر اثرات
پاکستان کی معیشت پہلے ہی اصلاحاتی عمل سے گزر رہی ہے. ایسے میں پڑوسی ملک کے ساتھ "کھلی جنگ” (Open War) کی کیفیت مارکیٹ کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
1. سپلائی چین اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (Supply Chain & Transit Trade)
سرحدوں کی بندش یا جھڑپوں کی وجہ سے تجارتی راستے متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا حجم براہ راست مقامی سیمنٹ، ٹیکسٹائل اور اشیائے خوردونوش (Consumer Goods) کی صنعتوں سے جڑا ہوا ہے۔
-
اثر: اگر کشیدگی طویل ہوتی ہے تو ان سیکٹرز کی برآمدات (Exports) میں کمی آ سکتی ہے۔
2. کرنسی مارکیٹ اور ڈالر کی قدر (Currency Market & PKR)
جیو پولیٹیکل تنازعات اکثر مقامی کرنسی پر دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔ سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہوں (Safe Havens) کی طرف بھاگتے ہیں. جس سے روپے کی قدر (Exchange Rate) میں عارضی اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔
3. دفاعی بجٹ اور مالیاتی خسارہ (Defense Budget & Fiscal Deficit)
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا ہے کہ ملکی دفاع پہلی ترجیح ہے اور تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ مارکیٹ کے نقطہ نظر سے، دفاعی اخراجات میں اضافہ مالیاتی خسارے (Fiscal Deficit) کو متاثر کر سکتا ہے. جسے سرمایہ کار بڑی باریکی سے مانیٹر کرتے ہیں۔
کیا یہ تنازعہ اسٹاک مارکیٹ (PSX) کو متاثر کرے گا؟
اسٹاک مارکیٹ غیر یقینی صورتحال (Uncertainty) کو ناپسند کرتی ہے۔ تاہم، اگر پاکستان کی جوابی کارروائی سے سرحد پر استحکام کی امید پیدا ہوتی ہے، تو PSX اسے "فیصلہ کن قیادت” کے طور پر دیکھتی ہے. جو طویل مدت میں اعتماد کی بحالی کا باعث بنتی ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جدید دفاعی حکمت عملی (Effective Defensive Strategy) نے یہ ثابت کیا ہے. کہ ملک کسی بھی اندرونی یا بیرونی چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا بیان کہ "ہماری افواج جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتی ہیں.”، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دیتا ہے۔
تاریخی تناظر: مارکیٹ جیو پولیٹیکل جھٹکوں کو کیسے ہینڈل کرتی ہے؟
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان نے اپنی سرحدوں پر موثر دفاع کیا ہے. ابتدائی طور پر مارکیٹ میں تھوڑی فروخت (Sell-off) دیکھی جاتی ہے. لیکن جلد ہی ریکوری شروع ہو جاتی ہے۔
| اثر کا شعبہ | فوری ردعمل | طویل مدتی اثر |
| اسٹاک مارکیٹ (PSX) | معمولی گراوٹ (Dips) | استحکام اور ریکوری |
| کرنسی (PKR) | عارضی دباؤ | سینٹرل بینک کی مداخلت سے استحکام |
| غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) | انتظار کرو اور دیکھو (Wait & Watch) | سیکیورٹی صورتحال بہتر ہونے پر واپسی |
سرمایہ کاروں کے لیے حکمت عملی (Actionable Insights)
اس طرح کے ہنگامی حالات میں، ایک سمجھدار تاجر (Trader) اور سرمایہ کار (Investor) کو درج ذیل نکات پر عمل کرنا چاہیے.
-
گھبراہٹ میں فروخت سے گریز کریں (Avoid Panic Selling): فوجی جھڑپیں اکثر قلیل مدتی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ بنیاد پرست (Fundamentals) پر مبنی کمپنیاں جلد بحال ہو جاتی ہیں۔
-
لاجسٹکس اور دفاعی سیکٹرز پر نظر رکھیں: وہ کمپنیاں جو لاجسٹکس یا سرکاری سپلائی چین کا حصہ ہیں. ان کی مانگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
-
عالمی خبروں کی مانیٹرنگ: بھارتی میڈیا اور افغان پروپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات (Disinformation) سے بچیں. کیونکہ یہ مارکیٹ میں مصنوعی خوف پیدا کر سکتی ہیں۔
حرف آخر.
Operation Ghazab Lil-Haq پاکستان کے اس عزم کا عکاس ہے. کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اگرچہ جنگی صورتحال معیشت کے لیے چیلنجنگ ہوتی ہے، لیکن ایک مضبوط دفاعی ردعمل طویل مدتی امن اور معاشی استحکام کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ دفاعی وزیر خواجہ آصف کا یہ کہنا کہ "ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے”. اس بات کی علامت ہے کہ اب پاکستان سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔
سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال کو ایک عارضی رکاوٹ کے طور پر دیکھیں. اور اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کو ملکی استحکام اور افواجِ پاکستان کی کامیابیوں سے جوڑ کر رکھیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سرحد پر یہ فیصلہ کن کارروائی طویل مدتی علاقائی امن کا راستہ ہموار کرے گی؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



