برطانیہ کا سیاسی بحران اور GBPUSD پر اس کے اثرات
Weak UK Labour Data, BoE Rate Cut Bets and Fed Policy Uncertainty Drive GBPUSD Volatility
فروری 2026 کے اختتام پر برطانوی پاؤنڈ (GBP) اور امریکی ڈالر (USD) کی جوڑی ایک انتہائی دلچسپ موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف برطانیہ میں سیاسی ہلچل اور معاشی سست روی کے بادل منڈلا رہے ہیں. تو دوسری طرف امریکی فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی پالیسیوں کے حوالے سے مارکیٹ میں بے یقینی کی کیفیت ہے۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ کرنسی مارکیٹ صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اعتماد، سیاست اور توقعات سے چلتی ہے۔ ایک طرف کمزور روزگار ڈیٹا اور Boe کی نرم پالیسی کا سایہ ہے، جبکہ دوسری جانب Fed کے فیصلوں کا انتظار عالمی سرمایہ کاروں کو محتاط بنا رہا ہے۔ جب تک واضح پالیسی سمت سامنے نہیں آتی، GBPUSD ممکنہ طور پر اتار چڑھاؤ کے اسی دائرے میں رہ سکتا ہے۔
اس تفصیلی بلاگ میں ہم ان تمام عوامل کا احاطہ کریں گے. جو اس وقت GBPUSD کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
اہم نکات (Key Points)
-
برطانوی سیاست اور معیشت: گورٹن اور ڈینٹن (Gorton and Denton) کے ضمنی انتخابات اور بے روزگاری کی شرح میں 5.2% تک اضافے نے پاؤنڈ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
-
بینک آف انگلینڈ (BoE): کمزور لیبر مارکیٹ ڈیٹا کے بعد مارچ میں شرح سود میں کمی (Interest Rate Cut) کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
-
امریکی ڈالر (USD) کی صورتحال: ڈالر انڈیکس ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر ہے. لیکن فیڈرل ریزرو کی جانب سے جون میں ممکنہ نرمی ڈالر کی لمبی اڑان میں رکاوٹ ہے۔
-
ٹیکنیکل آؤٹ لک: GBPUSD کی جوڑی 1.3550 کے اہم پیوٹ پوائنٹ (Pivotal Point) اور 200-SMA کے گرد گھوم رہی ہے. جہاں سے کسی بھی طرف بڑا بریک آؤٹ متوقع ہے۔
برطانیہ کا سیاسی ڈرامہ GBPUSD کی قیمت کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟
برطانیہ میں حالیہ "گورٹن اور ڈینٹن” (Gorton and Denton) ضمنی انتخابات نے سیاسی عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ جب بھی کسی ملک میں سیاسی بے یقینی بڑھتی ہے. سرمایہ کار اس کرنسی سے اپنا پیسہ نکال کر محفوظ اثاثوں میں منتقل کرتے ہیں۔ اس سیاسی ڈرامے نے بینک آف انگلینڈ کی پالیسی سازوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں. جس کی وجہ سے پاؤنڈ 1.3500 کی سطح برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
برطانوی پاؤنڈ کے لیے موجودہ صورتحال "دو دھاری تلوار” کی مانند ہے۔ ایک طرف سیاسی محاذ پر ہلچل ہے. اور دوسری طرف اقتصادی اعداد و شمار (Economic Data) بھی GBPUSD کے حق میں نہیں جا رہے۔ ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر میں نے دیکھا ہے کہ جب سیاسی غیر یقینی معاشی کمزوری کے ساتھ ملتی ہے. تو مارکیٹ میں "پینک سیلنگ” (Panic Selling) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

برطانیہ کی لیبر مارکیٹ اور بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار.
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح (Unemployment Rate) بڑھ کر 5.2% ہو گئی ہے. جو کہ 2021 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، تنخواہوں میں اضافے کی رفتار (Wage Growth) بھی سست پڑ کر 4.2% رہ گئی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ برطانیہ کی معیشت اب بلند شرح سود کا بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتی۔
جب لیبر مارکیٹ کمزور ہوتی ہے، تو افراط زر (Inflation) کے نیچے آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ اب یہ توقع کر رہی ہے کہ بینک آف انگلینڈ (BoE) مارچ کی میٹنگ میں شرح سود میں کمی کا آغاز کر دے گا۔ فنانشل مارکیٹس
میں یہ اصول واضح ہے: "کم شرح سود = کمزور کرنسی”۔
برطانیہ کے معاشی اعداد و شمار کا موازنہ (Table)
| انڈیکیٹر (Indicator) | سابقہ (Previous) | حالیہ (Current) | اثر (Impact) |
| بے روزگاری کی شرح (Unemployment Rate) | 5.1% | 5.2% | منفی (Bearish) |
| کلیمینٹ کاؤنٹ (Claimant Count) | کم | 28.8K | منفی (Bearish) |
| اوسط آمدنی (Average Earnings) | 4.6% | 4.2% | غیر جانبدار/منفی |
امریکی ڈالر (USD) کا کردار اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی
اگرچہ امریکی ڈالر اس وقت مضبوط نظر آ رہا ہے، لیکن اس کی یہ برتری عارضی ہو سکتی ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء کو مئی یا جون میں فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقع ہے، خاص طور پر پچھلے جمعہ کو آنے والے نرم افراط زر (CPI) کے اعداد و شمار کے بعد۔
امریکی ڈالر کی قسمت کا فیصلہ اب آنے والے "FOMC منٹس” اور "PCE پرائس انڈیکس” پر ہوگا۔ اگر امریکہ میں افراط زر کے اعداد و شمار توقع سے کم آتے ہیں. تو ڈالر کی حالیہ تیزی ختم ہو سکتی ہے، جس سے GBPUSD کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع ملے گا۔ تاہم، فیڈرل ریزرو کی آزادی (Fed Independence) کے حوالے سے اٹھنے والے سیاسی سوالات بھی ڈالر کی طویل مدتی قدر پر اثر انداز ہو رہے ہیں
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ کرنسی مارکیٹ صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اعتماد، سیاست اور توقعات سے چلتی ہے۔ ایک طرف کمزور روزگار ڈیٹا اور BOE کی نرم پالیسی کا سایہ ہے، جبکہ دوسری جانب Fed کے فیصلوں کا انتظار عالمی سرمایہ کاروں کو محتاط بنا رہا ہے۔ جب تک واضح پالیسی سمت سامنے نہیں آتی، GBPUSD ممکنہ طور پر اتار چڑھاؤ کے اسی دائرے میں رہ سکتا ہے۔
تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis): اہم لیولز اور اشارے
GBPUSD کا چارٹ اس وقت ایک "میک اور بریک” (Make or Break) صورتحال کی عکاسی کر رہا ہے۔ 4 گھنٹے (4-Hour) والے چارٹ پر، قیمت 200-پیریڈ سمپل موونگ ایوریج (SMA) کے قریب ہے جو کہ 1.3550 کے لگ بھگ بنتی ہے۔
-
آر ایس آئی (RSI): اس وقت RSI 40 کے قریب ہے، جو ظاہر کرتا ہے. کہ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ (Selling Pressure) موجود ہے. لیکن یہ ابھی "اوور سولڈ” (Oversold) زون میں نہیں پہنچی۔
-
ایم اے سی ڈی (MACD): ہسٹوگرام منفی زون میں ہے. جس کا مطلب ہے کہ بئیرز (Bears) یعنی بیچنے والے ابھی بھی کنٹرول میں ہیں۔
-
سپورٹ اور ریزسٹنس: اگر قیمت 1.3550 سے نیچے بند ہوتی ہے، تو اگلا ہدف 1.3480 اور پھر 1.3400 ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، 1.3600 سے اوپر جانے کی صورت میں ہی ہم کسی بڑے اپ ٹرینڈ (Up-trend) کی توقع کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ اور حکمت عملی (Actionable Insights)
موجودہ حالات میں، ٹریڈرز کو "انتظار کرو اور دیکھو” (Wait and See) کی پالیسی اپنائی چاہیے۔ بدھ کو جاری ہونے والے یوکے سی پی آئی (UK CPI) کے اعداد و شمار پاؤنڈ کے لیے اگلے بڑے محرک (Trigger) ثابت ہوں گے۔
-
اگر CPI توقع سے زیادہ آیا: تو BoE پر شرح سود برقرار رکھنے کا دباؤ بڑھے گا. جو پاؤنڈ کو 1.3650 تک لے جا سکتا ہے۔
-
اگر CPI توقع سے کم آیا: تو مارچ میں ریٹ کٹ کے امکانات 90% تک بڑھ جائیں گے. جس کے نتیجے میں GBPUSD 1.3400 کی طرف گر سکتا ہے۔
اختتامیہ.
GBPUSD اس وقت برطانیہ کی داخلی سیاست اور عالمی معاشی تبدیلیوں کے سنگم پر کھڑا ہے۔ 1.3500 کی سطح محض ایک ہندسہ نہیں. بلکہ ایک نفسیاتی حد ہے جس کا دفاع پاؤنڈ کے خریداروں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آنے والے چند دن، خاص طور پر امریکہ کے PCE ڈیٹا اور برطانیہ کے افراط زر کے اعداد و شمار، اس کرنسی جوڑی کی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کی سمت متعین کریں گے۔
ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر میرا مشورہ ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں بڑے والیم (Lot Size) سے گریز کریں اور اپنی اسٹاپ لاس (Stop Loss) کی حکمت عملی کو مزید سخت بنائیں۔ مارکیٹ ہمیشہ موقع دیتی ہے، لیکن سرمایہ بچانا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا بینک آف انگلینڈ مارچ میں شرح سود کم کر کے پاؤنڈ کو مزید دباؤ میں ڈالے گا یا افراط زر کے اعداد و شمار پاؤنڈ کو بچا لیں گے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



