مشرق وسطیٰ کی جنگ اور SBP کا بڑا فیصلہ: شرح سود 10.50 فیصد پر برقرار کیوں رہی؟
Middle East tensions, Oil Market volatility and inflation concerns force SBP to pause monetary easing
پاکستان کی معیشت اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف افراط زر میں بتدریج کمی کا رجحان ہے. تو دوسری طرف عالمی سیاسی حالات (geopolitical tensions) نے نئے خطرات کو جنم دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) نے حالیہ اجلاس میں شرح سود (Policy Rate) کو 10.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ملکی معیشت بلکہ عام سرمایہ کار اور ٹریڈر کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اس بلاگ میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے کہ اسٹیٹ بینک نے یہ قدم کیوں اٹھایا. عالمی تیل کی قیمتوں کا اس پر کیا اثر ہوگا. اور آنے والے مہینوں میں آپ کے مالیاتی فیصلوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں Inflation کی رفتار میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جنوری 2026 میں مہنگائی 5.8 فیصد جبکہ فروری میں بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ گئی۔
اگرچہ یہ شرح ماضی کے مقابلے میں کم ہے، لیکن عالمی حالات کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر Oil Market مزید اوپر جاتا ہے تو مہنگائی دوبارہ خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ اسی لیے SBP کی پالیسی ٹیم نے اس وقت معاشی استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے محتاط حکمت عملی اختیار کی ہے۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
شرح سود میں استحکام: اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو 10.50% پر برقرار رکھا ہے. تاکہ افراط زر کے اہداف اور عالمی خطرات کے درمیان توازن برقرار رہے۔
-
مشرق وسطیٰ کا تنازع: ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی تیل کی قیمتوں (Oil Prices) اور سپلائی چین کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
-
جی ڈی پی گروتھ (GDP Growth): مالی سال 2026 کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے. مگر یہ عالمی حالات سے مشروط ہے۔
-
بڑھتے ہوئے ذخائر: زرمبادلہ کے ذخائر (FX Reserves) 16.3 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں. جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
-
مستقبل کا رخ: آئی ایم ایف (IMF) پروگرام کی شرائط اور عالمی خام تیل کی قیمتیں مستقبل میں شرح سود کے تعین میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
SBP نے شرح سود کو 10.50 فیصد پر کیوں برقرار رکھا؟
SBP نے یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خطرے اور افراط زر کی توقعات (Inflation Expectations) کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا ہے۔ اگرچہ ملکی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے، لیکن بیرونی خطرات نے بینک کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کا ماننا ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں افراط زر کی شرح میں جو کمی آئی تھی، اسے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ فروری 2026 میں انفلیشن 7 فیصد ریکارڈ کی گئی. جو کہ مرکزی بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ٹارگٹ رینج کے اوپری حصے پر ہے۔ ایسی صورت میں شرح سود میں مزید کمی کرنا انفلیشن کے بھوت کو دوبارہ جگانے کے مترادف ہو سکتا تھا۔
عالمی سیاسی حالات اور تیل کی قیمتوں کا دباؤ
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، خاص طور پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے گرد منڈلاتے خطرات نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مہمیز دی ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے. اس لیے عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں ہونے والا کوئی بھی اضافہ براہ راست مقامی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
حالیہ دنوں میں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیا ہے. جس کی بنیادی وجہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک میں جاری تنازع ہے۔ یہ اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات (Freight Costs) کو بڑھاتا ہے. جس سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔
ایک طویل عرصے سے مارکیٹ کا مشاہدہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے، پاکستانی روپیہ اور اسٹاک مارکیٹ دفاعی پوزیشن (Defensive Mode) میں آ جاتے ہیں۔ 2022 میں روس یوکرین جنگ کے وقت بھی ہم نے دیکھا تھا کہ کس طرح سپلائی چین کی رکاوٹوں نے عالمی سطح پر افراط زر کا طوفان برپا کیا تھا۔ موجودہ صورتحال میں اسٹیٹ بینک کا ‘ویٹ اینڈ واچ’ (Wait and Watch) والا رویہ ایک تجربہ کار مانیٹری مینجمنٹ کی نشانی ہے۔
معاشی ترقی اور جی ڈی پی کے اہداف
SBP نے مالی سال 2026 کے لیے جی ڈی پی گروتھ (Real GDP Growth) کا تخمینہ 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھا ہے۔ اس گروتھ کی بنیاد درج ذیل عوامل پر رکھی گئی ہے.
-
زرعی شعبہ (Agriculture Sector): گندم کی بوائی کے اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے گئے ہیں. جس سے دیہی معیشت میں بہتری کی امید ہے۔
-
صنعت (Manufacturing): لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (LSM) میں 4.8 فیصد کی مجموعی ترقی دیکھی گئی ہے. جو صنعتی پہیہ چلنے کی علامت ہے۔
-
پالیسی ریٹ میں سابقہ کٹوتی: جون 2024 سے اب تک شرح سود میں مجموعی طور پر 1150 بنیادی پوائنٹس کی کمی کی جا چکی ہے. جس کے اثرات اب معیشت میں ظاہر ہونا شروع ہوئے ہیں۔
تاہم، کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے. اور انشورنس و مال برداری کے اخراجات بڑھتے ہیں. تو یہ اہداف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
نجی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی (Private Sector Credit)
ایک مثبت پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے بینکوں سے قرض لینے کے عمل (budgetary borrowing) میں کمی کی ہے۔ اس کے نتیجے میں بینکوں کے پاس اب نجی شعبے (private sector) کو قرض دینے کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہوئی ہے۔
فروری تک نجی شعبے کے قرضوں میں 790 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے. جس کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل، ہول سیل اور کیمیکل کے شعبوں میں گیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کاروبار اب توسیعی منصوبوں (Expansion Projects) پر کام شروع کر رہے ہیں۔
مالیاتی استحکام اور آئی ایم اف (IMF) کا کردار
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کا حصہ ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے مسلسل یہ زور دیا جا رہا ہے کہ مانیٹری پالیسی کو "ٹائٹ” (Tight) رکھا جائے تاکہ افراط زر کو مستقل بنیادوں پر کم کیا جا سکے. اور غیر ملکی ذخائر کو مستحکم کیا جا سکے۔
SBP کے ذخائر فروری کے آخر تک 16.3 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں. جسے جون 2026 تک 18 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ برآمدات (Exports) اور ترسیلات زر (Remittances) میں استحکام رہے اور بیرونی سرمایہ کاری آتی رہے۔
پاکستان کے معاشی اشاریے: ایک نظر میں
| اشاریہ (Indicator) | حالیہ صورتحال (Status) | تبصرہ (Comment) |
| پالیسی ریٹ | 10.50% | غیر تبدیل شدہ |
| مہنگائی (فروری 2026) | 7.0% | ہدف کے قریب مگر خطرات موجود |
| زرمبادلہ کے ذخائر | $16.3 Billion | بہتری کی جانب گامزن |
| کرنٹ اکاؤنٹ | $121 Million Surplus (Jan) | مثبت پیش رفت |
| LSM گروتھ | 4.8% | صنعتی بحالی کا اشارہ |
نجی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی (Private Sector Credit)
ایک مثبت پیش رفت یہ ہے کہ حکومت نے بینکوں سے قرض لینے کے عمل (Budgetary Borrowing) میں کمی کی ہے۔ اس کے نتیجے میں بینکوں کے پاس اب نجی شعبے (Private Sector) کو قرض دینے کے لیے زیادہ گنجائش پیدا ہوئی ہے۔
کیا شرح سود میں مزید کمی ممکن ہے؟
یہ مکمل طور پر دو چیزوں پر منحصر ہے: اول، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کہاں رکتی ہیں. اور دوم، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اپنے ٹیکس اہداف کیسے حاصل کرتا ہے۔ اگر مالیاتی خسارہ (Fiscal Deficit) بڑھتا ہے. تو SBP کو افراط زر کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود کو برقرار رکھنا یا بڑھانا پڑ سکتا ہے۔
مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک مشرق وسطیٰ کی صورتحال واضح نہیں ہوتی. SBP کسی بڑے جارحانہ اقدام سے گریز کرے گا۔
فنانشل مارکیٹس میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ ‘مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے نفرت کرتی ہے’۔ موجودہ مانیٹری پالیسی کا پیغام واضح ہے کہ اسٹیٹ بینک استحکام کو نمو (Growth) پر ترجیح دے رہا ہے۔ بطور ٹریڈر، آپ کو اس وقت فکسڈ انکم (Fixed Income) اور ریئل اسٹیٹ جیسے شعبوں میں احتیاط برتنی چاہیے. کیونکہ عالمی افراط زر (Global Inflation) کے سائے ابھی منڈلا رہے ہیں۔
مستقبل کی حکمت عملی
SBP کی جانب سے شرح سود کو 10.50 فیصد پر برقرار رکھنا ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ جہاں ایک طرف معیشت کو استحکام فراہم کرتا ہے، وہاں دوسری طرف عالمی سطح پر ابھرنے والے نئے خطرات کے خلاف ایک حفاظتی ڈھال (buffer) کا کام بھی کر رہا ہے۔
تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ یہ ہے کہ وہ اپنی مالیاتی منصوبہ بندی میں عالمی تیل کی قیمتوں اور جیو پولیٹیکل حالات کو مدنظر رکھیں۔ پاکستان کی معیشت کی بحالی کا سفر جاری ہے، لیکن بیرونی جھٹکوں (external shocks) سے نمٹنے کے لیے ہمیں ابھی مزید اسٹرکچرل ریفارمز (structural reforms) کی ضرورت ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا مشرق وسطیٰ کی جنگ پاکستان میں افراط زر کا ایک نیا طوفان لا سکتی ہے؟ یا SBP کی یہ پالیسی ہمیں بچا لے گی؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔
فروری تک نجی شعبے کے قرضوں میں 790 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل، ہول سیل اور کیمیکل کے شعبوں میں گیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کاروبار اب توسیعی منصوبوں (expansion projects) پر کام شروع کر رہے ہیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



