PSX میں زبردست واپسی، KSE100 میں 6.6 فیصد کی تاریخی چھلانگ.
Investor Confidence Returns After Trump’s Middle East Remarks and Stable Policy Rate
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں پیر کے روز ہونے والی شدید مندی کے بعد منگل کو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، جس کے نتیجے میں PSX KSE100 Record Recovery and Market Halt کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امیدوں اور مقامی سطح پر اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے مثبت اثرات نے مارکیٹ کو ایک نئی زندگی بخشی۔ بنچ مارک KSE100 انڈیکس 6.62 فیصد اضافے کے ساتھ 156,177.12 کی سطح پر بند ہوا۔
اہم نکات (Key Highlights)
-
تاریخی ریکوری: KSE100 انڈیکس میں 9,696.98 پوائنٹس کا اضافہ ہوا. جو کہ پوائنٹس کے لحاظ سے تاریخ کا دوسرا بڑا اضافہ ہے۔
-
مارکیٹ ہالٹ (Market Halt): ٹریڈنگ کے آغاز میں ہی KSE30 انڈیکس میں 5 فیصد سے زائد اضافے کی وجہ سے مارکیٹ کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ یعنی ٹریڈنگ حالت نافذ کر دیا گیا.
-
عالمی اثرات: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ میں جنگ جلد ختم ہونے کے بیان سے خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی مارکیٹوں میں تیزی آئی۔
-
مانیٹری پالیسی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے شرح سود (Policy Rate) کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے نے سرمایہ کاروں کو حوصلہ دیا۔
مارکیٹ ہالٹ (Market Halt) کیا ہے اور یہ کیوں نافذ ہوا؟
مارکیٹ ہالٹ ایک حفاظتی طریقہ کار ہے. جو اس وقت لاگو کیا جاتا ہے. جب مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ (Volatility) آئے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے قوانین کے مطابق، اگر KSE30 انڈیکس میں پچھلے دن کے اختتام کے مقابلے میں 5 فیصد یا اس سے زیادہ کی تبدیلی (مثبت یا منفی) آئے اور یہ صورتحال 5 منٹ تک برقرار رہے. تو ٹریڈنگ کو معطل کر دیا جاتا ہے۔ منگل کو مارکیٹ کھلتے ہی KSE30 انڈیکس میں 9,303 پوائنٹس کا اضافہ ہوا. جس نے اس حد کو عبور کیا. اور ریگولیٹرز کو ٹریڈنگ روکنی پڑی تاکہ مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔
PSX میں اچانک تیزی کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟
PSX میں اس غیر معمولی تیزی (Bullish Trend) کے پیچھے تین بڑے عوامل کارفرما تھے:
1. عالمی سیاسی منظرنامہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان
عالمی مارکیٹس میں مندی کی سب سے بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی تھی۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان نے کہ "مشرق وسطیٰ کی جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے”. عالمی مارکیٹس میں جان ڈال دی۔ اس بیان کے بعد برینٹ کروڈ (Brent Crude) کی قیمتیں 10 فیصد تک گر کر 90 ڈالر سے نیچے آ گئیں. جس نے پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتا ہے، ایک مثبت پیغام دیا۔
2. اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی (Monetary Policy)
سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ افراط زر (Inflation) کے پیش نظر اسٹیٹ بینک شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے۔ لیکن مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ (Policy Rate) کو 10.5% پر برقرار رکھ کر مارکیٹ کو ایک "اسٹیبلٹی سگنل” دیا۔ مستحکم شرح سود کا مطلب ہے کہ کمپنیوں کے لیے قرضوں کی لاگت نہیں بڑھے گی. جو براہ راست ان کے منافع (Corporate Earnings) پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔
3. KSE100 انڈیکس کے ہیوی ویٹ شیئرز کی کارکردگی
مارکیٹ کی اس ریکارڈ ساز ریکوری میں بڑے اداروں (Blue-chip Companies) نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اینگرو (ENGRO)، یو بی ایل (UBL)، ہبکو (HUBC) اور میزان بینک (MEBL) جیسے بڑے اسٹاکس میں خریداروں کی دلچسپی عروج پر رہی۔ ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 3,600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
بطور ایک تجربہ کار مارکیٹ تجزیہ کار، میں نے دیکھا ہے کہ جب مارکیٹ "اوور سولڈ” (Oversold) زون میں چلی جاتی ہے. تو محض ایک چھوٹی سی مثبت خبر بھی "شارٹ کورینگ” (Short Covering) کا باعث بنتی ہے۔ پیر کی 11,000 پوائنٹس کی گراوٹ کے بعد، ٹرمپ کا بیان ایک چنگاری ثابت ہوا. جس نے انویسٹرز کو دوبارہ انٹری کا موقع دیا۔

KSE100 انڈیکس کی کارکردگی: ایک نظر میں
| کیٹیگری | تفصیلات |
| آغاز (Opening) | 146,480.15 |
| اختتام (Closing) | 156,177.12 |
| کل اضافہ (Points Gain) | 9,696.98 (6.62%) |
| انٹرا ڈے ہائی (Intraday High) | 158,354.12 |
| حجم (Volume – All Share) | 486.52 Million |
کیا یہ تیزی پائیدار ہے؟ ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis)
اگرچہ KSE100 نے 156,000 کی سطح عبور کر لی ہے، لیکن انٹرا ڈے ہائی (158,354) سے معمولی واپسی (Pullback) ظاہر کرتی ہے. کہ کچھ ٹریڈرز نے "پرافٹ ٹیکنگ” (Profit Taking) کو ترجیح دی ہے۔
سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز:
-
ریزسٹنس (Resistance): مارکیٹ کے لیے اگلا بڑا نفسیاتی ہدف 160,000 پوائنٹس ہے۔
-
سپورٹ (Support): 150,000 کی سطح اب ایک مضبوط سپورٹ کے طور پر کام کرے گی۔
انویسٹرز کو چاہیے کہ وہ صرف KSE30 اور KSE100 انڈیکس کے پوائنٹس نہ دیکھیں. بلکہ ٹریڈنگ والیو (Trading Volume) پر بھی نظر رکھیں۔ منگل کو والیم پیر کے مقابلے میں کم رہا (486 ملین بمقابلہ 621 ملین). جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریٹیل انویسٹر ابھی بھی تھوڑا محتاط ہے۔
مستقبل کی پیش گوئی: آگے کیا ہوگا؟
مستقبل قریب میں PSX کا رخ بڑی حد تک دو چیزوں پر منحصر ہوگا: پہلا، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا عملی طور پر خاتمہ، اور دوسرا، آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ ہونے والے جاری مذاکرات اور معاشی اصلاحات۔ اگر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم رہتا ہے (جیسا کہ منگل کو 279.36 پر رہا)، تو غیر ملکی سرمایہ کاروں (Foreign Investors) کی واپسی کے امکانات روشن ہیں۔
اختتامیہ.
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کا دن ایک "V-Shaped Recovery” کی بہترین مثال تھا۔ PSX KSE100 Record Recovery and Market Halt نے ثابت کیا کہ مارکیٹ کے بنیادی عوامل (Fundamentals) ابھی بھی مضبوط ہیں، لیکن جغرافیائی سیاسی حالات (Geopolitics) کسی بھی وقت رخ بدل سکتے ہیں۔ ایک عقلمند سرمایہ کار وہی ہے جو جذبات (Emotions) کے بجائے ڈیٹا اور مارکیٹ ٹرینڈز کی بنیاد پر فیصلے کرے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا مارکیٹ اس ہفتے 160,000 کی سطح عبور کر پائے گی یا ہمیں دوبارہ پرافٹ ٹیکنگ دیکھنے کو ملے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



