عالمی مارکیٹ میں تیل کا بحران: IEA کی جانب سے 400 ملین بیرل تیل نکالنے کا تاریخی فیصلہ
400 Million Barrels Plan Targets Oil Price Surge Amid Strait of Hormuz Disruption
عالمی توانائی ایجنسی (International Energy Agency – IEA) نے گزشتہ روز ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس نے فنانشل مارکیٹس میں ہلچل مچا دی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں (Crude Oil Prices) میں ہونے والے غیر معمولی اضافے کو روکنے کے لیے IEA نے اپنے ہنگامی ذخائر (Strategic Reserves) سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کی سفارش کی ہے۔
یہ عالمی تاریخ میں تیل کے ذخائر سے کی جانے والی سب سے بڑی سپلائی ہے. جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے. کہ موجودہ جیو پولیٹیکل (geopolitical) صورتحال کس قدر سنگین ہو چکی ہے۔
خلاصہ.
-
تاریخی فیصلہ: IEA نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو لگام دینے کے لیے 400 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں لانے کا اعلان کیا ہے۔
-
وجوہات: امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے سپلائی چین (Supply Chain) متاثر ہونے کا خدشہ اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش۔
-
بڑے شراکت دار: اس ریلیز میں امریکہ اور جاپان سب سے زیادہ حصہ ڈالیں گے. جبکہ جرمنی سمیت 32 ممالک اس پر متفق ہیں۔
-
مارکیٹ کا ردعمل: ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مقدار روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی 20 ملین بیرل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہو سکتی ہے۔
کیا IEA کا یہ اقدام تیل کی قیمتوں کو کم کر پائے گا؟
اگرچہ 400 ملین بیرل ایک بڑی رقم لگتی ہے، لیکن اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ یہ تیل روزانہ کتنی مقدار میں مارکیٹ میں لایا جاتا ہے۔ اگر یہ ایک ماہ میں نکالا جائے تو یہ تقریباً 3.3 ملین بیرل یومیہ بنتا ہے. جو کہ ایران کے ساتھ تنازع کی صورت میں ہونے والی 20 ملین بیرل یومیہ کی ممکنہ بندش کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اسی لیے مارکیٹ میں اب بھی بے یقینی (Uncertainty) پائی جاتی ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی (IEA) کا منصوبہ اور رکن ممالک کا کردار
پیرس میں قائم International Energy Agency نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تمام 32 رکن ممالک نے متفقہ طور پر اس ریلیز کی منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی معیشت کو اس افراط زر سے بچانا ہے جو تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کی صورت میں پیدا ہو سکتی ہے۔
جرمنی کی وزیر معیشت کیتھرینا ریشے نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک اس مہم کا حصہ ہے، تاہم اس میں سب سے بڑا بوجھ امریکہ اور جاپان اٹھائیں گے۔ امریکی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا تھا. کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ توانائی کے اخراجات ان کی داخلی معیشت کو متاثر کریں۔
سپلائی کا طریقہ کار اور ماہرین کی رائے
مالیاتی تجزیہ کاروں (Financial Analysts) کا ماننا ہے کہ صرف کل مقدار اہم نہیں ہے. بلکہ "رفتار” (Pace) سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
| پیرامیٹر (Parameter) | تفصیل (Detail) |
| کل مجوزہ مقدار | 400 ملین بیرل |
| ممکنہ یومیہ سپلائی | 3.3 ملین بیرل (اگر 30 دن پر محیط ہو) |
| موجودہ سپلائی کا تعطل | تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ |
| کلیدی رکاوٹ | آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا بلاک ہونا |
ایک طویل تجربے کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی بڑے سینٹرل بینک یا بین الاقوامی ادارے مارکیٹ میں مداخلت (intervention) کرتے ہیں. تو فوری طور پر قیمتوں میں کمی آتی ہے. لیکن اگر بنیادی مسئلہ (Fundamental Issue) یعنی جنگ ختم نہ ہو. تو مارکیٹ دوبارہ تیزی سے اوپر چلی جاتی ہے۔ ٹریڈرز کو صرف خبر پر نہیں. بلکہ زمین پر موجود حقائق پر نظر رکھنی چاہیے۔
آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور "ٹرانزٹ” کا مسئلہ
امریکی سیکرٹری داخلہ ڈوگ برگم کا کہنا ہے کہ دنیا کو تیل کی کمی کا سامنا نہیں ہے. بلکہ یہ صرف "نقل و حمل کا مسئلہ” (Transit Problem) ہے۔ ان کا اشارہ آبنائے ہرمز کی طرف تھا. جہاں سے دنیا کا ایک تہائی سمندری تیل گزرتا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے یہ راستہ مؤثر طریقے سے بند ہو چکا ہے۔
برگم کے مطابق، یہ ایک عارضی مسئلہ ہے جسے سفارتی اور فوجی ذرائع سے حل کیا جا رہا ہے۔ تاہم، جب تک یہ راستہ مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا. تب تک IEA کا تیل صرف ایک عارضی مرہم (Temporary Fix) ثابت ہوگا۔
کیا Crude Oil کی قیمتیں 150 ڈالر تک جا سکتی ہیں؟
اگر IEA کی مداخلت ناکام ہو جاتی ہے اور آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہتا ہے. تو ماہرین کا خدشہ ہے کہ خام تیل کی قیمتیں اپنی تاریخی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں۔ عالمی معیشت، جو پہلے ہی افراط زر (Inflation) کی زد میں ہے، مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل (Imported Oil) پر منحصر ہیں، یہ صورتحال پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
حرف آخر.
IEA کا 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا فیصلہ ایک جرات مندانہ قدم ہے. لیکن یہ ایک ایسی آگ کو بجھانے کی کوشش ہے جس کا ایندھن جیو پولیٹیکل دشمنی ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے. کہ وہ صرف جذباتی فیصلوں کے بجائے ٹیکنیکل لیولز (Technical Levels) اور عالمی خبروں کے درمیان توازن برقرار رکھیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا امریکہ اور اس کے اتحادی فوجی طاقت کے ذریعے تیل کی سپلائی بحال کر پائیں گے. یا قیمتیں قابو سے باہر ہو جائیں گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



