PSX میں ایران جنگ کے باعث شدید مندی: KSE100 انڈیکس 1400 پوائنٹس گر گیا –
KSE100 Index Drops Over 1,400 Points Amid Oil Price Surge and Global Market Volatility
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں جمعرات کا دن سرمایہ کاروں کے لیے خاصا بھاری ثابت ہوا. جہاں بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں 1,400 پوائنٹس سے زائد کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی (Geopolitical Tension) اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات نے مقامی مارکیٹ کے جذبات (Market Sentiment) کو بری طرح متاثر کیا۔
اس تحریر میں ہم نہ صرف اس مندی کی وجوہات کا جائزہ لیں گے. بلکہ یہ بھی دیکھیں گے. کہ عالمی حالات اور آئی ایم ایف (IMF) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ پر طویل مدتی بنیادوں پر کیا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
مارکیٹ کی گراوٹ: KSE100 انڈیکس 1,437 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 154,421.43 کی سطح پر بند ہوا۔
-
عالمی بحران: خلیج فارس اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں تیل کے جہازوں پر حملوں نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو 99 ڈالر تک پہنچا دیا. جس سے افراط زر (Inflation) کے خدشات بڑھ گئے۔
-
آئی ایم ایف اپ ڈیٹ: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے (3rd review) پر "نمایاں پیش رفت” ہوئی ہے، جو مارکیٹ کے لیے ایک مثبت پہلو ہے۔
-
سرمایہ کاروں کا ردعمل: انڈیکس میں اتار چڑھاؤ (volatility) کے باعث بڑے پلیئرز نے منافع خوری (Profit-taking) کو ترجیح دی، جس سے فروخت کا دباؤ (selling Pressure) بڑھا۔
کیا PSX میں مندی کی بڑی وجہ عالمی حالات ہیں؟
موجودہ مندی کی بنیادی وجہ مقامی سے زیادہ عالمی عوامل ہیں۔ جب آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) جیسے حساس علاقے میں تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنایا جاتا ہے. تو عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا براہ راست اثر پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں (Emerging Markets) پر پڑتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اچانک 7 فیصد سے زائد کا اضافہ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (Current Account Deficit) اور مہنگائی کی شرح پر دباؤ ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں نے "رسک آف” (Risk-Off) موڈ اپناتے ہوئے شیئرز کی فروخت کو ترجیح دی۔
بطور ایک تجربہ کار تجزیہ کار، میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی عالمی سطح پر ‘Energy War’ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے. تو مارکیٹ انڈیکس کی سطح کو نہیں بلکہ ‘Import Bill’ کے خوف کو دیکھتی ہے۔ 2008 اور 2022 کے بحرانوں میں بھی پیٹرن یہی تھا. کہ جیو پولیٹیکل رسک ہمیشہ ٹیکنیکل سپورٹ لیولز کو توڑ دیتا ہے۔
KSE100 انڈیکس کی کارکردگی اور اہم اسٹاکس کا جائزہ
جمعرات کے سیشن کے دوران PSX میں زبردست اتار چڑھاؤ (Volatility) دیکھا گیا۔ KSE100 انڈیکس ایک وقت میں 157,080 کی بلند ترین سطح پر گیا. لیکن پھر فروخت کے سونامی نے اسے 153,503 کی کم ترین سطح (Intra-Day Low) تک پہنچا دیا۔
مارکیٹ کو سہارا دینے والے اور گرانے والے شیئرز
| مثبت اثر ڈالنے والے (Gainers) | منفی اثر ڈالنے والے (Losers) |
| ENGRO (اینگرو کارپوریشن) | UBL (یونائیٹڈ بینک) |
| SYS (سسٹمز لمیٹڈ) | LUCK (لکی سیمنٹ) |
| EFERT (اینگرو فرٹیلائزر) | OGDC (او جی ڈی سی) |
| SRVI (سروس فیبرکس) | HUBC (حب پاور) |
انڈیکس کے بھاری وزن والے اسٹاکس (Index-Heavy Stocks) جیسے او جی ڈی سی اور حبکو میں فروخت کا رجحان دیکھا گیا. جس کی وجہ سے انڈیکس کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔
آئی ایم ایف (IMF) اور پاکستان: مذاکرات میں کیا پیش رفت ہوئی؟
پاکستان کے لیے سب سے اہم خبر آئی ایم ایف کے مشن چیف ایوا پیٹرووا (Iva Petrova) کا بیان ہے. جس میں انہوں نے ‘ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی’ (EFF) کے تیسرے جائزے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کا تسلسل پاکستان کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری اور عالمی بینکوں سے قرضوں کے حصول کا راستہ صاف کرتا ہے۔ اگرچہ عالمی سیاسی صورتحال خراب ہے، لیکن آئی ایم ایف کی جانب سے "نمایاں پیش رفت” (considerable progress) کی خبر نے مارکیٹ کو مکمل کریش ہونے سے بچا لیا۔
عالمی تناظر: تیل کی قیمتیں اور عالمی اسٹاک مارکیٹس
عالمی سطح پر خام تیل (WTI Crude) 93.80 ڈالر اور برینٹ (Brent) 99 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں کارروائیوں اور تیل کی قیمت 200 ڈالر تک جانے کی دھمکیوں نے عالمی مارکیٹوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
-
ایشین مارکیٹس: جاپان کا نکی (Nikkei) انڈیکس 1.6% گر گیا. کیونکہ جاپان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر درآمدی تیل پر منحصر ہے۔
-
امریکی فیوچرز: S&P 500 اور Nasdaq میں بھی مندی کا رجحان رہا. جو ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار فی الحال محفوظ اثاثوں (Safe Havens) جیسے سونے (Gold) کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ (Future Outlook)
پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا مستقبل اب دو چیزوں پر منحصر ہے:
-
مشرق وسطیٰ میں ڈی ایسکیلیشن: اگر کشیدگی کم ہوتی ہے اور تیل کی سپلائی بحال ہوتی ہے. تو مارکیٹ تیزی سے ریکور کرے گی۔
-
آئی ایم ایف کی حتمی منظوری: جیسے ہی آئی ایم ایف کے تیسرے جائزے کی باقاعدہ منظوری آئے گی، انڈیکس میں دوبارہ استحکام (stability) آنے کی توقع ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
کیا آپ کو لگتا ہے کہ KSE100 انڈیکس جلد ہی اپنی 160,000 کی سطح کو دوبارہ چھو لے گا یا عالمی حالات مزید مندی لائیں گے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



