Bitcoin کی قیمت 70,000 ڈالر تک گر گئی: تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کے فیصلے کے کرپٹو مارکیٹ پر اثرات

Rising Energy Prices and Federal Reserve Policy Trigger Risk-Off Sentiment Across Crypto

آج کل کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ایک بار پھر ہلچل مچی ہوئی ہے۔ بٹ کوائن (Bitcoin) کی قیمت جو کہ حال ہی میں کافی مستحکم نظر آ رہی تھی، اچانک 70,000 ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے گر گئی ہے۔ اس مندی کی بڑی وجوہات میں عالمی سطح پر توانائی کے بحران، خاص طور پر خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ، اور امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود (Interest Rates) کو برقرار رکھنے کا فیصلہ شامل ہیں۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ Bitcoin کی قیمت صرف کرپٹو مارکیٹ کی اندرونی حرکات پر منحصر نہیں. بلکہ عالمی معاشی عوامل جیسے Oil Market اور Fed Policy بھی اس پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ جب تک توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور مانیٹری پالیسی میں نرمی نہیں آتی. تب تک کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور خوف برقرار رہنے کا امکان ہے۔

جب بھی عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، سرمایہ کار ‘رسک اثاثوں’ (Risk Assets) جیسے کہ کرپٹو اور اسٹاک مارکیٹ سے اپنا پیسہ نکال کر محفوظ معاشی پناہ گاہوں کی تلاش شروع کر دیتے ہیں۔ اس بلاگ میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے. کہ ان عوامل نے مارکیٹ کو کیسے متاثر کیا اور آنے والے دنوں میں ٹریڈرز کو کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

اہم نکات (Key Points)

  • قیمت میں کمی: Bitcoin اور ایتھریم (Ethereum) کی قیمتوں میں بالترتیب 1.6% اور 1.7% کی کمی واقع ہوئی ہے. جس کی وجہ سے BTC اب 70,000 ڈالر کے قریب ٹریڈ ہو رہا ہے۔

  • توانائی کا بحران: ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں 114 ڈالر (Brent Crude) تک پہنچ گئی ہیں. جس نے مہنگائی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

  • فیڈرل ریزرو کا فیصلہ: فیڈ نے شرح سود کو 3.50% سے 3.75% کی سطح پر برقرار رکھا ہے، جس سے امریکی ڈالر مضبوط ہوا اور کرپٹو جیسے خطرناک اثاثوں پر دباؤ بڑھا۔

  • لیکویڈیشن (Liquidations): گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 600 ملین ڈالر کے ‘لانگ’ (Long) سودے ختم ہو گئے. جس سے مارکیٹ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

  • مستقبل کی حکمت عملی: مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (Volatility) بڑھنے کے آثار ہیں، اس لیے ٹریڈرز کو ‘پٹ آپشنز’ (Put Options) اور ہیجنگ (Hedging) کی حکمت عملیوں پر غور کرنا چاہیے۔

Bitcoin کی قیمت کیوں گر رہی ہے؟ 

Bitcoin کی قیمت میں حالیہ کمی محض ایک اتفاق نہیں ہے. بلکہ یہ کئی معاشی عوامل کا مجموعہ ہے۔ جب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں. تو اس کا براہ راست اثر مہنگائی (Inflation) پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو ڈر ہے کہ اگر انفلیشن بڑھی، تو مرکزی بینک شرح سود میں کمی نہیں کریں گے. جو کہ کرپٹو مارکیٹ کے لیے منفی خبر ہے۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی جیواسٹراٹیجک (Geostrategy) کشیدگی بڑھتی ہے. مارکیٹ سب سے پہلے ‘لیکویڈیٹی’ (Liquidity) کو ترجیح دیتی ہے۔ 2024 اور 2025 کے درمیانی عرصے میں بھی ہم نے دیکھا کہ کرپٹو اب روایتی مارکیٹ سے الگ نہیں رہا. بلکہ یہ میکرو اکنامک (Macroeconomic) خبروں پر بہت تیزی سے ردعمل دیتا ہے۔

توانائی کی قیمتوں کا دباؤ (Impact of Energy Prices)

ایران کی جانب سے خلیج میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے بعد خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ کروڈ (Brent Crude) 114 ڈالر اور عمان کروڈ 150 ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ یورپی قدرتی گیس (Natural Gas) کی قیمتوں میں بھی 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ Crypto Mining کے لیے بجلی کی بڑی مقدار درکار ہوتی ہے. اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مائنرز کے منافع کو متاثر کرتی ہیں. جو بالآخر مارکیٹ سپلائی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

فیڈرل ریزرو کا فیصلہ اور امریکی ڈالر کی مضبوطی

امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کے روز شرح سود کو 3.50%–3.75% کی رینج میں برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ اگرچہ بہت سے لوگ شرح سود میں کمی (Rate Cut) کی امید کر رہے تھے. لیکن فیڈ کے اس ‘پاز’ (Pause) نے امریکی ڈالر (DXY) کو تقویت دی ہے۔

جب امریکی ڈالر مضبوط ہوتا ہے، تو عام طور پر Bitcoin اور سونے (Gold) جیسی اشیاء کی قیمتوں میں کمی آتی ہے کیونکہ ان کی پیمائش ڈالر میں کی جاتی ہے۔

رسک آف سینٹیمنٹ (Risk-off Sentiment) کیا ہوتا ہے؟

جب سرمایہ کاروں کو معیشت کے بارے میں خطرہ محسوس ہوتا ہے. تو وہ ‘رسک آف’ موڈ میں چلے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ Bitcoin اور نیسڈیک (Nasdaq) جیسے اتار چڑھاؤ والے اثاثوں کو بیچ کر نقد رقم یا سرکاری بانڈز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ جمعرات کو نیسڈیک 100 فیوچرز میں 0.3% کی کمی اسی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

ڈیریویٹوز مارکیٹ کا حال: 600 ملین ڈالر کا نقصان. 

کرپٹو فیوچرز (Crypto Futures) مارکیٹ میں گزشتہ 24 گھنٹے انتہائی ہولناک رہے ہیں۔ تقریباً 600 ملین ڈالر کے لیوریجڈ (Leveraged) پوزیشنز مٹ گئیں، جن میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو قیمت بڑھنے کی توقع (Longs) کر رہے تھے۔

فیوچرز اوپن انٹرسٹ (Open Interest – OI) میں کمی

اوپن انٹرسٹ سے مراد وہ کل معاہدے ہیں جو ابھی تک مارکیٹ میں کھلے ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر OI میں 5.6% کی کمی آئی ہے، جبکہ ایتھریم (ETH) کے اوپن انٹرسٹ میں 9% کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ سرمایہ کار مارکیٹ سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں (Capital Outflow)۔

اثاثہ (Asset) قیمت میں تبدیلی اوپن انٹرسٹ میں تبدیلی
بٹ کوائن (BTC) -1.6% -5.6%
ایتھریم (ETH) -1.7% -9.0%
آلٹ کوائنز (Altcoins) -5% سے -10% نمایاں کمی

لیوریج ٹریڈنگ میں جب ‘لانگ اسکوئیز’ (Long Squeeze) آتا ہے، تو قیمت گرنے سے مزید مارجن کالز (Margin Calls) ہوتی ہیں. جو قیمت کو مزید نیچے دھکیلتی ہیں۔ ایک منجھے ہوئے ٹریڈر کے طور پر میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ایسی صورتحال میں ‘فنڈنگ ریٹ’ (Funding Rate) پر نظر رکھیں. اگر یہ منفی ہو جائے تو سمجھ لیں کہ مارکیٹ میں بیئریش (Bearish) جذبات غالب ہیں۔

کیا آلٹ کوائنز (Altcoins) کے لیے خطرہ بڑھ گیا ہے؟

جب بٹ کوائن گرتا ہے، تو آلٹ کوائنز عام طور پر زیادہ تیزی سے نیچے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ ‘لیکویڈیٹی’ (Liquidity) کی کمی ہے۔ اکتوبر میں ہونے والے 19 بلین ڈالر کے نقصان کے بعد سے مارکیٹ ابھی تک پوری طرح سنبھل نہیں سکی ہے۔

  • نقصان اٹھانے والے ٹوکنز: بٹ ٹینسر (TAO) میں 8.8% اور ہائپر لیکویڈ (HYPE) میں 6.5% کی کمی دیکھی گئی۔

  • استثنیٰ (Exceptions): اس مندی میں بھی کچھ ٹوکنز جیسے کہ NEO (4.2% اضافہ) اور ETHFI (1.5% اضافہ) نے مثبت کارکردگی دکھائی، جو ان کے مضبوط بنیادی عوامل (Fundamentals) کو ظاہر کرتا ہے۔

مارکیٹ میں خوف کا انڈیکس: Volmex BVIV

کیا مارکیٹ میں خوف (Fear) واپس آ گیا ہے؟ جی ہاں۔ وولمیکس کا BVIV انڈیکس، جو بٹ کوائن کی متوقع قیمت میں اتار چڑھاؤ (Implied Volatility) کو ناپتا ہے، 5% بڑھ کر 58.36% تک پہنچ گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگلے 30 دنوں میں قیمتوں میں بڑے جھٹکے متوقع ہیں۔

ٹریڈرز کیا کر رہے ہیں؟

ڈیریبٹ (Deribit) جیسے ایکسچینجز پر ‘پٹ اسکیو’ (Put Skew) مضبوط ہو رہا ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ٹریڈرز اب قیمت گرنے سے بچنے کے لیے انشورنس (Hedging) خرید رہے ہیں۔ ایتھریم میں ‘اسٹریڈلز’ (Straddles) کی مانگ بڑھی ہے، جو کہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس میں ٹریڈر قیمت کے کسی بھی طرف بڑی حرکت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟ (What Next?)

بٹ کوائن کے لیے 70,000 ڈالر کی سطح پر واپس آنا بہت ضروری ہے۔ اگر قیمت اس سے نیچے برقرار رہتی ہے، تو اگلا سپورٹ لیول 68,000 اور پھر 65,000 ڈالر ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوتی ہے اور تیل کی قیمتیں مستحکم ہوتی ہیں، تو ہم ایک تیز ریکوری (V-shape Recovery) بھی دیکھ سکتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ

  1. Stop-Loss کا استعمال کریں: غیر یقینی مارکیٹ میں اسٹاپ لاس (Stop-loss) آپ کے سرمائے کا بہترین محافظ ہے۔

  2. ڈالر کاسٹ ایوریجنگ (DCA): اگر آپ طویل مدتی سرمایہ کار ہیں، تو قیمتوں میں اس گراوٹ کو خریداری کے موقع کے طور پر استعمال کریں۔

  3. خبروں پر نظر رکھیں: خاص طور پر جیو پولیٹیکل حالات اور فیڈرل ریزرو کے بیانات مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔

حرف آخر

موجودہ مارکیٹ کی صورتحال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کرپٹو کرنسی اب الگ تھلگ جزیرہ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی معیشت کا حصہ بن چکی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور فیڈ کی پالیسی نے وقتی طور پر مارکیٹ پر دباؤ ڈالا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے. کہ Bitcoin نے ماضی میں بھی ایسی کئی گراوٹوں کے بعد نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔ ایک تجربہ کار ٹریڈر ہمیشہ خوف کے بجائے اعداد و شمار (Data) پر بھروسہ کرتا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Bitcoin دوبارہ 75,000 ڈالر کی سطح عبور کرے گا یا ہم مزید مندی دیکھیں گے؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button