Bitcoin کی گراوٹ، Oil Prices اور Iran War کے سائے میں Crypto Market ہل کر رہ گئی
Massive Liquidations and Iran War Fears Trigger Crypto Market Sell-Off
حالیہ چند گھنٹوں میں کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ایک بڑا زلزلہ دیکھنے کو ملا ہے. جہاں بٹ کوائن (Bitcoin) اپنی اہم سپورٹ سطح سے نیچے گر گیا ہے۔ عالمی اقتصادی حالات، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور Futures Market میں بڑے پیمانے پر ہونے والی لیکویڈیشنز (Liquidations) نے سرمایہ کاروں میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔
اس تحریر میں ہم تفصیلی جائزہ لیں گے کہ Bitcoin اور Crypto Market کے اچانک گرنے کی وجوہات کیا ہیں. اور آنے والے دنوں میں قیمتوں کا رخ کس طرف ہو سکتا ہے۔
اہم نکات (Key Highlights)
-
بڑی گراوٹ: بٹ کوائن (BTC) 67,000 ڈالر اور ایتھریم (ETH) 3,400 ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئے ہیں. جو کہ گزشتہ دو ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔
-
لیکویڈیشن کا دباؤ: مارکیٹ میں تقریباً 300 ملین ڈالر مالیت کی "Long Positions” (خریداری کے سودے) ختم ہو گئے. جس نے قیمتوں کو مزید نیچے دھکیلا۔
-
عالمی اثرات: خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں 100 ڈالر سے اوپر کا اضافہ اور ایران اسرائیل جنگ کے خدشات نے "Risk-off” ماحول پیدا کر دیا ہے۔
-
متبادل کوائنز (Altcoins): زیادہ تر Altcoins بشمول XRP اور SHIB میں شدید فروخت کا رجحان ہے. جبکہ ONDO جیسے ٹوکنز نے اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کیا۔
Bitcoin کی قیمت میں اچانک کمی کیوں آئی؟
Bitcoin کی قیمت میں حالیہ کمی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ یہ کئی معاشی عوامل کا مجموعہ ہے۔ جب مارکیٹ میں "Bullish Sentiment” (تیزی کا رجحان) حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے. تو اکثر ایک معمولی منفی خبر بھی بڑے کریش کا سبب بنتی ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت میں کمی کی بنیادی وجہ فیوچرز مارکیٹ میں حد سے زیادہ لیوریج (Leverage) کا ہونا اور عالمی سطح پر Inflation کے بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو مجبور کیا کہ وہ خطرے والے اثاثوں (Risk Assets) جیسے کہ کرپٹو اور اسٹاکس سے اپنا پیسہ نکال کر محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل کریں۔
اپنے 10 سالہ تجربے میں میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی ریٹیل ٹریڈرز ایک ہی سمت میں حد سے زیادہ پوزیشنز بنا لیتے ہیں. تو مارکیٹ مینوفیکچررز یا ‘وئیلز’ اکثر قیمت کو اس کے برعکس لے جاتے ہیں تاکہ لیکویڈیٹی حاصل کی جا سکے۔ یہ 300 ملین ڈالر کی لیکویڈیشن اسی ‘Crowded Trade’ کا نتیجہ ہے. جس کی توقع تجربہ کار ٹریڈرز کو ہمیشہ رہتی ہے۔
خام تیل اور جیو پولیٹیکل تناؤ کا کرپٹو پر اثر (Impact of Oil prices and Geopolitics)
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کا 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جانا عالمی معیشت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹیشن اور پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے. جس سے براہ راست افراطِ زر (Inflation) میں اضافہ ہوتا ہے۔
کیا ایران جنگ کے خدشات مارکیٹ کو مزید ڈبو سکتے ہیں؟
سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال جلد بہتر ہو جائے گی. لیکن ایران کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مارکیٹ کو غیر یقینی کا شکار کر دیا ہے۔ نیس ڈیک (Nasdaq 100) جیسے بڑے اسٹاک انڈیکس پہلے ہی اپنی جنوری کی بلند ترین سطح سے 10 فیصد نیچے آ چکے ہیں. اور کرپٹو مارکیٹ اب اسٹاک مارکیٹ کے ساتھ گہرا تعلق (Correlation) دکھا رہی ہے۔
ڈیریویٹوز مارکیٹ کا حال: 300 ملین ڈالر کا نقصان
کرپٹو ٹریڈنگ میں جب آپ ادھار رقم یا لیوریج (Leverage) استعمال کرتے ہیں، تو قیمت میں معمولی کمی بھی آپ کے پورے اکاؤنٹ کو صفر کر سکتی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں یہی کچھ ہوا۔
| ٹوکن (Token) | پوزیشن کی قسم | لیکویڈیشن کی رقم |
| بٹ کوائن (BTC) | Long (خریداری) | $100M+ |
| ایتھریم (ETH) | Long (خریداری) | $60M+ |
| دیگر الٹ کوائنز | Long (خریداری) | $140M |
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مارکیٹ میں فروخت کرنے والوں (Short sellers) کے مقابلے میں خریداری کرنے والے زیادہ نقصان میں رہے۔ خاص طور پر XRP اور SHIB میں شارٹ پوزیشنز (فروخت کے سودے) بڑھ رہے ہیں. جو اس بات کی علامت ہے کہ ٹریڈرز مزید گراوٹ کی توقع کر رہے ہیں۔

Altcoins کی صورتحال: ONDO کی غیر معمولی کارکردگی
جہاں پوری مارکیٹ سرخ نشان میں ڈوبی ہوئی ہے، وہیں کچھ ٹوکنز نے اپنی انفرادیت برقرار رکھی ہے۔ او نڈو (ONDO) فنانس کی جانب سے فرینکلن ٹیمپلٹن (Franklin Templeton) کے پانچ ETFs کو ٹوکنائز کرنے کی خبر نے اس کی قیمت میں 8 فیصد تک اضافہ کیا۔
مشکل مارکیٹ میں بھی وہ پروجیکٹس جن کے پیچھے حقیقی "Utility” اور بڑی شراکت داریاں (Partnerships) ہوں. وہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ تاہم، مجموعی طور پر الٹ کوائنز کا RSI (Relative Strength Index) اب بھی نیوٹرل ہے. جس کا مطلب ہے کہ اگر بٹ کوائن مستحکم نہ ہوا تو الٹ کوائنز میں مزید 10 سے 15 فیصد کمی آ سکتی ہے۔
آپشنز ایکسپائری (Options Expiry) اور $75,000 کا لیول
جمعہ کے روز 15 بلین ڈالر مالیت کے بٹ کوائن آپشنز ایکسپائر (Expire) ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے مارکیٹ میں ایک "Price Magnet” کا تصور تھا کہ قیمت 75,000 ڈالر تک جائے گی. لیکن اب وہ دروازہ بند ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
مارکیٹ کے نفسیاتی پہلو کو سمجھیں؛ جب بڑی ایکسپائری گزر جاتی ہے اور قیمت اوپر جانے میں ناکام رہتی ہے. تو مارکیٹ اکثر ‘Path of least resistance’ یعنی نیچے کی طرف کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ موجودہ ڈیٹا کے مطابق، ‘Puts’ (نیچے گرنے پر منافع والے سودے) کی مانگ ‘Calls’ کے مقابلے میں 6 سے 8 فیصد زیادہ ہے. جو کہ بڑے اداروں کی جانب سے ہیجنگ (Hedging) کی علامت ہے۔
اختتامیہ.
موجودہ کرپٹو کریش جیو پولیٹیکل تناؤ اور فیوچرز مارکیٹ کی صفائی (Flush out) کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ طویل مدتی رجحان (Long-term trend) اب بھی مثبت ہو سکتا ہے، لیکن قلیل مدت (Short-term) میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ مارکیٹ آپ کو موقع دے گی، لیکن ضروری یہ ہے کہ اس وقت آپ کے پاس سرمایہ (Capital) محفوظ ہو۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا Bitcoin نفساتی سپورٹ 60,000 ڈالر تک گرے گا یا یہیں سے واپسی (Bounce back) کرے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



