آسٹریلین ڈالر میں اضافہ: ایران جنگ کے خاتمے کی امید پر AUD/USD مضبوط

یورپی سیشن کے دوران منگل کو آسٹریلین ڈالر (AUD) نے اپنی بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوطی دکھائی، جہاں AUD/USD جوڑی تقریباً 0.6865 کی سطح تک پہنچ گئی۔ مارکیٹ میں مثبت جذبات (risk-on sentiment) اس وقت ابھرے جب امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ختم کرنے کی آمادگی ظاہر کی، حالانکہ آبنائے ہرمز بدستور بند رہنے کا خدشہ موجود ہے۔

یہ بیان سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنا۔ جس کے نتیجے میں خطرے سے جڑی کرنسیوں، خاص طور پر آسٹریلین ڈالر، کو سپورٹ ملی۔

رسک آن ماحول اور AUD/USD کی کارکردگی

عالمی مارکیٹ میں رسک آن جذبات واضح طور پر نظر آئے، جس کی عکاسی S&P 500 فیوچرز میں 0.7% سے زائد اضافے سے ہوتی ہے، جو تقریباً 6,400 کی سطح کے قریب ٹریڈ کر رہے ہیں۔ اس بہتری کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کار اب محفوظ اثاثوں (safe havens) سے نکل کر زیادہ رسکی اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسی تناظر میں آسٹریلین ڈالر نے بہترین کارکردگی دکھائی، خاص طور پر نیوزی لینڈ ڈالر (NZD) کے مقابلے میں۔ کرنسی ہیٹ میپ کے مطابق AUD نے زیادہ تر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مثبت پیش رفت کی، جو اس کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکہ-ایران کشیدگی اور مارکیٹ کا ردعمل

The Wall Street Journal کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو بتایا کہ وہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو ختم کرنے کے لیے تیار ہی۔ چاہے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال نہ بھی ہو۔

یہ پیش رفت ایک ماہ سے جاری مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کی امید کو بڑھاتی ہے۔ جس سے عالمی سطح پر جیوپولیٹیکل خطرات میں کمی آ سکتی ہے۔

تاہم، ایک اہم مسئلہ اب بھی برقرار ہے: اگر آبنائے ہرمز بند رہتی ہے۔ تو عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوگی۔ جس سے تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔ اس صورتحال کا دباؤ ان معیشتوں پر زیادہ پڑے گا۔ جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتی ہیں، جیسے کہ یورپ اور جاپان۔

تیل کی قیمتیں اور آسٹریلین ڈالر پر اثرات

اگرچہ بلند تیل کی قیمتیں عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہیں، لیکن آسٹریلیا جیسے ممالک کے لیے اس کا اثر نسبتاً محدود ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک کموڈٹی ایکسپورٹر ہے۔

اسی وجہ سے، جب عالمی معیشت میں بہتری اور رسک آن ماحول پیدا ہوتا ہے تو AUD/USD عام طور پر مضبوط ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔

RBA کی مانیٹری پالیسی اور مستقبل کا راستہ

Reserve Bank of Australia کے مارچ میٹنگ کے منٹس سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ پالیسی ساز اب بھی افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے مزید سختی (tightening) کے حق میں ہیں۔ اگرچہ اس کے وقت پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

مرکزی بینک نے اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 4.1% تک پہنچا دیا۔ اس فیصلے کے پیچھے بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ جو مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مزید بڑھ گئی ہے۔

یہ اشارہ دیتا ہے کہ مستقبل میں مزید شرح سود میں اضافے کا امکان موجود ہے۔ جو آسٹریلین ڈالر کے لیے ایک مثبت عنصر ہے۔

AUD/USD کے لیے آگے کا منظرنامہ

مختصر مدت میں AUD/USD کی سمت درج ذیل عوامل پر منحصر رہے گی:

امریکہ-ایران تنازع میں پیش رفت

تیل کی قیمتوں کا رجحان

امریکی ڈالر کی مجموعی طاقت

RBA اور فیڈ کی مانیٹری پالیسی

اگر جیوپولیٹیکل کشیدگی مزید کم ہوتی ہے تو AUD کو مزید سپورٹ مل سکتی ہے۔ تاہم، اگر آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہتی ہے اور تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو رسک سینٹیمنٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button