تیل کی قیمتوں میں کمی: مشرق وسطیٰ کشیدگی میں نرمی کی امیدیں غالب

عالمی منڈی میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) Crude Oil خام تیل کی قیمت منگل کے روز تقریباً 99.60 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔ جو دن بھر میں 2.30 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ کمی چار روزہ مسلسل اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ کیونکہ سرمایہ کاروں نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کے اشاروں پر ردعمل دیا۔

ٹرمپ کے بیان نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا

رپورٹس کے مطابق Donald Trump نے اپنے قریبی مشیروں کو عندیہ دیا ہے۔ کہ وہ ایران کے خلاف جاری مہم کو روکنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ چاہے Strait of Hormuz جزوی طور پر بند ہی کیوں نہ رہے۔

اس خبر نے مارکیٹ میں فوری ردعمل پیدا کیا، اور حالیہ تیزی کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع محفوظ کرنا شروع کر دیا، جس سے قیمتوں میں کمی آئی۔

سپلائی خدشات اب بھی برقرار

اگرچہ قیمتوں میں حالیہ کمی دیکھی گئی ہے، ماہرین کا کہنا ہے۔ کہ یہ عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ Strait of Hormuz کی مکمل بحالی کے بغیر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی مشکل ہے۔

کسی بھی قسم کی بحری رکاوٹ یا سیکیورٹی خدشات تیل کی قیمتوں میں “جیو پولیٹیکل رسک پریمیم” کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

خلیج میں سیکیورٹی صورتحال بدستور نازک

حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران نے Dubai کے قریب ایک کویتی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔ جس سے توانائی سپلائی کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

مزید برآں، ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ نے بھی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔ جس سے Red Sea میں جہاز رانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ریبونک کی وارننگ: تیل 140 ڈالر تک جا سکتا ہے

Rabobank کے تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی سب سے بڑی وجہ اب بھی جیو پولیٹیکل کشیدگی ہے۔

بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر Red Sea میں حملے مزید بڑھتے ہیں۔ اور سپلائی متاثر ہوتی ہے، تو تیل کی قیمت 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

امریکہ میں مہنگائی پر دباؤ بڑھ گیا

توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صارفین تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ Reuters کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں پیٹرول کی اوسط قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے۔ جو تین سال بعد پہلی بار ہوا ہے۔

یہ صورتحال امریکی عوام کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے ہی مہنگائی بلند سطح پر ہے۔

سیاسی دباؤ اور آئندہ انتخابات

ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ United States میں ایک اہم سیاسی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے قبل۔

حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرے، کیونکہ بڑھتی مہنگائی عوامی بجٹ کو متاثر کر رہی ہے۔

API رپورٹ پر مارکیٹ کی نظریں

اب سرمایہ کاروں کی توجہ American Petroleum Institute کی ہفتہ وارcrude Oil  خام تیل اسٹاک رپورٹ پر مرکوز ہے، جو آج جاری ہوگی۔

مارکیٹ کو توقع ہے کہ اس بار تقریباً 1.3 ملین بیرل کی کمی (draw) سامنے آئے گی، جبکہ گزشتہ ہفتے 2.3 ملین بیرل کا اضافہ ہوا تھا۔ یہ ڈیٹا قلیل مدتی قیمتوں کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

خلاصہ

Oil تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی وقتی ہو سکتی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ Strait of Hormuz اور Red Sea جیسے اہم راستوں میں کسی بھی رکاوٹ سے قیمتیں دوبارہ اوپر جا سکتی ہیں۔

آنے والے دنوں میں جیو پولیٹیکل صورتحال اور API رپورٹ دونوں مارکیٹ کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button