آبنائے ہرمز کی بندش اور چین کی حکمت عملی: کیا بیجنگ توانائی کے بحران سے بچ سکتا ہے؟
EV Boom, Strategic Reserves, and Diversified Oil Imports Reshape China’s Energy Future
دنیا میں تیل کی تجارت کے لیے سب سے اہم راستہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) ہے، اور China اس راستے سے تیل درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کبھی یہ راستہ بند ہو جاتا ہے. تو چین اپنے پڑوسی ممالک (جیسے بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا) کے مقابلے میں اس بحران یعنی Energy Crisis کو بہتر طریقے سے جھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چین کی توانائی کی حفاظت (Energy Security) کے لیے دہائیوں سے جاری پالیسیوں نے اسے ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا کر دیا ہے. جہاں وہ غیر ملکی تیل پر اپنا انحصار تیزی سے کم کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق چین کی تیل کی طلب جلد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ کر کم ہونا شروع ہو جائے گی، جو کہ عالمی Oil Market کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہو گی۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں چین نہ صرف خود کو محفوظ بنا رہا ہے. بلکہ عالمی توانائی کے توازن کو بھی تبدیل کر رہا ہے۔
آخرکار، China Energy Strategy صرف ایک دفاعی پالیسی نہیں بلکہ ایک جارحانہ اقتصادی حکمت عملی ہے، جو چین کو نہ صرف Strait Of Hormuz جیسے جغرافیائی خطرات اور Energy Crisis سے بچاتی ہے بلکہ اسے مستقبل کی توانائی سپر پاور بھی بناتی ہے۔
کلیدی نکات (Key Points)
-
الیکٹرک گاڑیوں کا انقلاب: China میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی فروخت اتنی بڑھ گئی ہے. کہ تیل کی طلب اپنی بلند ترین سطح (Peak) پر پہنچ کر اب کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔
-
تیل کے ذخائر کی حکمت عملی: چین کے پاس "اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو” میں اتنا تیل موجود ہے کہ وہ کئی ماہ تک آبنائے ہرمز کی بندش اور Energy Crisis کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
-
سپلائی میں تنوع: جاپان کے برعکس، جو 80% تیل صرف دو ملکوں سے لیتا ہے. چین نے اپنے سپلائرز کو پوری دنیا میں پھیلا رکھا ہے. جس میں روس اور ایران شامل ہیں۔ یعنی چین کسی ایک ملک اور خطے پر مکمل انحصار نہیں کرتا.
-
مضبوط بجلی کا نظام: چین کا پاور گرڈ زیادہ تر کوئلے اور متبادل توانائی (Renewables) پر چلتا ہے. جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار کے لیے وہ درآمدی گیس یا تیل کا محتاج نہیں ہے۔
کیا China آبنائے ہرمز کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟
China نے پچھلی دو دہائیوں میں اپنی توانائی کی پالیسی کو اس طرح ترتیب دیا ہے. کہ وہ سمندری راستوں پر اپنا انحصار کم کر سکے۔ الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے فروغ، مقامی کوئلے کے استعمال، اور روس جیسے ممالک سے پائپ لائن کے ذریعے تیل و گیس کی سپلائی نے چین کو ایک "انرجی شیلڈ” فراہم کر دی ہے. جو اسے کسی بھی بڑے جغرافیائی سیاسی (Geopolitical) بحران میں محفوظ رکھ سکتی ہے۔
سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (CREA) کے مطابق، گزشتہ سال الیکٹرک گاڑیوں کی وجہ سے جتنے تیل کی بچت ہوئی. وہ اس مقدار کے برابر ہے جو China سعودی عرب سے درآمد کرتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے. کیونکہ اب چین کی معاشی ترقی کا پہیہ غیر ملکی تیل کے بجائے ملکی بجلی پر چل رہا ہے۔
مارکیٹ میں 10 سالہ تجربے کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے، خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں تیزی آتی ہے اور Energy Crisis پیدا ہو جاتا ہے ۔ لیکن حالیہ برسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ چین کی طرف سے "ڈیمانڈ سائیڈ” پر جو تبدیلیاں آئی ہیں، انہوں نے قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ کو جذب کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب ٹریڈرز صرف سپلائی نہیں دیکھتے. بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بیجنگ کتنی تیزی سے اپنی ٹرانسپورٹیشن کو بجلی پر منتقل کر رہا ہے۔
China کا بجلی کا نظام (Electricity Grid) کتنا محفوظ ہے؟
چین کی بجلی کی پیداوار کا زیادہ تر انحصار مقامی کوئلے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی متبادل توانائی (Renewable Energy) یعنی شمسی اور بادی توانائی (Solar and Wind) پر ہے۔ چین ہر سال اتنی نئی ونڈ اور سولر پاور سسٹم میں شامل کر رہا ہے کہ اس کی معیشت کی اضافی بجلی کی ضرورت انہی سے پوری ہو رہی ہے۔
اس کا فائدہ یہ ہے کہ چین کو بجلی بنانے کے لیے مہنگی درآمدی گیس (LNG) پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے برعکس، چین کے ساحلی صوبوں میں بھی بجلی کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن کے بجائے مقامی ذرائع سے آتا ہے۔
| انرجی سورس | چین کا انحصار | مارکیٹ اثر |
| کوئلہ | بہت زیادہ (مقامی) | سپلائی چین مستحکم رہتی ہے |
| شمسی/بادی توانائی | عالمی لیڈر | درآمدی اخراجات میں کمی |
| درآمدی گیس (LNG) | کم ہوتا جا رہا ہے | عالمی قیمتوں سے کم متاثر |
تیل کے سپلائرز میں تنوع (Diversification): China کی سمارٹ حکمت عملی
China ایک بڑا امپورٹر ضرور ہے، لیکن وہ کسی ایک ملک کے رحم و کرم پر نہیں ہے۔ مثال کے طور پر جاپان اپنی ضرورت کا 80% تیل صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے لیتا ہے۔ اس کے برعکس، چین نے اپنی سپلائی کو 8 ممالک میں تقسیم کر رکھا ہے۔
چین ان ممالک سے بھی تیل خریدتا ہے جن پر امریکہ نے پابندیاں لگا رکھی ہیں. جیسے کہ ایران، وینزویلا اور روس۔ یہ تیل نہ صرف اسے سستا ملتا ہے بلکہ یہ ان ممالک سے آتا ہے جو مغربی دباؤ میں آکر سپلائی بند نہیں کریں گے۔ یہ حکمت عملی اسے عالمی سطح پر کسی بھی بڑے Energy Crisis سے بچاتی ہے.
مقامی پیداوار اور پائپ لائنز کا کردار
اگرچہ China کے اپنے تیل کے کنویں پرانے ہو رہے ہیں، لیکن اس نے گیس کی مقامی پیداوار میں ریکارڈ اضافے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، روس اور وسطی ایشیا سے آنے والی گیس پائپ لائنز نے سمندری راستوں کی اہمیت کو کم کر دیا ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں ‘رسک مینجمنٹ’ (Risk Management) کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ اپنے تمام انڈے ایک ٹوکری میں نہ رکھیں۔ چین نے Energy Crisis کے معاملے میں بالکل یہی کیا ہے۔ پائپ لائنز کے ذریعے سپلائی کو محفوظ بنا کر انہوں نے سمندری ‘چوک پوائنٹس’ (Choke Points) جیسے آبنائے ملاکا اور ہرمز کے خطرے کو بڑی حد تک محدود کر دیا ہے۔
مستقبل کی تصویر: "انرجی رائس باؤل”
چین کے سرکاری اخبارات اب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک کا "توانائی کا پیالہ” (Energy Rice Bowl) ان کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بیجنگ اب اس پوزیشن میں ہے. کہ وہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے بڑے جھٹکوں اور Energy Crisis کو برداشت کر سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، China میں تیل کی طلب رواں سال اپنی بلند ترین سطح کو چھو لے گی. اور اس کے بعد اس میں کمی آنے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں چین کی معیشت عالمی تیل کی قیمتوں کی غلام نہیں رہے گی۔
حرف آخر.
China کی توانائی کی حفاظت (Energy security) اب محض ایک نظریہ نہیں. بلکہ ایک حقیقت بن چکی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے انقلاب، متنوع سپلائی چین، اور بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی نے چین کو آبنائے ہرمز جیسی حساس گزرگاہوں کے خطرات سے کافی حد تک محفوظ کر دیا ہے۔ اگرچہ مکمل طور پر تیل سے چھٹکارا پانا ابھی ممکن نہیں. لیکن چین نے خود کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے. جہاں وہ کسی بھی عالمی بحران میں اپنے پڑوسیوں سے بہتر حالت میں ہوگا۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک کو بھی چین کی طرح اپنی توانائی کی پالیسی میں تیزی سے تبدیلی لانی چاہیے. یا الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی ابھی ایک دور کا خواب ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Source: Reuters News Agency Reuters | Breaking International News & Views
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



