جنگ کے سائے میں Iranian Rial کی اڑان، PKR کے مقابلے میں 400 فیصد اضافہ.

Speculation, Sanctions Relief Hopes and Strait of Hormuz Strategy Drive Currency Boom

*عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کسی ملک پر جنگ مسلط ہوتی ہے یا وہ کسی مسلح تنازع کا شکار ہوتا ہے. تو اس کی کرنسی شدید دباؤ کا شکار ہو کر اپنی قدر کھو دیتی ہے۔ تاہم،  پاک-ایران کرنسی مارکیٹ میں ایک بالکل الٹ رجحان (Inverted Trend) دیکھنے میں آیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران پر حملوں کے باوجود، پاکستانی روپے (PKR) کے مقابلے میں Iranian Rial (IRR) کی قدر میں حیرت انگیز طور پر 400 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عام شہریوں بلکہ تجربہ کار سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

ایران کا ایک اور اہم قدم Strait of Hormuz سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنا ہے. اور خاص طور پر ادائیگی کو Iranian Rial اور چینی کرنسی میں لازمی قرار دینا ایک گیم چینجر ثابت ہوا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف ریال کی طلب بڑھائی بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک اسٹریٹجک کرنسی کے طور پر بھی نمایاں کیا۔

اس مضمون میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے کہ وہ کون سے معاشی اور نفسیاتی عوامل ہیں. جنہوں نے ایک جنگ زدہ ماحول میں Iranian Rial کو "ڈیڈ کرنسی” سے نکال کر ایک منافع بخش اثاثہ (Profitable Asset) بنا دیا ہے۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • قیمت میں غیر معمولی اضافہ: جنگ سے پہلے ایک کروڑ ایرانی ریال 2500 پاکستانی روپے میں دستیاب تھے. جو اب بڑھ کر 10,000 روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

  • قیاس آرائیاں (Speculation): سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران پر سے بین الاقوامی پابندیاں (Sanctions) ہٹ جائیں گی، جس سے Iranian Rial مزید مضبوط ہوگا۔

  • آبنائے ہرمز کا ٹول ٹیکس: ایران کی جانب سے بحری جہازوں سے ریال اور چینی یوآن میں ٹول ٹیکس وصول کرنے کے فیصلے نے کرنسی کی طلب (Demand) بڑھا دی ہے۔

  • سرمایہ کاری کا نیا رجحان: پاکستانی مارکیٹ میں لوگ مستقبل کے بھاری منافع کی توقع میں Iranian Rial کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں۔

Iranian Rial کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

Iranian Rial کی قدر میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ مارکیٹ میں موجود یہ قیاس آرائی ہے. کہ موجودہ جنگ کا خاتمہ ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ جب سرمایہ کار یہ محسوس کرتے ہیں کہ کسی ملک کی کرنسی اپنی کم ترین سطح (Rock Bottom) پر پہنچ چکی ہے. اور مستقبل میں حالات بہتر ہونے والے ہیں، تو وہ اسے سستے داموں خرید کر ذخیرہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی "فیوچر ڈیمانڈ” نے ریال کی قیمت کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں چار گنا بڑھا دیا ہے۔

کیا ایران پر سے پابندیاں ہٹنے والی ہیں؟

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ECAP) کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق، مارکیٹ میں یہ تاثر عام ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال (Geopolitical Situation) کے بعد عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ نئے معاہدوں کی طرف جا سکتی ہیں۔

ایک فاریکس سٹریٹجسٹ کے طور پر میں نے دیکھا ہے کہ مارکیٹ ہمیشہ "خبر پر ردعمل” دینے کے بجائے "امید پر ٹریڈ” کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے 2015 کے نیوکلیئر ڈیل کے وقت ریال میں عارضی استحکام آیا تھا. موجودہ سرمایہ کار بھی اسی طرح کے کسی بڑے بریک تھرو کی امید میں "باٹم فشنگ” کر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور ٹول ٹیکس کا اثر

ایران نے حال ہی میں ایک اسٹریٹجک چال چلی ہے جس نے عالمی سطح پر Iranian Rial کی اہمیت کو اچانک بڑھا دیا ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو اب 20 لاکھ ڈالر تک کا ٹول ٹیکس (Toll Tax) ایرانی ریال یا چینی یوآن (CNY) میں ادا کرنا ہوگا۔

اس اقدام سے ریال کیوں مضبوط ہوا؟

  1. لازمی طلب (Mandatory Demand): جب جہاز ران کمپنیوں کو ٹول ادا کرنے کے لیے ریال کی ضرورت پڑتی ہے، تو وہ عالمی مارکیٹ سے ریال خریدتی ہیں۔

  2. ڈالر پر انحصار میں کمی: اس فیصلے سے پیٹرو ڈالر (Petrodollar) کے غلبے کو چیلنج ملا ہے اور ریال ایک "استعمال ہونے والی کرنسی” (Utility Currency) کے طور پر ابھرا ہے۔

  3. چین کے ساتھ گٹھ جوڑ: یوآن میں ادائیگیوں کی اجازت نے ایران کے مالیاتی نظام کو ایک سہارا فراہم کیا ہے، جس سے مارکیٹ کا اعتماد بحال ہوا ہے۔

پاکستانی مارکیٹ میں Iranian Rial کی ڈیمانڈ اور سپلائی

پاکستان میں کرنسی ایکسچینج ڈیلرز کے مطابق، عام لوگ اب ڈالر اور پاؤنڈ کے ساتھ ساتھ ایرانی ریال میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔

دورانیہ ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمت (PKR) فیصد اضافہ
جنگ سے پہلے 2,500 روپے 0%
موجودہ صورتحال 10,000 روپے 400%

یہ ٹیبل واضح کرتا ہے کہ Iranian Rial اب صرف ایک کرنسی نہیں بلکہ ایک "انویسٹمنٹ پراڈکٹ” بن چکا ہے۔ لوگ چھوٹی رقم سے بڑی مقدار میں ریال خرید کر اس امید پر رکھ رہے ہیں. کہ جب ایران کے حالات مکمل طور پر نارمل ہوں گے. تو یہ 10 ہزار روپے کی سرمایہ کاری لاکھوں میں بدل سکتی ہے۔

کیا Iranian Rial میں سرمایہ کاری محفوظ ہے؟ (Risk Assessment)

اگرچہ 400 فیصد اضافہ پرکشش نظر آتا ہے، لیکن ایک ماہرِ مالیات کے طور پر ہمیں اس کے خطرات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ Iranian Rial کی موجودہ قیمت زیادہ تر "سینٹیمنٹ ڈریون” (Sentiment-driven) ہے، یعنی یہ ٹھوس معاشی اعداد و شمار کے بجائے عوامی جذبات اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔

ممکنہ خطرات (Potential Risks):

  • جنگ کی طوالت: اگر جنگ توقع سے زیادہ طویل ہو گئی یا اس کا دائرہ کار پھیل گیا. تو ریال دوبارہ کریش کر سکتا ہے۔

  • بلیک مارکیٹ کا اثر: ایران میں آفیشل ریٹ اور اوپن مارکیٹ ریٹ میں بڑا فرق ہوتا ہے. جو سرمایہ کاروں کے لیے رسک بڑھا دیتا ہے۔

  • سیاسی عدم استحکام: پابندیاں نہ ہٹنے کی صورت میں Iranian Rial اپنی قدر تیزی سے کھو سکتا ہے۔

میں نے اپنے 10 سالہ کیریئر میں دیکھا ہے کہ جب کوئی کرنسی اتنی تیزی سے بڑھتی ہے. تو اس میں "پمپ اینڈ ڈمپ” (Pump and Dump) کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔ ریٹیل سرمایہ کاروں کو چاہیے. کہ وہ اپنی کل جمع پونجی ایسی غیر مستحکم کرنسیوں میں نہ لگائیں. بلکہ صرف وہ رقم لگائیں جس کے ڈوبنے کا غم نہ ہو۔

مستقبل کا منظرنامہ: کیا ریال مزید مہنگا ہوگا؟

آنے والے مہینوں میں ایرانی ریال کی قدر کا انحصار دو اہم چیزوں پر ہوگا.

  1. سفارتی مذاکرات: اگر ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان بیک ڈور چینل سے مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں۔

  2. تیل کی تجارت: اگر ایران اپنا تیل چینی یوآن یا دیگر مقامی کرنسیوں میں زیادہ مقدار میں بیچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

اگر یہ دونوں عوامل سازگار رہے، تو ماہرین کا خیال ہے کہ ریال کی قدر پاکستانی روپے کے مقابلے میں مزید 100 سے 200 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ لیکن یاد رہے، فاریکس مارکیٹ میں "ماضی کی کارکردگی مستقبل کے منافع کی ضمانت نہیں ہوتی”۔

حرف آخر.

پاکستانی روپے کے مقابلے میں Iranian Rial کا 400 فیصد اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ عالمی مارکیٹس. میں صرف جنگ کے بادل ہی قیمتیں طے نہیں کرتے، بلکہ تزویراتی فیصلے (Strategic Decisions) اور سرمایہ کاروں کی نفسیات زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ آبنائے ہرمز کا ٹول ٹیکس اور پابندیاں ہٹنے کی امید نے ریال کو ایک نئی زندگی بخشی ہے۔

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ایرانی ریال میں سرمایہ کاری اس وقت ایک عقلمندانہ فیصلہ ہے. یا یہ صرف ایک عارضی بلبلہ (Bubble) ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

Source: | Associated Press Of Pakistan

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button