Crypto Market میں تیزی یا محض ایک عارضی ابھال؟ ڈیریویٹوز ڈیٹا اور ٹرمپ کے بیانات کے اثرات.
Weak Derivatives Signals Raise Questions Over Bitcoin and Ether Rally Strength
Crypto Market میں بدھ کے روز ایک نئی روح پھونک دی گئی، جب بٹ کوائن (Bitcoin) اور ایتھریم (Ethereum) سمیت کئی بڑے الٹ کوائنز (Altcoins) کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس تیزی کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان بنا جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے جلد خاتمے کی نوید سنائی۔
اس بیان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل (Crude Oil) کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے گر گئیں. جس نے سرمایہ کاروں کو رسک والے اثاثوں (Risk Assets) کی طرف راغب کیا۔ لیکن کیا یہ تیزی پائیدار ہے؟ ڈیریویٹوز مارکیٹ (Derivatives Market) کا ڈیٹا کچھ اور ہی کہانی سنا رہا ہے۔
اہم نکات (Key +Takeaways)
-
تیزی کی وجہ: صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی نے Crypto Market میں خریداری کا رجحان پیدا کیا۔
-
بٹ کوائن اور ایتھریم کی صورتحال: بٹ کوائن 68,500 ڈالر کی سطح پر مستحکم ہے. جبکہ ایتھریم دوبارہ 2,100 ڈالر سے اوپر آگیا ہے۔
-
کمزور عزم (Weak Conviction): فیوچرز مارکیٹ میں اوپن انٹرسٹ (Open Interest) کا مستحکم رہنا ظاہر کرتا ہے. کہ یہ ریلی لیوریجڈ ٹریڈرز کے بجائے شارٹ کورنگ (Short Covering) کی وجہ سے ہے۔
-
الٹ کوائنز کی کارکردگی: الگورینڈ (ALGO) اور ڈیفائی (DeFi) ٹوکنز نے مارکیٹ کو لیڈ کیا. لیکن ایتھریم اور زی کیش (ZEC) میں زیادہ لیوریج خطرے کی گھنٹی ہے۔
-
مستقبل کا منظرنامہ: اگر سیاسی صورتحال میں تبدیلی آتی ہے. تو مارکیٹ میں دوبارہ بڑا پل بیک (Pullback) آ سکتا ہے۔
کیا Crypto Market کی حالیہ تیزی پائیدار ہے؟
حالیہ مارکیٹ ریلی بنیادی طور پر "اسپاٹ ڈیمانڈ” (Spot Demand) اور "شارٹ کورنگ” (Short Covering) پر مبنی ہے. نہ کہ طویل مدتی سرمایہ کاری پر۔ جب مارکیٹ میں حجم (Volume) بڑھے لیکن اوپن انٹرسٹ (Open Interest) برقرار رہے. تو اس کا مطلب ہے کہ پرانے ٹریڈرز اپنی پوزیشنز بند کر رہے ہیں. اور نئے بڑے سرمایہ کار مارکیٹ میں داخل نہیں ہو رہے۔ لہذا، اسے ایک مضبوط ٹرینڈ (Strong Trend) کے بجائے ایک عارضی ریکوری (Technical Rebound) کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
ٹرمپ کے بیانات اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے Crypto Market پر اثرات.
بدھ کے روز عالمی فنانشل مارکیٹس میں اس وقت ہلچل مچی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا. کہ ایران میں جاری جنگ "دو سے تین ہفتوں” میں ختم ہو جائے گی۔ اس ایک بیان نے عالمی معیشت پر چھائے غیریقینی کے بادلوں کو کسی حد تک چھانٹ دیا۔
Crude Oil کی قیمتوں میں کمی کے نفسیاتی اثرات.
جیسے ہی خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے نیچے آئی، افراط زر (Inflation) کے خدشات کم ہوئے اور سرمایہ کاروں نے اپنا رخ محفوظ پناہ گاہوں (Safe Havens) سے ہٹا کر کرپٹو کرنسی جیسی مارکیٹس کی طرف کر لیا۔ بٹ کوائن جو کہ گزشتہ کئی دنوں سے $65,000 اور $75,000 کے درمیان پھنسا ہوا تھا، اس میں 3.1% کا اضافہ دیکھا گیا۔
میں نے اپنے 10 سالہ تجربے میں دیکھا ہے کہ جب بھی جیو پولیٹیکل حالات (Geopolitical events) کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں گرتی ہیں. تو مارکیٹ میں ‘ریلیف ریلی’ (Relief Rally) آتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں، ایسی ریلیاں اکثر جذباتی ہوتی ہیں. اور بنیادی حقائق (Fundamentals) سے عاری ہو سکتی ہیں۔
Derivatives Market کیا اشارہ دے رہی ہے؟
کسی بھی ٹرینڈ کی مضبوطی کو جانچنے کے لیے صرف قیمت کا دیکھنا کافی نہیں ہوتا. بلکہ ڈیریویٹوز ڈیٹا (Derivatives Data) کا تجزیہ ناگزیر ہے۔
اوپن انٹرسٹ (Open Interest) اور ٹریڈنگ والیم کا فرق
گزشتہ 24 گھنٹوں میں ٹریڈنگ والیم میں 23% اضافہ ہوا، جو تقریباً 210 ملین ڈالر تک جا پہنچا. لیکن اوپن انٹرسٹ 106 بلین ڈالر پر ہی رکا رہا۔
-
اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ مارکیٹ میں نئی پوزیشنز (New Longs) نہیں بن رہیں۔ بلکہ جن لوگوں نے پہلے سے سیل (Sell) کیا ہوا تھا. وہ قیمت بڑھنے کے خوف سے اپنی پوزیشنز کاٹ رہے ہیں (جسے ہم شارٹ کورنگ کہتے ہیں)۔
-
کمزور عزم (Weak Conviction): جب تک اوپن انٹرسٹ قیمت کے ساتھ اوپر نہیں جاتا. تب تک اس تیزی کو "انسٹی ٹیوشنل بائنگ” (Institutional Buying) نہیں کہا جا سکتا۔
ایتھریم (ETH) اور زی کیش (ZEC): کیا خطرہ بڑھ رہا ہے؟
جہاں بٹ کوائن میں تیزی کے پیچھے لیوریج کم ہے. وہیں ایتھریم اور زی کیش کی صورتحال مختلف ہے۔ ان دونوں کوائنز میں اوپن انٹرسٹ اور فنڈنگ ریٹ (Funding Rate) دونوں مثبت ہیں۔
زیادہ لیوریج کے نقصانات
اگر کسی اثاثے کی قیمت لیوریج (Leverage) کے ذریعے اوپر جا رہی ہو. تو وہاں "لیکویڈیشن کاسکیڈ” (Liquidation Cascade) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ٹرمپ کے بیان کے برعکس کوئی خبر آ گئی. تو یہ لیوریجڈ ٹریڈرز اپنی پوزیشنز سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے جس سے قیمتیں تیزی سے نیچے گر سکتی ہیں۔
Altcoins کا عروج: الگورینڈ (ALGO) اور ڈیفائی (DeFi) ٹوکنز
بدھ کے روز سب سے زیادہ حیران کن کارکردگی الٹ کوائنز کی رہی۔ الگورینڈ (ALGO) نے 22% کا غیر معمولی اضافہ دکھایا۔
بہترین کارکردگی دکھانے والے انڈیکس
-
CoinDesk Computing Select Index (CPUS): 2.7% اضافہ۔
-
DeFi Select Index (DFX): 1.5% اضافہ۔
-
CoinDesk 20 (CD20): صرف 0.69% اضافہ۔
یہ ڈیٹا بتاتا ہے کہ سرمایہ کار اب بڑی کرنسیوں کے بجائے ان چھوٹے پروجیکٹس میں دلچسپی لے رہے ہیں. جو "اوور سولڈ” (Oversold) زون میں تھے (یعنی جن کی قیمت ضرورت سے زیادہ گر چکی تھی)۔
تجزیہ کار کی رائے: طویل مدتی تناظر
کرپٹو مارکیٹ اکتوبر سے ایک ڈاؤن ٹرینڈ (Downtrend) میں ہے اور حالیہ دنوں میں $62,500 سے $75,000 کی رینج میں گھوم رہی ہے۔ جب تک بٹ کوائن اس رینج سے باہر نہیں نکلتا، تب تک اسے "بل رن” (Bull Run) کہنا قبل از وقت ہوگا۔
مارکیٹ کے شرکاء کا رویہ:
-
ریٹیل ٹریڈرز: الٹ کوائنز میں تیزی دیکھ کر پرجوش ہیں۔
-
انسٹی ٹیوشنل پلیئرز: تاحال خاموش ہیں اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں بڑے آرڈرز لگانے سے گریز کر رہے ہیں۔
اختتامیہ.
مجموعی طور پر، Crypto Market میں حالیہ بہتری خوش آئند ہے لیکن اس کے پیچھے ٹھوس بنیادوں کی کمی ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیان نے مارکیٹ کو وقتی سہارا تو دیا ہے، لیکن ڈیریویٹوز مارکیٹ میں "کمزور عزم” (Weak Conviction) اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹریڈرز اب بھی محتاط ہیں۔
بطور ایک تجربہ کار تجزیہ کار، میری رائے یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں "بریک آؤٹ” (Breakout) کا انتظار کرنا بہتر ہے۔ بغیر کسی واضح ٹرینڈ کے زیادہ لیوریج لینا خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (Volatility) ابھی ختم نہیں ہوا، لہذا اپنے رسک مینجمنٹ (Risk Management) پر توجہ دیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ٹرمپ کا بیان Crypto Market کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا. یا یہ محض ایک اور ‘ڈیڈ کیٹ باؤنس’ (Dead Cat Bounce) ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



