GBP/USD میں معمولی اضافہ، مگر مارکیٹ محتاط
GBP/USD کرنسی جوڑی جمعہ کے ایشیائی سیشن کے دوران 1.3230 کے قریب ہلکے اضافے کے ساتھ ٹریڈ کر رہی ہے۔ جبکہ گزشتہ روز معمولی کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ تاہم، عالمی مارکیٹوں میں سرگرمی محدود رہنے کا امکان ہے۔ کیونکہ Good Friday کی چھٹی کے باعث لیکویڈیٹی کم ہے۔
پاؤنڈ کو شرح سود میں اضافے کی توقعات سے سہارا
برطانوی پاؤنڈ (GBP) کو اس وقت سپورٹ مل رہی ہے کیونکہ سرمایہ کار Bank of England کی جانب سے 2026 میں شرح سود میں اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں اور مہنگائی کے خدشات اس توقع کو تقویت دے رہے ہیں۔
تاہم، Andrew Bailey نے حال ہی میں خبردار کیا کہ مارکیٹ کی توقعات شاید حد سے زیادہ ہیں۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینک محتاط حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے۔
ڈالر کو سیف ہیون طلب سے فائدہ
دوسری جانب، امریکی ڈالر (USD) کو سیف ہیون ڈیمانڈ کی وجہ سے سپورٹ مل رہی ہے۔ جس کے باعث GBP/USD کی اوپر کی سمت محدود رہ سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سرمایہ کاروں کو محفوظ اثاثوں کی طرف لے جا رہی ہے۔
امریکی صدر Donald Trump کے حالیہ بیانات نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ جن میں انہوں نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی وارننگ دی۔ اس کے جواب میں ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے سخت ردعمل دیا اور امریکی دباؤ کو مسترد کر دیا۔
تیل کی قیمتیں اور مہنگائی اہم عوامل
مزید برآں، تیل کی بڑھتی قیمتیں بھی عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ Federal Reserve کے عہدیدار Austan Goolsbee نے خبردار کیا کہ اگر پٹرول کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو مہنگائی پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔
GBP/USD آؤٹ لک
آنے والے دنوں میں GBP/USD کی سمت کا انحصار درج ذیل عوامل پر ہوگا:
مشرق وسطیٰ کی جیوپولیٹیکل صورتحال
Bank of England اور Federal Reserve کی پالیسیز
توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی کے رجحانات
کم لیکویڈیٹی اور بڑھتی غیر یقینی صورتحال کے باعث قلیل مدتی طور پر مارکیٹ میں بڑے اتار چڑھاؤ محدود رہنے کا امکان ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



