Global Stocks میں زبردست اُبھار، Iran War میں دو ہفتوں کی Ceasefire کا اعلان.
Relief Rally Boosts Crude Oil, Stocks, and Investor Confidence Amid Middle East Tensions
عالمی مارکیٹس کے لیے بدھ کا دن ایک بڑی خوشخبری لے کر آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی (Ceasefire) پر اتفاق ہوا۔ اس خبر کے منظرِ عام پر آتے ہی Global Stocks Rally on Trump-Iran Ceasefire کا آغاز ہو گیا.، جس نے گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری بے یقینی اور خوف کی فضا کو ختم کر دیا۔
اس معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے دوبارہ کھلنے کی امیدیں پیدا ہو گئیں. جو عالمی تیل اور گیس کی تجارت کا ایک حساس ترین راستہ ہے۔ یاد رہے کہ ایران نے اس اہم گزرگاہ کو بند کر رکھا تھا. جس کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ اس تحریر میں ہم اس جیو پولیٹیکل (Geopolitical) پیش رفت کے مارکیٹ پر اثرات، خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے Global Stocks میں آنیوالی ریلی ، اور مستقبل کے ممکنہ منظر ناموں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
جنگ بندی کا اعلان: صدر ٹرمپ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی صلح کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔
-
تیل کی قیمتوں میں کریش: سپلائی بحال ہونے کی امید پر خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں 23 فیصد تک کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
-
ڈالر کا بیک فٹ پر آنا: سرمایہ کاروں نے محفوظ اثاثوں (Safe Havens) سے پیسہ نکال کر رسک والے اثاثوں (Risk Assets) میں لگانا شروع کر دیا، جس سے ڈالر انڈیکس گر گیا۔
-
ایشیائی اور امریکی مارکیٹس میں تیزی: نکی (Nikkei) اور کوسپی (Kospi) جیسے انڈیکس 5 سے 6 فیصد تک بڑھے، جبکہ Wall Street Futures میں بھی 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی
جب بھی جغرافیائی سیاسی تناؤ (Geopolitical Tension) کم ہوتا ہے، مارکیٹ میں "ریلیف ریلی” (relief rally) آتی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا. ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے محض دو گھنٹے قبل ہونے والے اس Ceasefire نے سرمایہ کاروں کو سکون کا سانس لینے کا موقع دیا۔
Global Stocks میں اضافے کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کے کھلنے اور توانائی کی سپلائی لائنز بحال ہونے کی امید ہے۔ جب جنگ کا خطرہ ٹل جاتا ہے، تو سرمایہ کار سونا اور ڈالر چھوڑ کر اسٹاکس اور دیگر منافع بخش اثاثوں کی طرف رجوع کرتے ہیں. جس سے قیمتیں اوپر جاتی ہیں۔
امریکہ اور یورپ کا ردعمل
S&P 500 کے فیوچرز میں 2 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا. جبکہ یورپی مارکیٹ کے فیوچرز 4 فیصد تک اچھل گئے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مغرب میں سرمایہ کار توانائی کی قیمتوں میں کمی کو افراط زر (Inflation) کے خلاف ایک بڑی جیت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ایشیا میں ٹریڈنگ کا تعطل
جاپان کا Nikkei225 انڈیکس 5 فیصد بڑھا، جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی (Kospi) میں 6 فیصد کے غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ٹریڈنگ کو عارضی طور پر روکنا (trading halt) پڑا۔

مارکیٹ میں جب اس طرح کی اچانک خبر آتی ہے، تو بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کار (Institutional Investors) اپنی شارٹ پوزیشنز کو کور کرنے کے لیے تیزی سے خریداری کرتے ہیں۔ اسے ‘شارٹ اسکوئیز’ (Short Squeeze) کہا جاتا ہے. اور ایسی صورتحال میں عام ریٹیل ٹریڈر کو فوری انٹری لینے کے بجائے مارکیٹ کے مستحکم ہونے کا انتظار کرنا چاہیے. کیونکہ ابتدائی تیزی کے بعد اکثر پرافٹ ٹیکنگ دیکھی جاتی ہے
تیل اور گیس کی قیمتوں پر اثرات (Impact on Oil and Gas Prices)
آبنائے ہرمز دنیا کے کل تیل اور گیس کے بہاؤ کا تقریباً 20 فیصد کنٹرول کرتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس راستے کو چوک (choke) کرنے کے بعد خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔
تیل کی قیمتوں میں حالیہ تبدیلی کا موازنہ
| کموڈٹی (Commodity) | قیمت میں کمی (Percentage Drop) | موجودہ قیمت (Current Price) |
| امریکی خام تیل (WTI Crude) | 16% | $94.59 |
| برینٹ کروڈ (Brent Crude) | 15% | $92.35 |
یہ کمی پچھلے چھ ہفتوں سے جاری توانائی کے بحران کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ سپلائی چین (Supply Chain) مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے. تو عالمی افراطِ زر (Global Inflation) کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔
کرنسی مارکیٹ اور ڈالر کی صورتحال (Forex Market & US Dollar)
عام طور پر جنگ کے حالات میں امریکی ڈالر کو ایک "سیف ہیون” (Safe Haven) سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی جنگ بندی کا اعلان ہوا. ڈالر کی طلب میں کمی آگئی۔
ڈالر انڈیکس (DXY) کیوں گرا؟
سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے پر انہوں نے ڈالر فروخت کر کے آسٹریلوی ڈالر (AUD) اور یورو (EUR) جیسی کرنسیوں میں دلچسپی دکھائی۔ آسٹریلوی ڈالر 1.3 فیصد بڑھ کر $0.7070 سے اوپر نکل گیا. جبکہ یورو میں 0.76 فیصد اضافہ ہوا۔
بانڈ مارکیٹ اور سونا
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح سود (yield) گر کر 4.261% پر آگئی۔ حیرت انگیز طور پر سونے (Gold) کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ $4,812 فی اونس تک پہنچ گیا۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ کچھ سرمایہ کار اب بھی مستقبل کے حوالے سے محتاط ہیں اور مکمل طور پر خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہیں۔
بانڈ مارکیٹ اور سونا
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح سود (yield) گر کر 4.261% پر آگئی۔ حیرت انگیز طور پر سونے (Gold) کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ دیکھا گیا. اور یہ $4,812 فی اونس تک پہنچ گیا۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ کچھ سرمایہ کار اب بھی مستقبل کے حوالے سے محتاط ہیں. اور مکمل طور پر خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہیں۔
کیا Global Stocks میں آنیوالی یہ تیزی برقرار رہے گی؟
مالیاتی ماہرین (Financial Analysts) اس وقت دو گروہوں میں تقسیم ہیں۔ ایک گروہ Global Stocks میں آنیوالی اس ریلی صرف عارضی ریلیف قرار دے رہا ہے. جبکہ دوسرا اسے طویل مدتی استحکام کی شروعات سمجھتا ہے۔
یہ ریلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک انشورنس کمپنیاں اور ٹینکر آپریٹرز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ اگر دو ہفتوں کے اندر کوئی مستقل حل نہ نکلا، تو مارکیٹ دوبارہ گراوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔
ماہرین کی رائے (Expert Opinions)
ویسٹ پیک (Westpac) کے مارکیٹ اسٹریٹجسٹ مارٹن وائٹن کے مطابق، لوگ ابھی تک نیا خطرہ (New Risk) لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک مستقل امن قائم نہیں ہوتا، مارکیٹ میں بڑی سرمایہ کاری نہیں آئے گی۔ دوسری طرف ساکسو (Saxo) کی چارو چانانہ کا خیال ہے. کہ اصل امتحان اگلے دو ہفتوں میں ہونے والے مذاکرات ہوں گے۔
ٹرمپ کا ‘سخت لہجہ’ اور اچانک تبدیلی
صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ انتہائی غیر متوقع تھا۔ جنگ بندی سے چند گھنٹے قبل ان کے سوشل میڈیا بیانات انتہائی جارحانہ تھے. جہاں انہوں نے "ایک پوری تہذیب کے خاتمے” کی دھمکی دی تھی۔ تاہم، آخری لمحات میں لچک دکھانا ان کی مخصوص "ڈیل میکنگ” (Deal-Making) حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
مارکیٹ کے تجربہ کار کھلاڑی جانتے ہیں کہ ٹرمپ کی جیو پولیٹیکل چالیں اکثر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (Volatility) پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ اس قسم کی صورتحال میں ٹریڈرز کو "ہیڈ لائن رسک” (Headline Risk) کا سامنا رہتا ہے. جہاں ایک ٹویٹ پوری مارکیٹ کا رخ بدل سکتا ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے مشورے اور حکمت عملی.
اگر آپ فاریکس یا اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کر رہے ہیں، تو اس صورتحال میں درج ذیل نکات پر عمل کریں:
-
تیل کی قیمتوں پر نظر رکھیں: اگر WTI کروڈ $90 کی سطح سے نیچے برقرار رہتا ہے. تو یہ ایئر لائنز اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے اسٹاکس کے لیے مثبت ہوگا۔
-
ڈالر انڈیکس کی مانیٹرنگ: ڈالر انڈیکس کا 99.00 سے نیچے جانا ابھرتی ہوئی مارکیٹوں (Emerging Markets) کے لیے اچھا شگون ہے۔
-
محتاط سرمایہ کاری: چونکہ یہ جنگ بندی صرف دو ہفتوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی پوزیشنز کو بہت زیادہ لیوریج (Leverage) نہ دیں، کیونکہ کوئی بھی منفی خبر مارکیٹ کو دوبارہ گرا سکتی ہے۔
حرف آخر.
صدر ٹرمپ اور ایران کے درمیان ہونے والی یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی عالمی معیشت اور Global Stocks کے لیے ایک آکسیجن کی طرح ثابت ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز کا ممکنہ طور پر کھلنا اور تیل کی قیمتوں میں 16 فیصد کی کمی عالمی افراط زر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم، جیسا کہ دولت مشترکہ بینک (CBA) کی ماہر کیرول کانگ نے خبردار کیا ہے. تنازع کے بنیادی اسباب ابھی تک حل طلب ہیں۔
سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اس "کی Global Stocks ریلیف ریلی” سے فائدہ ضرور اٹھائیں. لیکن اپنی نظریں انشورنس کمپنیوں کے فیصلوں اور ٹینکرز کی نقل و حرکت پر رکھیں۔ کیا یہ صرف ایک عارضی خاموشی ہے یا ایک نئے دور کا آغاز؟ یہ فیصلہ اگلے چودہ دن کریں گے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ جنگ بندی ایک مستقل امن میں بدل سکے گی یا یہ محض طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



