Bitcoin کی تاریخی اڑان، امریکہ-ایران جنگ بندی کے Crypto Market پر اثرات

Oil Crash, Stock Futures Surge and Crypto Explosion Signal New Risk-On Era

منگل کی رات عالمی مالیاتی مارکیٹس  کے لیے ایک تاریخی موڑ ثابت ہوئی جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی (Ceasefire) کے اعلان نے "رِسک آن” (Risk-on) اثاثوں میں نئی جان پھونک دی۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں Impact of US-Iran Ceasefire on Bitcoin and Crypto Markets واضح طور پر مثبت رہا.

جہاں بٹ کوائن نے 72,700 ڈالر کی سطح کو چھو لیا اور امریکی اسٹاک فیوچرز میں زبردست تیزی دیکھی گئی.۔ دوسری جانب، سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات ختم ہونے پر خام تیل کی قیمتیں 15 فیصد سے زائد گر کر 90 ڈالر فی بیرل پر آ گئیں۔

اہم نکات

  • Bitcoin کی ریکارڈ پرواز: جنگ بندی کے اعلان کے بعد بٹ کوائن 5 فیصد اضافے کے ساتھ 72,700 ڈالر تک پہنچ گیا۔

  • تیل کی قیمتوں میں کریش: عالمی مارکیٹ میں خام تیل (WTI Crude) 10 فیصد سستا ہو کر 95 ڈالر پر آگیا۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی: S&P 500 اور Nasdaq فیوچرز میں بالترتیب 1.9% اور 2.2% کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  • شارٹ اسکوئیز (Short Squeeze): تقریباً 600 ملین ڈالر مالیت کی شارٹ پوزیشنز لیکویڈیٹ ہوئیں. جس نے قیمتوں کو مزید اوپر دھکیلا۔

  • عارضی استحکام: آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے دوبارہ کھلنے کے امکانات نے عالمی تجارت کی امیدیں روشن کر دیں۔

کیا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مستقل امن کی طرف پہلا قدم ہے؟

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔ صدر ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل” (Truth Social) پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ فوجی اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں. اور اب توجہ طویل مدتی امن (Long-term Peace) پر ہے۔

اس اعلان کا براہ راست اثر سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑا۔ جب بھی جیو پولیٹیکل (Geopolitical) تناؤ کم ہوتا ہے. سرمایہ کار سونا یا ڈالر جیسے "سیف ہیون” (Safe Haven) اثاثوں سے نکل کر Bitcoin اور اسٹاکس جیسے زیادہ منافع بخش اثاثوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ ایران نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حملے بند رہے تو وہ اپنی دفاعی کارروائیاں روک دے گا اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو مربوط طریقے سے بحال کیا جا سکتا ہے۔

Donald Trump's message about US Iran Ceasefire with Pakistan's Mediation
Donald Trump’s message about US Iran Ceasefire with Pakistan’s Mediation

Bitcoin  نے 72,000 ڈالر کی سطح کیوں عبور کی؟

Bitcoin کی قیمت میں حالیہ اضافے کی سب سے بڑی وجہ غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہے۔ پچھلے ایک ماہ سے مارکیٹ پر ایران-امریکہ جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، جس کی وجہ سے بٹ کوائن ایک مخصوص حد (Range) میں پھنسا ہوا تھا۔

Bitcoin اور مارکیٹ کے ردعمل کا فوری خلاصہ

Bitcoin کی قیمت 72,699 ڈالر تک پہنچنا اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ نے جنگ بندی کو معاشی ترقی کے لیے ایک بڑا موقع قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘کوائن ڈیسک 20 انڈیکس’ میں بھی 5 فیصد اضافہ ہوا. جو ظاہر کرتا ہے کہ صرف Bitcoin ہی نہیں بلکہ دیگر آلٹ کوائنز (Altcoins) بھی اس لہر سے مستفید ہو رہے ہیں۔

میں نے 2020 کے مارکیٹ کریش اور اس کے بعد کی ریکوری کے دوران دیکھا ہے. کہ جب بھی کوئی بڑی جیو پولیٹیکل رکاوٹ دور ہوتی ہے، تو مارکیٹ ‘کائلڈ اسپرنگ’ (Coiled Spring) کی طرح ری ایکٹ کرتی ہے۔ شارٹ سیلرز جو اس امید پر بیٹھے ہوتے ہیں. کہ حالات خراب ہوں گے، وہ اچانک پھنس جاتے ہیں. اور ان کا اپنی پوزیشنز کو کلوز کرنا قیمت کو راکٹ کی طرح اوپر لے جاتا ہے۔

Bitcoin Price as on 8th April 2026
Bitcoin Price as on 8th April 2026

خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں 10 فیصد کمی کی وجہ کیا ہے؟

جیسے ہی جنگ بندی کی خبر آئی، خام تیل کی قیمتوں میں "فری فال” (Free Fall) دیکھا گیا۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) اور برینٹ آئل دونوں میں 10 فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔

: تیل کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجہ "رسک پریمیم” (Risk Premium) کا ختم ہونا ہے۔ جب جنگ کا خطرہ ہوتا ہے، تو تاجر اس خوف سے تیل خریدتے ہیں کہ سپلائی بند ہو جائے گی۔ جنگ بندی کے بعد، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے دوبارہ کھلنے کی امید نے سپلائی کے خدشات ختم کر دیے. جس سے قیمتیں 95 ڈالر تک گر گئیں۔

اثاثہ (Asset) تبدیلی (Change) نئی قیمت (Current Price)
بٹ کوائن (BTC) +5% $72,700
خام تیل (WTI Oil) -10.5% $95.00
S&P 500 فیوچرز +1.9%
نیسڈیک (Nasdaq) +2.2%

Crypto Futures میں 600 ملین ڈالر کی لیکویڈیشن کا کیا مطلب ہے؟

مارکیٹ میں جب تیزی آئی تو ان تاجروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا جنہوں نے قیمتیں گرنے پر شرط لگائی تھی (Short Sellers)۔ اعداد و شمار کے مطابق.

  1. مجموعی طور پر 600 ملین ڈالر کی پوزیشنز ختم ہوئیں۔

  2. ان میں سے 400 ملین ڈالر سے زائد صرف "شارٹ” پوزیشنز تھیں۔

  3. اس عمل کو مالیاتی زبان میں شارٹ اسکوئیز (Short Squeeze) کہا جاتا ہے۔

جب قیمت تیزی سے اوپر جاتی ہے، تو شارٹ سیلرز کو اپنی پوزیشنز بچانے یا بند کرنے کے لیے مزید Bitcoin خریدنا پڑتا ہے. جو قیمت کو مزید اوپر لے جانے کا ایندھن بنتا ہے۔ یہ ایک سائیکل (Cycle) کی طرح کام کرتا ہے. جو مارکیٹ کے مومینٹم (Momentum) کو مزید مضبوط بنا دیتا ہے۔

حتمی رائے.

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی نے عالمی مارکیٹس کو ایک تازہ ہوا کا جھونکا فراہم کیا ہے۔ بٹ کوائن کا 72,000 ڈالر سے تجاوز کرنا اور تیل کا 95 ڈالر پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ امن اور استحکام کی پیاسی ہے۔ تاجروں کو چاہیے کہ وہ ان دو ہفتوں کے دوران خبروں پر گہری نظر رکھیں، کیونکہ کسی بھی فریق کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی مارکیٹ میں دوبارہ اتار چڑھاؤ (Volatility) لا سکتی ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ جنگ بندی ایک مستقل امن معاہدے میں بدل پائے گی یا یہ صرف ایک عارضی خاموشی ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button