جنوبی کوریا کا سرکاری اخراجات کے لیے ‘Block Chain Deposit Tokens’ کا بڑا تجربہ: مالیاتی نظام میں ایک نیا انقلاب
A Bold Shift Toward Transparent Digital Finance and Cost Efficiency
جنوبی کوریا کی وزارت اقتصادیات اور مالیات نے حال ہی میں ایک انقلابی فیصلے کا اعلان کیا ہے. جس کے تحت 2026 کی آخری سہ ماہی (Q4) میں سرکاری اخراجات کے لیے روایتی کارڈز کے بجائے South Korea and Block Chain Tokens کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔
یہ اقدام محض ایک تکنیکی تجربہ نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی فنانشل مارکیٹس اور حکومتی مالیاتی انتظام (Public Fund Management) میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اس پائلٹ پروجیکٹ کے ذریعے South Korea کا مقصد سرکاری فنڈز کی تقسیم میں شفافیت لانا، درمیانی اداروں (Intermediaries) کو ختم کرنا اور ٹرانزیکشن فیس میں نمایاں کمی کرنا ہے۔
اہم نکات
-
جنوبی کوریا 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سرکاری کاروباری اخراجات کے لیے Block Chain Tokens استعمال کرے گا۔
-
یہ ٹوکنز ‘پروگرام ایبل’ (Programmable) ہوں گے، یعنی ان کے استعمال کا وقت، صنعت اور حد پہلے سے طے کی جا سکے گی۔
-
اس سسٹم سے بینک کارڈ نیٹ ورکس جیسے درمیانی اداروں کی ضرورت ختم ہو جائے گی. جس سے چھوٹے کاروباروں پر فیس کا بوجھ کم ہوگا۔
-
یہ تجربہ پہلے ‘سیجونگ سٹی’ (Sejong City) میں شروع کیا جائے گا. اور کامیابی کی صورت میں پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔
Block Chain Deposit Token کیا ہے؟
Block Chain Deposit Token ایک ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے. جو بینک میں موجود اصل رقم کی نمائندگی کرتی ہے. لیکن اسے بلاک چین ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، یہ آپ کے بینک بیلنس کا ایک ڈیجیٹل ورژن ہے. جسے سمارٹ کنٹریکٹس (Smart Contracts) کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
بلاک چین ڈپازٹ ٹوکنز دراصل کمرشل بینکوں کے ڈپازٹس کی ٹوکنائزڈ شکل ہیں۔ یہ روایتی کیش یا کریڈٹ کارڈ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور تیز رفتار ہوتے ہیں کیونکہ یہ بلاک چین پر کام کرتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی ‘پروگرام ایبلٹی’ (Programmability) ہے. جس کا مطلب ہے کہ حکومت یہ طے کر سکتی ہے. کہ یہ رقم صرف مخصوص مقاصد یا مخصوص وقت کے دوران ہی خرچ کی جا سکے گی۔
South Korea کا یہ پائلٹ پروجیکٹ کیوں اہم ہے؟
South Korea and Block Chain Tokens کا یہ سنگم عالمی مالیاتی نظام میں ‘ڈیجیٹل اثاثوں’ (Digital Assets) کی اہمیت کو تسلیم کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے پہلے جنوبی کوریا نے الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی چارجنگ کے لیے سبسیڈی دینے کا ایک کامیاب تجربہ کیا تھا۔ اب اسے سرکاری سطح پر کاروباری فروغ کے اخراجات (Business Promotion Expenses) کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
1۔ شفافیت اور بہتر نگرانی (Transparency and Oversight)
موجودہ نظام میں سرکاری افسران کو ‘پرچیزنگ کارڈز’ (Purchasing Cards) دیے جاتے ہیں۔ ان کارڈز کے ذریعے ہونے والے اخراجات کا آڈٹ (Audit) کرنا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے۔ بلاک چین کے ذریعے، ہر ٹرانزیکشن کا ریکارڈ ایک ایسے لیجر (Ledger) پر ہوگا. جسے بدلا نہیں جا سکتا۔
مالیاتی مارکیٹ میں کام کرتے ہوئے میں نے دیکھا ہے کہ جب ڈیٹا کی شفافیت بڑھتی ہے. تو مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ بلاک چین آڈٹ کے عمل کو ‘ریئل ٹائم’ بنا دیتا ہے. جس سے سرکاری فنڈز کا درست استعمال یقینی ہوتا ہے۔
2۔ پروگرام ایبل ادائیگی (Programmable Payments)
یہ اس ٹیکنالوجی کا سب سے طاقتور پہلو ہے۔ حکومت ٹوکن میں یہ شرط لگا سکتی ہے کہ:
-
رقم صرف دفتری اوقات میں خرچ کی جا سکے۔
-
رقم صرف مخصوص انڈسٹریز (جیسے اسٹیشنری یا ٹریول) میں استعمال ہو سکے۔
-
اگر رقم مقررہ وقت تک استعمال نہ ہو. تو وہ خود بخود واپس سرکاری خزانے میں چلی جائے۔
3۔ فیس میں کمی اور چھوٹے کاروباروں کو فائدہ
روایتی کارڈ سسٹم میں بینک اور کارڈ نیٹ ورکس ہر ٹرانزیکشن پر فیس لیتے ہیں۔ South Korea and Block Chain Tokens کے ماڈل میں ادائیگی براہ راست (Peer-to-Peer) ہوتی ہے. جس سے درمیانی ادارے ختم ہو جاتے ہیں. اور چھوٹے دکانداروں کو پوری رقم ملتی ہے۔
پائلٹ پروجیکٹ کی تفصیلات (Project Implementation Details)
یہ ٹیسٹ South Korea کے شہر ‘سیجونگ سٹی’ میں منعقد کیا جائے گا۔ اس کے لیے حکومت نے ‘ریگولیٹری سینڈ باکس’ (Regulatory Sandbox) کا انتخاب کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس تجربے کے دوران کچھ پرانے قوانین کو عارضی طور پر نرم کیا جائے گا تاکہ نئی ٹیکنالوجی کو آزمایا جا سکے۔
| خصوصیت | روایتی سسٹم (Purchasing Cards) | نیا سسٹم (Block Chain Tokens) |
| ٹیکنالوجی | سینٹرلائزڈ بینک نیٹ ورک | ڈیجیٹل بلاک چین لیجر |
| شفافیت | دستی آڈٹ کی ضرورت | خودکار اور فوری ریکارڈ |
| کنٹرول | خرچ کے بعد نگرانی | خرچ سے پہلے شرائط |
| فیس | کارڈ نیٹ ورک فیس شامل | کم یا صفر ٹرانزیکشن فیس |
فنانشل مارکیٹس پر اس کے اثرات (Market Implications)
ایک فنانشل اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ تجربہ صرف South Korea تک محدود نہیں رہے گا۔ جب ایک بڑی معیشت بلاک چین کو اپنے سرکاری ڈھانچے میں شامل کرتی ہے. تو اس کے اثرات عالمی سطح پر پڑتے ہیں۔
بینکنگ سیکٹر کی تبدیلی
تجارتی بینکوں کو اب اپنے انفراسٹرکچر کو بلاک چین کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ جنوبی کوریا کے بڑے بینک پہلے ہی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ یہ بینک مستقبل میں صرف رقم رکھنے کی جگہ نہیں. بلکہ ‘ڈیجیٹل ٹوکن جاری کنندہ’ (Token Issuers) بن جائیں گے۔
سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) کا راستہ
یہ ڈپازٹ ٹوکنز دراصل ‘ڈیجیٹل وون’ (Digital Won) یا CBDC کی طرف ایک بڑا قدم ہیں۔ یہ نظام دکھاتا ہے کہ کس طرح مرکزی بینک کی کرنسی اور نجی بینکوں کے ٹوکنز مل کر ایک ہموار معاشی نظام بنا سکتے ہیں۔
حرف آخر
South Korea کا Block Chain Tokens کا تجربہ مالیاتی ٹیکنالوجی (Fintech) کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف سرکاری فنڈز کے ضیاع کو روکے گا بلکہ ایک ایسے سمارٹ معاشی نظام کی بنیاد رکھے گا جہاں ہر پائی کا حساب خودکار طریقے سے رکھا جا سکے گا۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک میں بھی سرکاری سبسیڈیز کی تقسیم کے لیے ایسا بلاک چین سسٹم متعارف کروانا چاہیے؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔
Source: Reuters | Breaking International News & Views
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



