AUD/USD میں اچانک یوٹرن: جغرافیائی کشیدگی نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا

عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال نے سر اٹھا لیا ہے جس کے نتیجے میں AUD/USD کرنسی جوڑی نے اپنے ابتدائی فوائد کھو دیے اور نیچے کی جانب مڑ گئی۔ جمعرات کے ایشیائی سیشن کے دوران یہ جوڑی تقریباً 0.7145 کے قریب ٹریڈ کرتی دیکھی گئی۔ جہاں سرمایہ کاروں کے رویے میں واضح تبدیلی نظر آئی۔
یہ تبدیلی بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے آئی۔ جہاں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں ایرانی کارروائیوں نے عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
جغرافیائی کشیدگی اور "رسک آف” ماحول
سرمایہ کاروں کا رجحان اس وقت "رسک آف” موڈ میں داخل ہو چکا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زیادہ خطرناک اثاثوں (جیسے آسٹریلین ڈالر) سے نکل کر محفوظ سرمایہ کاری (جیسے امریکی ڈالر) کی طرف جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں تین جہازوں کو نشانہ بنایا اور ان میں سے دو کو اپنی حدود میں لے گیا۔ چونکہ یہ گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس لیے اس واقعے نے عالمی مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
اسی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو ان ممالک کی کرنسیوں پر دباؤ ڈالتا ہے۔ جو توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، جیسے آسٹریلیا۔
امریکی ڈالر کی مضبوطی اور ایکویٹی مارکیٹس کا ردعمل
رسک آف ماحول کا سب سے بڑا فائدہ امریکی ڈالر کو ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ US Dollar Index (DXY) میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جو 98.70 کے قریب پہنچ گیا — ایک ہفتے کی بلند ترین سطح۔
اسی دوران، امریکی اسٹاک مارکیٹ کے فیوچرز بھی دباؤ کا شکار رہے۔ جہاں S&P 500 futures تقریباً 0.53% گر کر 7,100 کے قریب آ گئے۔
یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سرمایہ کار اس وقت محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اور غیر یقینی صورتحال سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آسٹریلوی معیشت سے مثبت اشارے
دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا کی معیشت سے آنے والے حالیہ ڈیٹا نے کچھ مثبت اشارے دیے ہیں۔ جو AUD/USD کے لیے سپورٹ کا کام کر سکتے ہیں۔
S&P Global Composite PMI اپریل میں 50.1 تک پہنچ گیا، جو مارچ کے 46.6 سے بہتر ہے۔
یہ سطح 50 سے اوپر ہونے کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں توسیع (Expansion) کو ظاہر کرتی ہے۔ اس بہتری کی بڑی وجہ مینوفیکچرنگ اور سروسز دونوں شعبوں میں پیداوار میں اضافہ ہے۔
تاہم، موجودہ جغرافیائی خطرات نے ان مثبت معاشی اشاریوں کے اثر کو کافی حد تک کمزور کر دیا ہے۔
تکنیکی تجزیہ: کیا AUD/USD میں مزید گراوٹ آئے گی؟
اگر تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو تصویر مکمل طور پر منفی نہیں ہے۔
20-Period EMA (0.7086) کے اوپر رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قلیل مدتی رجحان اب بھی مثبت ہے۔
Relative Strength Index (RSI) تقریباً 60 کے قریب ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں ابھی بھی اوپر جانے کی گنجائش موجود ہے، لیکن اووربوٹ نہیں ہوئی۔

سپورٹ لیولز
فوری سپورٹ: 0.7086 (EMA)
اگر یہ لیول ٹوٹ جائے تو مزید گراوٹ ممکن ہے
ریزسٹنس لیولز
اہم رکاوٹ: 0.7222 (ملٹی ایئر ہائی)
اس کے اوپر بریک آؤٹ کی صورت میں ہدف: 0.7300
آئندہ رجحان: کیا "ڈِپ بائنگ” حکمت عملی کامیاب ہوگی؟
موجودہ حالات میں مارکیٹ دو متضاد عوامل کے درمیان پھنس گئی ہے:
مثبت آسٹریلوی معاشی ڈیٹا
بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور تیل کی قیمتیں
اگر آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو رسک آف ماحول مزید مضبوط ہوگا، جس سے AUD/USD پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
دوسری طرف، اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں استحکام آتا ہے، تو AUD/USD دوبارہ اپنی اوپر کی جانب رفتار حاصل کر سکتا ہے۔
نتیجہ
AUD/USD اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں بنیادی (Fundamental) اور تکنیکی (Technical) عوامل ایک دوسرے کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
مختصر مدت میں جغرافیائی خبریں اور تیل کی قیمتیں اس جوڑی کی سمت کا تعین کریں گی، جبکہ درمیانی مدت میں آسٹریلوی معاشی کارکردگی اور امریکی ڈالر کی طاقت اہم کردار ادا کریں گے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



