ایران-امریکہ کشیدگی، امریکی ڈالر USD/JPY مضبوط

USD/JPY نئی بلندیوں کے قریب: جاپانی ین دباؤ میں، 160 کی سطح پر مارکیٹ کی نظریں

پیر کے یورپی سیشن میں USD/JPY 159.15 کے قریب گر گیا جبکہ جاپانی ین (JPY) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مضبوطی دکھائی۔ مارکیٹ میں یہ تبدیلی بنیادی طور پر اس خبر کے بعد آئی کہ ایران امریکہ کے ساتھ مستقل جنگ بندی (ceasefire) کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے، جس نے عالمی رسک سینٹیمنٹ کو بہتر کیا اور ڈالر کی طلب کو کمزور کر دیا۔

ایران-امریکہ پیش رفت: ڈالر کے لیے منفی اشارہ

رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس میں ایک اہم شرط امریکی بحری ناکہ بندی (blockade) کو ختم کرنا ہے تاکہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولا جا سکے۔

اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو عالمی توانائی سپلائی میں بہتری آئے گی، جس سے تیل کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوگا اور مہنگائی کے خدشات کم ہوں گے۔ یہی وہ عنصر ہے جو امریکی ڈالر کو کمزور کرتا ہے، کیونکہ: مہنگائی کم ہونے سے فیڈرل ریزرو کے شرح سود بڑھانے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ سرمایہ کار محفوظ اثاثوں (safe havens) جیسے ڈالر کی بجائے رسکی اثاثوں کی طرف جاتے ہیں

امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) میں کمی

امریکی ڈالر کی مجموعی کارکردگی بھی کمزور رہی۔ US Dollar Index (DXY) تقریباً 0.25% گر کر 98.25 کے قریب آ گیا، حالانکہ سیشن کے آغاز میں اس میں کچھ مضبوطی دیکھی گئی تھی۔ یہ واضح کرتا ہے کہ مارکیٹ میں ڈالر کے لیے ابتدائی مثبت جذبات جلد ہی ختم ہو گئے، اور سرمایہ کاروں نے geopolitical easing کو ترجیح دی۔

کرنسی مارکیٹ ہیٹ میپ: NZD سب سے مضبوط، USD سب سے کمزور

آج کے کرنسی ڈیٹا کے مطابق:

امریکی ڈالر (USD) سب سے کمزور کرنسی رہا۔ نیوزی لینڈ ڈالر (NZD) سب سے زیادہ مضبوط رہا۔ آسٹریلین ڈالر (AUD) اور کینیڈین ڈالر (CAD) نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔ یہ پیٹرن واضح طور پر “risk-on sentiment” کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سرمایہ کار کموڈیٹی کرنسیز کو ترجیح دیتے ہیں۔

فیڈرل ریزرو کا فیصلہ: مارکیٹ کی نظریں بدھ پر

سرمایہ کار اب پوری توجہ Federal Reserve کے آئندہ مانیٹری پالیسی فیصلے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

توقع ہے کہ فیڈ شرح سود کو 3.50% سے 3.75% کے درمیان برقرار رکھے گا۔

تاہم اہم سوال یہ ہے:

کیا فیڈ مستقبل میں شرح سود بڑھانے کا اشارہ دے گا؟ یا نرم پالیسی (dovish stance) اختیار کرے گا؟ ایران-امریکہ کشیدگی میں کمی کی صورت میں، فیڈ کے لیے سخت پالیسی جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ جاپانی ین کی صورتحال اور Bank of Japan کا کردار۔

اگرچہ جاپانی ین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوطی دکھائی، لیکن دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں اس کی کارکردگی کمزور رہی۔

اس کی بڑی وجہ جاپان کی مانیٹری پالیسی ہے، جہاں: Bank of Japan (BoJ) سے توقع ہے کہ وہ شرح سود کو 0.75% پر برقرار رکھے گا۔ توانائی قیمتوں میں اضافے نے جاپانی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ کمزور معاشی نمو BoJ کو سخت پالیسی اپنانے سے روکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ین کی مضبوطی محدود دکھائی دے رہی ہے۔

مارکیٹ سینٹیمنٹ: رسک آن موڈ کی واپسی

مجموعی طور پر مارکیٹ میں “risk-on” موڈ واپس آ رہا ہے، جس کے اہم اثرات یہ ہیں:

  • ڈالر کمزور
  • کموڈیٹی کرنسیز مضبوط
  • ین جزوی طور پر مضبوط مگر محدود

اگر ایران-امریکہ معاہدہ آگے بڑھتا ہے تو یہ ٹرینڈ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

USD/JPY تکنیکی آؤٹ لک

USD/JPY میں حالیہ کمی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ: 159.50–160.00 ایک اہم مزاحمتی زون بن چکا ہے۔ نیچے کی جانب 158.80 اور پھر 158.00 اہم سپورٹ لیولز ہو سکتے ہیں۔ اگر ڈالر مزید کمزور ہوتا ہے تو جوڑی میں مزید کمی دیکھی جا سکتی ہے۔

نتیجہ: ڈالر دباؤ میں، مگر فیصلہ کن مرحلہ باقی

USD/JPY کی موجودہ حرکت بنیادی طور پر geopolitical developments کی وجہ سے ہے، مگر اصل سمت کا تعین آنے والے دو بڑے ایونٹس کریں گے:

ایران-امریکہ مذاکرات کا نتیجہ

فیڈرل ریزرو کا پالیسی فیصلہ

اگر دونوں عوامل ڈالر کے خلاف جاتے ہیں، تو USD/JPY میں مزید کمی متوقع ہے، بصورت دیگر rebound بھی ممکن ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button