بٹ کوائن سست، ڈوج کوائن گرگیا، عالمی اسٹاکس چھا گئے
Bitcoin holds near $81K while Dogecoin drops 4% as investors shift focus toward global stock markets and possible US-Iran ceasefire developments.
گزشتہ چند دنوں میں کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ایک دلچسپ صورتحال دیکھنے کو ملی ہے جہاں Crypto Market Outlook And Bitcoin Price Analysis سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مارکیٹ اب صرف جذباتی فیصلوں پر نہیں بلکہ عالمی سیاست اور بڑے مالیاتی اداروں کی نقل و حرکت پر چل رہی ہے۔ جمعرات کے روز جہاں بٹ کوائن (Bitcoin) کی قیمت 81,000 ڈالر کے گرد مستحکم رہی، وہیں ڈوج کوائن (Dogecoin) میں 4 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔
اس کی بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مستقل جنگ بندی (Ceasefire) کی خبریں ہیں. جنہوں نے عالمی اسٹاک مارکیٹس (Equities) کو تو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا. لیکن کرپٹو مارکیٹ میں تھوڑی دیر کے لیے تیزی کو روک دیا۔
مختصر خلاصہ.
-
بٹ کوائن 81,000 ڈالر کی سطح پر مضبوطی سے کھڑا ہے. جبکہ اس کی اگلی بڑی مزاحمت (Resistance) 83,300 ڈالر کے قریب ہے۔
-
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کی امید نے عالمی اسٹاک مارکیٹس کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے۔
-
ڈوج کوائن (Dogecoin) میں حالیہ اضافے کے بعد منافع خوری (Profit Taking) کی وجہ سے 4 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔
-
سٹیبل کوائنز (Stablecoins) کی سپلائی میں اضافہ اور مورگن اسٹینلے (Morgan Stanley) جیسے اداروں کی دلچسپی کرپٹو کے لیے مثبت اشارے ہیں۔
Bitcoin کی قیمت 81,000 ڈالر پر کیوں رک گئی؟
بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ توقف کی بنیادی وجہ "اوور بوٹ” (Overbought) صورتحال اور عالمی سیاسی منظرنامہ ہے۔ جب عالمی سطح پر امن کی امیدیں بڑھتی ہیں، تو سرمایہ کار جوکھم والے اثاثوں (Risk Assets) سے پیسہ نکال کر روایتی اسٹاک مارکیٹ کی طرف منتقل کرتے ہیں۔ بٹ کوائن فی الحال اپنی 200 دن کی موونگ ایوریج (200-day Moving Average) یعنی 83,300 ڈالر کے قریب پہنچ رہا ہے. جہاں عام طور پر فروخت کا دباؤ دیکھا جاتا ہے۔
Bitcoin نے ایشیائی تجارتی اوقات میں معمولی 0.7 فیصد کی کمی دکھائی، لیکن ہفتہ وار بنیادوں پر یہ اب بھی تقریباً 7 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ ہو رہا ہے۔ تکنیکی ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک بٹ کوائن 80,000 ڈالر سے اوپر ہے. اس کا رجحان مثبت رہے گا.
ایک دہائی کے تجربے میں ہم نے دیکھا ہے. کہ جب بھی کوئی بڑا اثاثہ اپنی 200 دن کی اوسط قیمت کے قریب پہنچتا ہے. تو وہاں ‘سائیکولوجیکل بیریئر’ پیدا ہوتا ہے۔ یہاں ہوشیار ٹریڈرز فوری خریدنے کے بجائے قیمت کے اس سطح سے اوپر بند ہونے (Closing) کا انتظار کرتے ہیں۔
ایران امریکہ ممکنہ معاہدہ اور اسٹاک مارکیٹ کی ریکارڈ پرواز
عالمی مارکیٹس میں اس وقت سب سے بڑی خبر امریکہ اور ایران کے درمیان 10 ہفتوں سے جاری تنازع کے خاتمے کی کوششیں ہیں۔ اس امید نے انویسٹرز کے اعتماد کو بحال کیا ہے.
-
MSCI ورلڈ انڈیکس: اس میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جو کہ عالمی معیشت کی بہتری کی علامت ہے۔
-
جاپان اور جنوبی کوریا: جاپان کا ‘نکی 225’ (Nikkei 225) اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا. جبکہ جنوبی کوریا اب دنیا کی ساتویں بڑی اسٹاک مارکیٹ بن چکا ہے۔
-
تیل کی قیمتیں: برینٹ کروڈ (Brent Crude) 102 ڈالر سے نیچے آ گیا ہے. کیونکہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے ذریعے سپلائی بحال ہونے کی توقع ہے۔
جب اسٹاک مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی آتی ہے. تو کرپٹو مارکیٹ سے کچھ سرمایہ عارضی طور پر وہاں منتقل ہو جاتا ہے. جسے ہم "سرمائے کی گردش” (Capital Rotation) کہتے ہیں۔
ڈوج کوائن اور دیگر آلٹ کوائنز کی کارکردگی کا تجزیہ
ڈوج کوائن (Doge) اس بار مارکیٹ میں سب سے پیچھے رہا اور اس کی قیمت 0.1106 ڈالر تک گر گئی۔ یہ گراوٹ دراصل گزشتہ ماہ کے ڈبل ڈیجٹ منافع کے بعد ایک فطری عمل ہے۔
| کوائن (Coin) | موجودہ قیمت (Price) | ہفتہ وار تبدیلی (Weekly Change) |
| Bitcoin (BTC) | $80,945 | +6.9% |
| ایتھریم (ETH) | $2,326 | -2.0% |
| بی این بی (BNB) | $643 | +1.3% |
| سولانا (SOL) | $88.06 | +6.1% |
سولانا (Solana) اپنی مضبوطی برقرار رکھے ہوئے ہے. جس کی ایک بڑی وجہ ویسٹرن یونین (Western Union) کی جانب سے اس کے نیٹ ورک پر اپنا سٹیبل کوائن ‘USDPT’ لانچ کرنا ہے۔ یہ کرپٹو ٹیکنالوجی کی روایتی بینکاری میں قبولیت کی ایک بڑی مثال ہے۔
کیا ادارے (Institutions) اب بھی Bitcoin خرید رہے ہیں؟
اداروں کی دلچسپی میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ مورگن اسٹینلے (Morgan Stanley) نے حال ہی میں اشارہ دیا ہے. کہ امریکی بینک مستقبل میں اپنے بیلنس شیٹ پر بٹ کوائن رکھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ، سٹیبل کوائن ‘تیدر’ (Tether) کی مارکیٹ کیپ میں گزشتہ 60 دنوں میں 5.9 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں نیا پیسہ (Fresh Liquidity) داخل ہو رہا ہے۔
بڑے ہولڈرز، جنہیں ہم "وہیلو” (Whales) کہتے ہیں، وہ بھی خاموشی سے اپنی پوزیشنز بنا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ‘BitMine’ نامی ادارے نے مسلسل تیسرے ہفتے ایک لاکھ سے زیادہ ایتھریم (ETH) خریدے ہیں، جس سے ان کے کل اثاثے 13 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
حرف آخر.
آج کی مارکیٹ کی صورتحال یہ بتاتی ہے کہ کرپٹو اب ایک الگ تھلگ جزیرہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی میکرو اکنامکس (Macroeconomics) کا حصہ بن چکا ہے۔ بٹ کوائن کی 81,000 ڈالر پر موجودگی اور اسٹاک مارکیٹ کا عروج اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کار فی الحال توازن تلاش کر رہے ہیں۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ حقیقت بن جاتا ہے، تو یہ عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا، جس کا فائدہ بالآخر کرپٹو مارکیٹ کو بھی ملے گا۔
آپ کے خیال میں کیا Bitcoin رواں ماہ 83,300 ڈالر کی رکاوٹ کو عبور کر پائے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



