AUD/USD کی محدود بحالی، مگر دباؤ برقرار
آسٹریلوی ڈالر (AUD/USD) پیر کے روز امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں محدود استحکام دکھا رہا ہے۔ جبکہ AUD/USD جوڑی 0.7245 کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔ ہفتے کے آغاز میں مندی کے گیپ کے باوجود جوڑی نے ابتدائی نقصانات کا کچھ حصہ واپس حاصل کیا۔ تاہم مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی محتاط فضا آسٹریلوی ڈالر پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
سرمایہ کار اس وقت عالمی جغرافیائی سیاسی خطرات اور محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) کی طلب کے باعث امریکی ڈالر کی جانب زیادہ مائل دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) مضبوط پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
مشرق وسطیٰ کشیدگی نے مارکیٹ جذبات خراب کر دیے
مارکیٹ سینٹیمنٹ اس وقت خاصی نازک صورتحال کا شکار ہے۔ کیونکہ امریکی صدر Donald Trump اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی تجاویز ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق، ٹرمپ نے ایران کی تازہ تجویز کو “مکمل طور پر ناقابل قبول” قرار دیا۔ جبکہ ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کے تحفظ سمیت وسیع تر سیکیورٹی معاہدے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ صورتحال عالمی مارکیٹوں میں خطرے سے بچاؤ کے رجحان کو بڑھا رہی ہے۔ جس سے سرمایہ کار امریکی ڈالر اور امریکی بانڈز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
مضبوط امریکی لیبر مارکیٹ نے ڈالر کو مزید طاقت دی
امریکی لیبر مارکیٹ کے حالیہ اعداد و شمار نے بھی امریکی ڈالر کو مضبوط سہارا فراہم کیا۔ امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق اپریل میں نان فارم پے رولز (NFP) میں 115 ہزار نئی ملازمتوں کا اضافہ ہوا۔ جو مارکیٹ کی 62 ہزار کی توقعات سے نمایاں طور پر بہتر تھا۔
اگرچہ یہ تعداد مارچ کے 185 ہزار اضافے سے کم رہی۔ لیکن پھر بھی اس نے امریکی معیشت کی مضبوطی کا اشارہ دیا۔ بے روزگاری کی شرح 4.3% پر مستحکم رہی، جو اندازوں کے مطابق تھی۔
ان مضبوط اعداد و شمار کے بعد امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جس نے فیڈرل ریزرو کی طویل مدت تک سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کی توقعات کو مزید تقویت دی۔
چین کی مہنگائی رپورٹ نے آسٹریلوی ڈالر کو سہارا دیا
دوسری جانب، چین سے آنے والے مثبت معاشی اعداد و شمار نے آسٹریلوی ڈالر کے نقصانات محدود رکھنے میں مدد فراہم کی۔
چین کے کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) میں اپریل کے دوران سالانہ بنیاد پر 1.2% اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جو مارچ کے 1% اضافے اور 0.8% کی مارکیٹ توقعات دونوں سے بہتر رہا۔
چونکہ چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس لیے چینی معیشت کی بہتری آسٹریلوی برآمدات اور آسٹریلوی ڈالر کے لیے مثبت سمجھی جاتی ہے۔
ٹرمپ کا چین دورہ مارکیٹ کی توجہ کا مرکز
سرمایہ کار اب امریکی صدر Donald Trump کے 13 سے 15 مئی تک چین کے دورے پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ جہاں ان کی ملاقات چینی صدر Xi Jinping سے متوقع ہے۔
اس ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، تائیوان، مصنوعی ذہانت (AI)، اور اہم معدنیات سمیت کئی حساس موضوعات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے اشارے ملتے ہیں تو اس سے رسک سینٹیمنٹ بہتر ہو سکتی ہے، جو آسٹریلوی ڈالر کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
RBA کی سخت پالیسی نے AUD/USD کو سپورٹ دیا
آسٹریلوی ڈالر کو ایک اور اہم سہارا ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کی سخت مانیٹری پالیسی سے مل رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے RBA نے مسلسل تیسری بار شرح سود بڑھا کر 4.35% کر دی تھی اور واضح کیا تھا کہ مہنگائی اب بھی بہت زیادہ ہے۔ CNBC کے مطابق، RBA کے تازہ تخمینے اشارہ دیتے ہیں کہ شرح سود سال کے اختتام تک 4.7% تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ 2028 سے پہلے کسی ریٹ کٹ کا امکان نہیں۔
یہ جارحانہ پالیسی آسٹریلوی بانڈ ییلڈز کو بلند رکھ رہی ہے، جو طویل مدت میں آسٹریلوی ڈالر کو سپورٹ فراہم کر سکتی ہے۔
AUD/USD تکنیکی منظرنامہ
تکنیکی اعتبار سے AUD/USD اب بھی 0.7200 کی اہم سپورٹ کے اوپر برقرار ہے، جبکہ 0.7270 اور 0.7300 فوری ریزسٹنس لیولز کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
اگر امریکی ڈالر مزید مضبوط ہوتا ہے اور جغرافیائی کشیدگی برقرار رہتی ہے تو جوڑی دوبارہ 0.7200 کی جانب دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، چین سے مزید مثبت معاشی ڈیٹا یا رسک سینٹیمنٹ میں بہتری AUD/USD کو اوپر کی جانب دھکیل سکتی ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



