چین روس اسٹریٹجک شراکت داری اور عالمی معاشی نظام.
Xi Jinping and Vladimir Putin deepen cooperation in Trade, Energy and Technology
روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی حالیہ سربراہی ملاقات محض ایک روایتی سفارتی دورہ نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی جیو پولیٹیکل (Geopolitical) اور فنانشل آرکیٹیکچر (Financial Architecture) میں ایک بہت بڑی تبدیلی اور China Russia Strategic Partnership کا پیش خیمہ ہے۔
اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے تجارت، ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں 20 سے زائد اہم معاہدوں پر دستخط کیے۔ چینی صدر نے واضح کیا کہ دونوں طاقتوں کو مل کر "ہر قسم کی دھونس دھمکیوں اور تاریخ کو پیچھے دھکیلنے والے اقدامات” کی مخالفت کرنی چاہیے. جبکہ روسی صدر نے دعویٰ کیا. کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک "غیر معمولی حد تک بلند سطح” پر پہنچ چکے ہیں۔
ایک فنانشل مارکیٹ اسٹریٹجسٹ کے نقطہ نظر سے، یہ بیانات اور معاہدے عالمی سپلائی چینز (Supply Chains) ، کموڈٹی مارکیٹس (Commodity Markets) اور فاریکس ریزروز (Forex Reserves) کے روایتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم تفصیلی جائزہ لیں گے کہ کس طرح China Russia Strategic Partnership Financial Impact عالمی مارکیٹس، پاکستانی ٹریڈرز اور سرمایہ کاروں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
اہم نکات
-
کموڈٹی مارکیٹ میں استحکام: روس کی طرف سے چین کو سستی اور مسلسل توانائی (Energy Supply) کی فراہمی عالمی خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو محدود کرنے کا باعث بن رہی ہے۔
-
ڈی-ڈالرائزیشن (De-Dollarization): دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں مقامی کرنسیوں (یوآن اور روبل) کا استعمال ڈالر کی عالمی بالادستی کے لیے ایک طویل مدتی چیلنج بن چکا ہے۔
-
ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI): مشترکہ سائنسی تحقیق اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں تعاون کے نتیجے میں ایک نیا متبادل ٹیکنالوجی بلاک ابھر رہا ہے جو مغربی سپلائی چین پر انحصار کم کرے گا۔
-
چین کا محتاط رویہ: بیجنگ جہاں ایک طرف روس کی سب سے بری معاشی لائف لائن ہے. وہاں وہ مغربی مارکیٹس تک اپنی رسائی کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی سطح پر انتہائی محتاط اور دور اندیشی پر مبنی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
کیا China Russia Strategic Partnership عالمی معاشی نظام کو بدل رہی ہے؟
موجودہ عالمی صورتحال انتہائی پیچیدہ اور غیر مستحکم ہے۔ جب روسی صدر پوتن یہ کہتے ہیں. کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم گزشتہ 25 برسوں میں 30 گنا سے زیادہ بڑھ چکا ہے. تو یہ صرف ایک ہندسہ نہیں ہے. بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے. کہ عالمی معیشت اب یک قطبی (Unipolar) نظام سے نکل کر کثیر قطبی (Multipolar) نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
فنانشل مارکیٹس ہمیشہ استحکام اور پیشگوئی (Predictability) کو پسند کرتی ہیں۔ چین اور روس کا متبادل تجارتی اور مالیاتی نظام تشکیل دینا اس بات کی علامت ہے. کہ اب وہ مغربی پابندیوں (Financial Sanctions) اور سینکشنز کے اثرات سے مستقل طور پر محفوظ رہنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
میں نے اپنے دس سالہ ٹریڈنگ کیریئر میں دیکھا ہے. کہ جب بھی امریکہ یا یورپ کسی ملک پر اقتصادی پابندیاں عائد کرتے ہیں. تو مارکیٹ میں فوری طور پر لیکویڈیٹی (Liquidity) کا بحران پیدا ہوتا ہے۔
لیکن حالیہ سالوں میں، جب روس پر پابندیاں لگائی گئیں، تو چین کے متبادل بینکنگ چینلز اور یوآن سیٹلمنٹ سسٹم نے اس بحران کی شدت کو عالمی سطح پر اس طرح محسوس نہیں ہونے دیا جیسے ماضی میں ہوتا تھا۔ یہ مارکیٹ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی لچک ہے جو متبادل مالیاتی نظام کی پختگی کو ظاہر کرتی ہے۔
کموڈٹی مارکیٹس پر اثرات: روس کی توانائی اور چین کی کھپت
صدر پوتن نے بیجنگ میں واضح کیا کہ روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور یہ دوطرفہ تجارت بیرونی دباؤ اور عالمی منڈیوں میں منفی رجحانات سے محفوظ ہے۔ فنانشل مارکیٹس کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟
1۔ توانائی کی قیمتوں کا نیا تعین
جب دنیا کا سب سے بڑا توانائی پیدا کرنے والا ملک (روس) دنیا کے سب سے بڑے توانائی استعمال کرنے والے ملک (چین) کو براہ راست طویل مدتی معاہدوں کے تحت خام تیل اور گیس فراہم کرتا ہے. تو عالمی اوپن مارکیٹ (جیسے برینٹ یا ڈبلیو ٹی آئی) پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ چین کو ملنے والا یہ سستا تیل اس کی مینوفیکچرنگ لاگت کو کم رکھتا ہے. جس سے عالمی سطح پر افراط زر (Inflation) کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔
2۔ مغربی پابندیوں کی ناکامی
بین الاقوامی پابندیوں کا مقصد روسی معیشت کو مفلوج کرنا تھا، لیکن چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ نے روس کو ایک ایسی وسیع مارکیٹ فراہم کر دی ہے جس نے ان پابندیوں کے اثر کو زائل کر دیا ہے۔ فنانشل اسٹریٹجسٹ کے طور پر، ہم دیکھ رہے ہیں. کہ کموڈٹی ٹریڈنگ اب صرف سوئفٹ (SWIFT) نیٹ ورک کی محتاج نہیں رہی۔
مستقبل کا منظرنامہ: مارکیٹ اب کس طرف جائے گی؟
اگر ہم طویل مدتی مارکیٹ سائیکلز (Market cycles) کا جائزہ لیں. تو یہ واضح ہے کہ دنیا اب دو متوازی مالیاتی نظاموں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف روایتی مغربی نظام ہے. اور دوسری طرف چین اور روس کا قائم کردہ یہ نیا بلاک China Russia Strategic Partnership ہے۔
مستقبل میں، پورت فولیو مینیجرز (Portfolio Managers) کو اپنے اثاثوں کی تقسیم (Asset Allocation) میں چینی اثاثوں اور یوآن پر مبنی سیکیورٹیز کو زیادہ جگہ دینی ہوگی۔ یہ China Russia Strategic Partnership صرف موجودہ وقت کا عارضی معاہدہ نہیں ہے. بلکہ یہ آنے والی دہائیوں کے لیے عالمی معاشی جغرافیہ کو تبدیل کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا چین اور روس کا یہ اتحاد China Russia Strategic Partnership عالمی مالیاتی نظام سے ڈالر کی اجارہ داری کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، اور آپ بطور سرمایہ کار اپنی مالیاتی منصوبہ بندی میں اس تبدیلی کو کس طرح شامل کر رہے ہیں؟ نیچے کمنٹس سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
Source: Reuters | Breaking International News & Views
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



