US Dollar Index سنبھل گیا، آبنائے ہرمز میں خطرے کی گھنٹی

Rising Middle East tensions, Iran-US negotiations and market uncertainty keep the US Dollar strong

عالمی فنانشل مارکیٹس میں جیو پولیٹیکل حالات اور معاشی اشاریے ہمیشہ سے سب سے بڑے محرک رہے ہیں۔ منگل کے روز یورپی سیشن کے دوران US Dollar Index (USD) نے اپنے حریفوں کے مقابلے میں مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے. جس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور اہم امریکی معاشی ڈیٹا کی آمد ہے۔

اگرچہ مارکیٹ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کی امیدیں اب بھی موجود ہیں. لیکن تازہ ترین فوجی کارروائیوں نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جس کی وجہ سے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر امریکی ڈالر کو سہارا ملا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم US Dollar stabilization and Strait of Hormuz tensions کا تفصیلی جائزہ لیں گے. اور یہ سمجھیں گے. کہ پاکستانی ٹریڈرز کو اس صورتحال میں اپنی حکمت عملی کیسے ترتیب دینی چاہیے۔

اہم نکات

  • ڈالر کا استحکام: US Dollar Index (USD) آج 99.00 سے اوپر برقرار ہے. جو پیر کے روز 0.3 فیصد نقصان کے بعد مارکیٹ میں دوبارہ واپسی کو ظاہر کرتا ہے۔

  • جیو پولیٹیکل کشیدگی: امریکہ کی جانب سے جنوبی ایران میں مبینہ دفاعی حملوں اور ایران کے شدید جوابی ردعمل کے بیانات نے مارکیٹ میں ریسک آف (Risk-off) ماحول پیدا کر دیا ہے۔

  • مذاکرات کی امیدیں: دوحہ میں قطری ثالثوں کی موجودگی میں ایران اور امریکہ کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کی توسیع اور آبنائے ہرمز کو مکمل کھولنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

  • معاشی ڈیٹا پر نظر: ٹریڈرز کی نظریں آج جاری ہونے والے کانفرنس بورڈ کے کنزیومر کانفیڈنس انڈیکس (Consumer Confidence Index) اور ڈلاس فیڈ مینوفیکچرنگ بزنس انڈیکس پر لگی ہوئی ہیں۔

  • بانڈ ییلڈز اور اسٹاکس: 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 1 فیصد کمی کے ساتھ 4.5% کے قریب ہے. جبکہ امریکی اسٹاک فیوچرز میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟

 آبنائے ہرمز میں کشیدگی اس وقت بڑھی. جب امریکی فوج نے جنوبی ایران میں ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس اور مائن بچھانے والے بحری جہازوں پر "دفاعی حملے” کیے۔ اس کارروائی کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے وارننگ دی ہے. کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب انتہائی سخت اور علاقائی حدود سے باہر دیا جائے گا۔

اس فوجی تناؤ نے پیر کے روز قائم ہونے والی اس مارکیٹ کی امیدوں کو بڑا جھٹکا پہنچایا ہے. جو ایران اور امریکہ کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کے معاہدے سے وابستہ تھی۔

عالمی معیشت اور خاص طور پر توانائی کی مارکیٹ کے لیے آبنائے ہرمز ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کا تقریباً بیس فیصد خام تیل (Crude Oil) اسی تنگ بحری راستے سے گزرتا ہے۔ جب بھی اس خطے میں فوجی نقل و حرکت یا حملوں کی خبریں آتی ہیں، فنانشل مارکیٹس میں فوری طور پر خطرے کی گھنٹی بج جاتی ہے۔

پیر کے روز ابتدائی طور پر یہ خبریں آئی تھیں کہ امریکہ اور ایران ایک ایسے معاہدے کے قریب ہیں. جس کے تحت جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کی جائے گی، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھولا جائے گا. اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام (Nuclear Program) پر بات چیت کی جائے گی۔

تاہم، رات دیر گئے امریکی حملوں کی تصدیق اور ایران کے نیوز ایجنسی ‘فارس’ کی جانب سے سخت ردعمل کے بعد مارکیٹ کا رخ تبدیل ہو گیا۔ سمارٹ سرمایہ کاروں نے فوری طور پر رسک اثاثوں (Risk Assets) جیسے شیئرز سے پیسہ نکال کر امریکی ڈالر جیسی محفوظ پناہ گاہوں (Safe-Haven Assets) میں منتقل کرنا شروع کر دیا. جس سے ڈالر کو استحکام ملا۔

US Dollar Index (DXY) اور مارکیٹ کا ردعمل

US Dollar Index (DXY) پیر کے روز 0.3% گرنے کے بعد منگل کو 99.00 کی نفسیاتی سطح سے اوپر مستحکم ہو گیا ہے۔ جیو پولیٹیکل خطرات کے باعث سرمایہ کاروں نے ڈالر کو بطور سیف ہیون (Safe-Haven) خریدا ہے، جس سے اس کی گراوٹ رک گئی ہے۔ دوسری طرف، مارکیٹ میں ملے جلے رجحانات کی وجہ سے 10 سالہ امریکی بانڈ کی ییلڈ 4.5% تک گر گئی ہے. جبکہ امریکی اسٹاک انڈیکس فیوچرز میں 0.7% سے 0.9% کا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

فاریکس مارکیٹ میں US Dollar Index کا 99.00 سے اوپر برقرار رہنا یہ ظاہر کرتا ہے. کہ ٹریڈرز ابھی تک محتاط ہیں۔ جب مارکیٹ میں جیو پولیٹیکل عدم استحکام ہوتا ہے. تو سرمایہ کار سود کی شرح (Interest Rates) یا معاشی ترقی کے بجائے سرمائے کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہیں۔

درج ذیل جدول میں مارکیٹ کے مختلف اثاثوں کی موجودہ صورتحال کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے.

اثاثہ (Asset) موجودہ قیمت / تبدیلی (Current Status) مارکیٹ کا رجحان (Market Sentiment)
US Dollar Index (DXY) 99.00 سے اوپر (معمولی اضافہ) مستحکم / مثبت (Bullish Cooldown)
10-Year US Treasury Yield ~4.5% (1% کی کمی) محتاط (Cautious/Safe Haven Demand)
US Stock Index Futures +0.7% سے +0.9% (اضافہ) محتاط رجائیت (Cautious Optimism)
Crude Oil (WTI/Brent) اتار چڑھاؤ کا شکار (Volatile) جیو پولیٹیکل رسک پریمیم (Geopolitical Risk Premium)

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسٹاک فیوچرز میں اضافہ اور بانڈ ییلڈز میں کمی ایک تضاد کی نشاندہی کرتی ہے۔ عام طور پر، جب اسٹاک اوپر جاتے ہیں. تو بانڈ کی قیمتیں گرتی ہیں اور ییلڈز اوپر جاتی ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال میں، بانڈ ییلڈز کا گرنا ظاہر کرتا ہے. کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار (Institutional Investors) طویل مدتی سرکاری بانڈز خرید رہے ہیں. تاکہ اپنے پورٹ فولیو کو مشرق وسطیٰ میں کسی بڑے فوجی ٹکراؤ سے محفوظ رکھ سکیں۔

قطر مذاکرات اور امریکی پابندیاں: تنازعہ کا حل یا نیا بحران؟

سفارتی محاذ پر، ایرانی مذاکرات کار اس وقت دوحہ میں قطری ثالثوں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں. تاکہ امریکہ کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت (MOU) کو حتمی شکل دی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا نیوکلیئر پروگرام اور امریکہ کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیاں (Sanctions) ہیں۔

ایران کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی طویل مدتی جنگ بندی سے پہلے اس پر لگی سخت اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں. جبکہ امریکہ اس بات پر اصرار کر رہا ہے. کہ پہلے ایران اپنے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو رول بیک کرے۔

ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ مارکیٹ ان مذاکرات کو بہت باریکی سے مانیٹر کر رہی ہے۔ اگر دوحہ سے کوئی مثبت خبر نکلتی ہے. تو ڈالر انڈیکس میں فوری پرافٹ بکنگ (Profit Taking) دیکھی جا سکتی ہے. جس سے یورو (EUR) اور پاؤنڈ (GBP) کو دوبارہ مضبوط ہونے کا موقع ملے گا۔ لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں. تو سونا (Gold) اور خام تیل (Crude Oil) نئی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔

اختتامی زاویہ.

اگر ہم تاریخی پس منظر کا جائزہ لیں. تو مشرق وسطیٰ کے بحرانوں نے ہمیشہ فاریکس مارکیٹ میں عارضی لیکن شدید ہیجان پیدا کیا ہے۔ ایک تجربہ کار مالیاتی اسٹریٹجسٹ کے نقطہ نظر سے، موجودہ US Dollar stabilization and Strait of Hormuz tensions صرف ایک جیو پولیٹیکل واقعہ نہیں ہے. بلکہ یہ عالمی معاشی توازن میں آنے والی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ مارکیٹیں ہمیشہ بدترین حالات کو پہلے سے پرائس ان (Price-in) کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

موجودہ صورتحال میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے. جب دوحہ مذاکرات میں دونوں فریقین لچک کا مظاہرہ کریں۔ ایک ٹریڈر کے طور پر، آپ کو جذباتی فیصلوں سے بچنا چاہیے. اور خبروں کی ہیڈ لائنز کے پیچھے چھپے ہوئے حقیقی معاشی محرکات کو سمجھنا چاہیے۔ مارکیٹ ہمیشہ ان لوگوں کو انعام دیتی ہے. جو افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے ڈیٹا اور پرائس ایکشن (Price action) پر بھروسہ کرتے ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟

کیا آپ کے خیال میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے. یا آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی US Dollar Index کو 100.00 کی سطح سے اوپر لے جائے گی؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور بتائیں. کہ آپ نے موجودہ مارکیٹ کی صورتحال میں کیا پوزیشن لی ہوئی ہے!

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button