وال اسٹریٹ اے آئی پر اڑنے لگی اور بٹ کوائن پیچھے رہ گیا
Record Bitcoin ETF Withdrawals and Rising Oil Prices Shake Crypto Market
فنانشل مارکیٹس میں اکثر ایسا وقت آتا ہے. جب پرانے اصول اور روایتی تعلقات یکسر بدل جاتے ہیں۔ موجودہ معاشی منظر نامہ اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ ایک طرف وال اسٹریٹ (Wall Street) پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (Artificial Intelligence) یعنی اے آئی (AI) کے شیئرز مہم جوئی کی نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں. تو دوسری طرف کرپٹو مارکیٹ اور Bitcoin ایک شدید اور غیر متوقع دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ اس رجحان کو سمجھنا ہر اس سرمایہ کار اور ٹریڈر کے لیے ضروری ہے. جو عالمی مارکیٹ کی نبض پر ہاتھ رکھنا چاہتا ہے۔
۔ اس تحریر میں ہم دیکھیں گے. کہ کس طرح انسٹی ٹیوشنل فنڈز (Institutional Funds) یعنی بڑے اداروں کا سرمایہ ایک مارکیٹ سے نکل کر دوسری مارکیٹ کا رخ کر رہا ہے. اور اس ماحول میں آپ کو اپنی سرمایہ کاری کو کس طرح محفوظ بنانا چاہیے۔
مارکیٹ کے اہم نکات
-
ریکارڈ فنڈ اخراج: امریکی اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف (Spot Bitcoin ETFs) سے مسلسل 10 کاروباری دنوں میں 2.97 ارب ڈالر کا ریکارڈ فنڈ نکالا گیا ہے. جو کرپٹو کی تاریخ کا طویل ترین آؤٹ فلو (Outflow) ہے۔
-
وال اسٹریٹ کی نئی بلندیاں: این ویڈیا (Nvidia) اور سافٹ بینک (SoftBank) جیسے اے آئی (AI) کے بڑے شیئرز کی بدولت عالمی اسٹاک مارکیٹس اور ٹیک انڈیکسز تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
-
میکرو معاشی دباؤ: خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں کا 93 ڈالر فی بیرل سے اوپر جانا اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات نے مارکیٹ میں مائع پذیری (liquidity) اور خطرے کے احساس (Risk Sentiment) کو متاثر کیا ہے۔
-
مستثنیات اور نئے رجحانات: ہائپر لیکوڈ کا ہائپ ٹوکن (Hyperliquid’s HYPE) اور اس کا نیا اسپاٹ ای ٹی ایف اس مندی میں بھی مسلسل فنڈز حاصل کر رہے ہیں. جو مارکیٹ میں یوٹیلیٹی پر مبنی اثاثوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔
Bitcoin ETF سے ریکارڈ فنڈز کا اخراج کیوں ہو رہا ہے؟
جب جنوری 2024 میں امریکہ میں Spot Bitcoin ETF کو منظوری ملی تھی، تو اسے کرپٹو مارکیٹ کے لیے ایک نئے سنہری دور کا آغاز قرار دیا گیا تھا۔ لیکن گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جو کچھ دیکھنے کو ملا. اس نے مارکیٹ کے بڑے بڑے ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ 15 مئی سے 29 مئی کے درمیان مسلسل 10 دنوں تک سرمایہ کاروں نے ان فنڈز سے پیسہ باہر نکالا۔
اس شیڈول کے مطابق، 27 مئی کو صرف ایک ہی دن میں 733 ملین ڈالر کا انخلا ہوا. جو جنوری کے بعد کا سب سے بڑا یومیہ آؤٹ فلو ہے۔ اس کے نتیجے میں Bitcoin ETF کے کل نیٹ اثاثے 104.29 ارب ڈالر سے کم ہو کر 94.17 ارب ڈالر رہ گئے۔ صرف Bitcoin ہی نہیں، بلکہ ایتھریم ای ٹی ایف (Ether ETFs) تو اس سے بھی طویل یعنی 14 دنوں کے آؤٹ فلو کے سلسلے کا سامنا کر رہے ہیں. جہاں سے 2.6 ارب ڈالر نکالے جا چکے ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں کے رویے میں تبدیلی ہے۔ مارکیٹ میں جب "متبادل اور زیادہ منافع بخش” مواقع موجود ہوں. تو بڑا سرمایہ کار کبھی بھی سست رفتار یا تصحیح (correction) کے فیز سے گزرنے والے اثاثے میں نہیں رکتا۔ یہ سرمایہ کار اب کرپٹو سے منافع کما کر (Profit Booking) نقد رقم یا اے آئی اسٹاکس کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا جنون اور وال اسٹریٹ کا عروج
جہاں ایک طرف کرپٹو مارکیٹ میں اداسی کا ماحول ہے. وہیں روایتی اسٹاک مارکیٹ یا ایکویٹیز (Equities) میں جشن منایا جا رہا ہے۔ ایم ایس سی آئی آل کنٹری ورلڈ انڈیکس (MSCI All Country World Index) نے حال ہی میں مزید 0.2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا. جبکہ ایشیائی مارکیٹس میں 1.1 فیصد کا زبردست اچھال دیکھا گیا۔ جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان کے بڑے ٹیک انڈیکس اپنے اب تک کے بلند ترین ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔
اس عالمی تیزی کے پیچھے سب سے بڑا محرک سیمی کنڈکٹر اور اے آئی ٹیکنالوجی کی دنیا کا بادشاہ "این ویڈیا” (Nvidia) ہے۔ کمپنی نے جیسے ہی ونڈوز لیپ ٹاپ مارکیٹ میں انٹیل (Intel) اور اے ایم ڈی (AMD) کے مقابلے میں براہ راست اترنے کا اعلان کیا، نیسڈیک 100 فیوچرز (Nasdaq 100 futures) میں 0.6 فیصد کا فوری اضافہ دیکھا گیا۔
اسی طرح جاپان کے سافٹ بینک گروپ (SoftBank Group) کے شیئرز میں 11 فیصد کی شاندار اچھال آئی کیونکہ اس کے پاس اوپن اے آئی (OpenAI) اور آرم (Arm) ہولڈنگز کے بڑے اثاثے موجود ہیں۔ وال اسٹریٹ کا یہ اے آئی ٹریڈ (AI trade) اس وقت دنیا بھر کے سرمائے کو اپنی مقناطیسی طاقت سے کھینچ رہا ہے. جس سے کرپٹو جیسی متبادل مارکیٹس میں مائع پذیری کی عارضی کمی واقع ہو رہی ہے۔
کیا خام تیل اور معاشی عوامل Bitcoin پر دباؤ ڈال رہے ہیں؟
مالیاتی مارکیٹ کے کسی بھی تجربہ کار اسٹریٹجسٹ سے پوچھیں. تو وہ آپ کو بتائے گا کہ کرپٹو کبھی بھی خلا میں کام نہیں کرتا۔ یہ ہمیشہ وسیع تر میکرو معاشی عوامل (Macroeconomic Factors) کے تابع ہوتا ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکہ-ایران جنگ بندی مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے برینٹ کروڈ (Brent crude) یعنی خام تیل کی قیمتیں 93 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔
جب تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو مہنگائی (Inflation) میں اضافے کا خطرہ دوبارہ سر اٹھانے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکی ٹریژری بانڈز کی پیداوار (Treasury yields) بڑھ جاتی ہے. جو سرمایہ کاروں کو کم خطرے کے ساتھ اچھا منافع فراہم کرتی ہے۔
جب بانڈز پر پرکشش منافع مل رہا ہو، تو Bitcoin جیسے زیادہ خطرے والے اثاثوں (High-Risk Assets) سے ادارہ جاتی سرمایہ کار اپنا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ Bitcoin گزشتہ ایک ہفتے میں 4.6 فیصد گر کر 73,397 ڈالر پر آ گیا. ایتھریم 4.6 فیصد نقصان کے ساتھ 1,996 ڈالر، اور سولانا (Solana) 3.7 فیصد کمی کے ساتھ 81.89 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
فنانشل مارکیٹس کے موجودہ حالات ایک واضح پیغام دے رہے ہیں۔ AI Trade اس وقت عالمی سرمایہ کاری کا سب سے طاقتور موضوع بن چکا ہے. جبکہ Bitcoin ETF سے مسلسل سرمائے کے اخراج نے کرپٹو مارکیٹ کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مستقبل کا منظر نامہ
عالمی معاشی نظام اس وقت ایک بڑے ارتقائی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے وال اسٹریٹ کو ایک ایسی ایندھن فراہم کی ہے. جو فی الحال ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ تاہم، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں. کہ کرپٹو مارکیٹ کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ مارکیٹیں ہمیشہ سائیکلز (Cycles) میں چلتی ہیں۔ ای ٹی ایف سے فنڈز کا نکلنا ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی عارضی منافع خوری (Profit-Taking) کا حصہ ہے۔
جیسے ہی تیل کی قیمتیں مستحکم ہوں گی اور اے آئی کا یہ ابتدائی جنون اپنی منطقی سطح پر آئے گا. سرمائے کا ایک بڑا حصہ دوبارہ کرپٹو کی طرف لوٹے گا کیونکہ Bitcoin کی سپلائی کی حد اور اس کی متبادل اسٹور آف ویلیو (Store of Value) کی خصوصیت برقرار ہے۔ ایک سمجھدار ٹریڈر وہ ہے جو اس مندی کو خوف کی نظر سے دیکھنے کے بجائے اگلی بڑی لہر کی تیاری کے لیے ایک سنہری موقع سمجھے۔
آپ کا موجودہ مارکیٹ کی اس صورتحال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ اس وقت اپنے فنڈز کو کرپٹو سے نکال کر اسٹاکس میں منتقل کر رہے ہیں. یا Bitcoin کی اس ڈپ (Dip) کو بائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔


