USD/JPY 160 کے قریب، مضبوط ڈالر سے تیزی برقرار

USD/JPY 160 کے قریب، مضبوط ڈالر

امریکی ڈالر کی مضبوطی اور عالمی جغرافیائی کشیدگی کے باعث USD/JPY کرنسی جوڑی پیر کے روز بڑھتے ہوئے 159.70 کی سطح کے قریب پہنچ گئی، جو کہ نہایت اہم نفسیاتی اور ممکنہ مداخلتی سطح 160.00 کے قریب ہے۔ یہ سطح خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ ماضی میں جاپانی حکام اس حد کے قریب ین کی کمزوری کو روکنے کے لیے مداخلت کر چکے ہیں۔

مضبوط امریکی معاشی ڈیٹا: ڈالر کو سہارا

حالیہ امریکی معاشی ڈیٹا نے ڈالر کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ISM Manufacturing PMI مئی میں 52.7 سے بڑھ کر 54.0 ہو گیا، جو نہ صرف مارکیٹ کی توقعات (53.0) سے بہتر ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکی مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سرگرمی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یہ اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکی معیشت اب بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے، جس کے باعث Federal Reserve پر شرح سود جلد کم کرنے کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اس کا براہ راست فائدہ امریکی ڈالر کو ہوتا ہے کیونکہ بلند شرح سود سرمایہ کاروں کو ڈالر کی طرف راغب کرتی ہے۔

مزید تفصیل

میں:

Employment Index 46.4 سے بڑھ کر 48.6 ہو گیا، جو لیبر مارکیٹ میں بہتری کی ابتدائی علامت ہے

Prices Paid Index 84.6 سے کم ہو کر 82.1 پر آ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مہنگائی اب بھی زیادہ ہے مگر اس کی رفتار کچھ کم ہوئی ہے

یہ ملا جلا ڈیٹا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی معیشت میں نمو برقرار ہے جبکہ مہنگائی بتدریج کنٹرول میں آ رہی ہے — ایک ایسا امتزاج جو ڈالر کے لیے مثبت سمجھا جاتا ہے۔

جغرافیائی کشیدگی: غیر یقینی صورتحال برقرار

دوسری جانب، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے۔ Tasnim News Agency کے مطابق ایران نے لبنان پر حالیہ حملوں کے بعد امریکہ کے ساتھ سفارتی پیغامات کا تبادلہ روک دیا ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات کم ہو گئے ہیں، جس سے عالمی سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ عام طور پر ایسے حالات میں جاپانی ین کو محفوظ پناہ (safe-haven) سمجھا جاتا ہے، لیکن اس بار مضبوط امریکی ڈالر نے اس اثر کو محدود کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں USD/JPY اوپر کی جانب برقرار ہے۔

جاپانی مداخلت کا خدشہ

159.70 سے اوپر کی سطحیں جاپانی حکام کے لیے حساس سمجھی جاتی ہیں۔ ماضی میں، جب ین تیزی سے کمزور ہوا، تو Bank of Japan اور جاپانی وزارت خزانہ نے مارکیٹ میں براہ راست مداخلت کی تھی تاکہ کرنسی کو مستحکم کیا جا سکے۔

اگر USD/JPY 160 سے اوپر مستحکم ہو جاتا ہے، تو مارکیٹ میں دوبارہ مداخلت کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، جو اچانک اور تیز رفتار اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

اہم ایونٹ: نان فارم پے رولز (NFP)

مارکیٹ کی اگلی بڑی توجہ جمعہ کو آنے والی US Nonfarm Payrolls (NFP) رپورٹ پر مرکوز ہے۔ یہ رپورٹ امریکی لیبر مارکیٹ کی صحت کا اہم ترین پیمانہ سمجھی جاتی ہے اور اس کے نتائج فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔

اگر ڈیٹا مضبوط آتا ہے تو:

ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے

USD/JPY 160 سے اوپر جا سکتا ہے

اگر ڈیٹا کمزور آتا ہے تو:

ڈالر پر دباؤ آ سکتا ہے

جوڑی میں اصلاح (correction) دیکھنے کو مل سکتی ہے

تکنیکی تجزیہ: USD/JPY کا رجحان

چار گھنٹے کے چارٹ کے مطابق USD/JPY اس وقت واضح طور پر تیزی کے رجحان میں ہے۔ قیمت 159.72 کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے اور اہم موونگ ایوریجز سے اوپر برقرار ہے:

20-پیراڈ SMA: 159.41

100-پیراڈ SMA: 158.62

یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ قلیل اور درمیانی مدت میں بُلش مومینٹم مضبوط ہے۔

مزید برآں، Relative Strength Index تقریباً 69 کے قریب ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ تیزی میں ہے لیکن اووربوٹ زون کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اس صورتحال میں مختصر مدت کی اصلاح کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

اہم لیولز

مزاحمت (Resistance):

159.73 فوری رکاوٹ

159.77 مضبوط مزاحمت، جہاں منافع خوری ہو سکتی ہے

160.00 نفسیاتی اور ممکنہ مداخلتی سطح

سپورٹ (Support):

159.48 ابتدائی سپورٹ

159.41 (20-SMA کے قریب) مضبوط سپورٹ

158.62 (100-SMA) اہم درمیانی مدت سپورٹ

نتیجہ

USD/JPY اس وقت مضبوط بُلش رجحان میں ہے، جسے امریکی معاشی طاقت اور ڈالر کی مضبوطی سہارا دے رہی ہے۔ تاہم، 160 کی سطح کے قریب جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت اور تکنیکی طور پر اووربوٹ حالات قلیل مدتی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

آنے والے دنوں میں NFP ڈیٹا اور جغرافیائی صورتحال اس کرنسی جوڑی کی سمت کا تعین کریں گے، لہٰذا سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ مارکیٹ میں اچانک اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button