EUR/USD مستحکم، ECB سخت مؤقف اور امریکہ ایران کشیدگی اثر انداز

EUR/USD مستحکم — امریکہ ایران کشیدگی اور ECB پالیسی نے مارکیٹ کو تھام لیا

یورو بمقابلہ امریکی ڈالر (EUR/USD) منگل کے روز مضبوط سطح پر برقرار رہا، جہاں جوڑی 1.1639 کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے جبکہ دن کی بلند ترین سطح 1.1655 کے آس پاس دیکھی گئی۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان متضاد خبروں کا آنا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھا ہے۔

امریکہ ایران مذاکرات: تضاد اور غیر یقینی صورتحال

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات نے مارکیٹ کی سمت کو غیر واضح بنا دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے Fars News Agency کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، جس سے کسی فوری معاہدے کی امید کمزور پڑ گئی ہے۔

دوسری جانب، امریکی صدر Donald Trump نے بیان دیا کہ مذاکرات "تیزی سے جاری” ہیں اور جلد ہی جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کھولنے کا معاہدہ ممکن ہے۔ اسی طرح امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے بھی کہا کہ معاہدہ کسی بھی وقت ہوسکتا ہے، تاہم ایران کے لیے شرائط سخت رکھی گئی ہیں۔

یہ متضاد بیانات مارکیٹ میں کنفیوژن پیدا کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر EUR/USD پر پڑ رہا ہے۔

امریکی ڈالر کی پوزیشن: مضبوط لیکن محدود

امریکی ڈالر کو ابھی بھی سپورٹ حاصل ہے کیونکہ مذاکرات میں اہم نکات پر اختلاف برقرار ہے۔

US Dollar Index (DXY) 99.00 کی سطح کے اوپر مستحکم ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار ابھی بھی محفوظ اثاثوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

مزید برآں، امریکی لیبر مارکیٹ کے مضبوط ڈیٹا نے بھی ڈالر کو سہارا دیا:

JOLTS جاب اوپننگز: 7.618 ملین (توقعات سے بہتر)

آنے والے ڈیٹا:

ADP Employment Change

Nonfarm Payrolls (NFP)

یہ ڈیٹا فیڈ کی آئندہ پالیسی پر اثر انداز ہوگا، خاص طور پر شرح سود کے حوالے سے۔

یورو کو ECB اور مہنگائی ڈیٹا سے سہارا

یورو کو مضبوطی ملی ہے حالیہ یوروزون مہنگائی کے اعداد و شمار سے:

HICP (سالانہ): 3.2%

Core HICP: 2.5%

یہ ڈیٹا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مہنگائی اب بھی بلند سطح پر ہے، جس کے باعث European Central Bank کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔

ECB پالیسی ساز Olli Rehn نے "insurance hike” کا عندیہ دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ جون میں ممکنہ طور پر شرح سود بڑھائی جا سکتی ہے تاکہ مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکے۔

فیڈ پالیسی اور آئل مارکیٹ کا کردار

دوسری طرف، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے خدشات کو بڑھا رہا ہے، جس کے باعث Federal Reserve شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے۔

یہ صورتحال EUR/USD کے لیے ایک متوازن منظرنامہ پیدا کرتی ہے:

ECB → Hawkish (یورو کے حق میں)

Fed → Neutral/Hold (ڈالر کے حق میں)

مارکیٹ آؤٹ لک: آگے کیا ہوگا؟

قریب المدتی طور پر EUR/USD کی سمت درج ذیل عوامل پر منحصر ہوگی:

🔹 اہم ڈرائیورز:

امریکہ ایران مذاکرات کی پیش رفت

US NFP اور لیبر مارکیٹ ڈیٹا

ECB کی جون میٹنگ

تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

🔹 ممکنہ منظرنامہ:

اگر امریکی ڈیٹا مضبوط رہا → ڈالر مضبوط → EUR/USD نیچے

اگر ECB شرح سود بڑھاتا ہے → یورو مضبوط → EUR/USD اوپر

نتیجہ

EUR/USD اس وقت ایک نازک توازن میں ہے جہاں جیوپولیٹیکل کشیدگی، مرکزی بینک پالیسی، اور اقتصادی ڈیٹا تینوں مل کر مارکیٹ کو متاثر کر رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ آنے والے دنوں میں لیبر مارکیٹ ڈیٹا اور امریکہ ایران مذاکرات پر گہری نظر رکھیں، کیونکہ یہی عوامل اس کرنسی جوڑی کی اگلی بڑی حرکت کا تعین کریں گے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button