Gold سالانہ کم ترین سطح کے قریب، دباؤ برقرار
Gold کی قیمت میں محدود بحالی، مندی کا رجحان برقرار
گولڈ ( Gold price) کی قیمت جمعرات کے ایشیائی سیشن میں سال کی نئی کم ترین سطح کو چھونے کے بعد معمولی سنبھلتی ہوئی نظر آئی، تاہم مجموعی رجحان اب بھی مندی کا شکار ہے۔ XAU/USD تقریباً 4,118 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے اور سرمایہ کار امریکی مانیٹری پالیسی اور مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی ڈالر میں ہلکی کمزوری نے قیمتی دھات کو وقتی سہارا دیا، لیکن فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات گولڈ کی بحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار نے مارکیٹ کو کیا پیغام دیا؟
بدھ کو جاری ہونے والی امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) رپورٹ نے سرمایہ کاروں کو ملا جلا اشارہ دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق:
کور CPI ماہانہ بنیاد پر 0.2 فیصد بڑھا۔
سالانہ کور افراطِ زر 2.9 فیصد پر برقرار رہا۔
ہیڈ لائن CPI بڑھ کر 4.2 فیصد تک پہنچ گیا۔
توانائی کی قیمتوں میں 23.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ بنیادی افراطِ زر میں کچھ نرمی آئی ہے، لیکن توانائی کی بلند قیمتیں مجموعی مہنگائی کے دباؤ کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ اب بھی فیڈرل ریزرو کے مزید سخت مؤقف کو نظر انداز نہیں کر رہی۔
فیڈرل ریزرو کی پالیسی گولڈ کے لیے کیوں اہم ہے؟
گولڈ ایک غیر سودی اثاثہ (Non-Yielding Asset) ہے۔ جب شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو سرمایہ کار زیادہ منافع دینے والے اثاثوں، جیسے امریکی بانڈز اور ڈالر، کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔
فی الحال مارکیٹ اس سال فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے تقریباً 70 فیصد امکانات کو قیمتوں میں شامل کر چکی ہے۔
اگر آنے والے معاشی اعداد و شمار مضبوط رہتے ہیں تو:
امریکی بانڈ ییلڈز مزید اوپر جا سکتی ہیں۔
امریکی ڈالر مضبوط ہو سکتا ہے۔
گولڈ پر مزید فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
امریکہ-ایران کشیدگی نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
امریکہ کے حالیہ حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) بند کرنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
اس صورتحال کے باعث:
خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
عالمی افراطِ زر کے خدشات بڑھے۔
مرکزی بینکوں پر شرح سود بلند رکھنے کا دباؤ بڑھا۔
امریکی ڈالر کو حمایت ملی۔
یہ تمام عوامل بالآخر گولڈ کے لیے منفی ثابت ہو رہے ہیں۔
امریکی ڈالر اور گولڈ کا تعلق
تاریخی طور پر گولڈ اور امریکی ڈالر کے درمیان الٹا تعلق پایا جاتا ہے۔
جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے:
گولڈ غیر ملکی خریداروں کے لیے مہنگا ہو جاتا ہے۔
طلب میں کمی آتی ہے۔
قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں اگرچہ CPI رپورٹ کے بعد ڈالر میں کچھ کمزوری دیکھی گئی، لیکن فیڈ کے سخت مؤقف اور جغرافیائی سیاسی خدشات نے گرین بیک کو مضبوط بنیاد فراہم کی ہوئی ہے۔
Gold کا تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis)
تکنیکی اعتبار سے Gold Price Forecast اب بھی منفی سمت کی نشاندہی کر رہا ہے۔
گولڈ حالیہ دنوں میں:
200-Day Simple Moving Average سے نیچے آ چکا ہے۔
ایک اہم نزولی چینل (Descending Channel) سے نیچے بریک ڈاؤن کر چکا ہے۔
MACD انڈیکیٹر مضبوط مندی کا اشارہ دے رہا ہے۔
اگرچہ RSI اوور سولڈ زون میں داخل ہو چکا ہے، جس سے مختصر مدت کی ریلیف ریلی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لیکن مجموعی رجحان اب بھی بیئرش دکھائی دیتا ہے۔

اہم مزاحمتی سطحیں
4,257 ڈالر
4,446 ڈالر (200-Day SMA)
4,572 ڈالر
اہم سپورٹ سطح
4,118 ڈالر
سال 2026 کی کم ترین سطح
اگر سپورٹ ٹوٹتی ہے تو گولڈ میں مزید کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی PPI رپورٹ پر
اب مارکیٹ کی توجہ امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) پر مرکوز ہے۔
یہ رپورٹ اس بات کا مزید اندازہ فراہم کرے گی کہ:
مہنگائی کس سمت جا رہی ہے۔
فیڈرل ریزرو مستقبل میں کیا اقدامات کر سکتا ہے۔
ڈالر اور گولڈ کی اگلی بڑی حرکت کیا ہو سکتی ہے۔
اگر PPI توقعات سے زیادہ آتا ہے تو فیڈ کے سخت مؤقف کو مزید تقویت مل سکتی ہے، جس سے گولڈ پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہوگا۔
گولڈ آؤٹ لک: آگے کیا؟
قریب المدتی بنیادوں پر گولڈ مارکیٹ دباؤ میں دکھائی دیتی ہے۔ فیڈ کی شرح سود میں اضافے کی توقعات، بلند بانڈ ییلڈز اور امریکی ڈالر کی مضبوطی قیمتی دھات کے لیے منفی عوامل بنے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی غیر یقینی صورتحال گولڈ کو محفوظ سرمایہ کاری (Safe-Haven Asset) کے طور پر کچھ حمایت فراہم کر سکتی ہے۔
تاہم جب تک گولڈ 4,257 ڈالر سے اوپر مضبوطی سے واپس نہیں آتا، مجموعی تکنیکی منظرنامہ مندی کا ہی رہے گا۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔


