GBP/USD محدود رینج میں، 1.3385 کے قریب دباؤ برقرار

GBP/USD دباؤ میں، فیڈ کی پالیسی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان محدود رجحان

GBP/USD اس وقت 1.3385 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جہاں مارکیٹ میں معمولی سی بہتری دیکھی جا رہی ہے، لیکن مجموعی طور پر کرنسی جوڑی ایک واضح سمت حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ حالیہ سیشن میں قیمت نے 1.3425 کے قریب ہفتہ وار بلند سطح سے پیچھے ہٹنے کے بعد دوبارہ استحکام کی کوشش کی ہے، تاہم یہ بحالی کمزور اور محتاط نوعیت کی ہے۔ مارکیٹ میں ڈِپ بائنگ ضرور موجود ہے لیکن وہ اس قدر مضبوط نہیں کہ ایک واضح اپ ٹرینڈ کو جنم دے سکے۔

امریکی ڈالر کی صورتحال اور فیڈ کی پالیسی توقعات

امریکی ڈالر کی حالیہ کمزوری نے GBP/USD کو کچھ سپورٹ فراہم کی ہے۔ امریکہ میں Core CPI کے نسبتاً نرم اعداد و شمار نے یہ تاثر دیا ہے کہ افراطِ زر کے دباؤ پہلے کے اندازوں سے کچھ کم ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں فیڈرل ریزرو پر فوری طور پر سخت مالی پالیسی جاری رکھنے کا دباؤ قدرے کم ہوا ہے۔ جب افراطِ زر کے خدشات کم ہوتے ہیں تو عام طور پر ڈالر کمزور ہوتا ہے، اور یہی صورتحال اس وقت GBP/USD کو نیچے جانے سے روک رہی ہے۔

تاہم اس کے باوجود مارکیٹ مکمل طور پر ڈالر کے خلاف نہیں گئی کیونکہ سرمایہ کار اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ فیڈ سال کے آخر تک شرحِ سود میں مزید اضافہ کر سکتا ہے، اور اس امکان کو تقریباً ستر فیصد تک قیمتوں میں شامل کیا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈالر میں کوئی بڑی اور مسلسل کمزوری دیکھنے کو نہیں مل رہی۔

جغرافیائی کشیدگی اور محفوظ سرمایہ کاری کا رجحان

اسی دوران عالمی سطح پر جغرافیائی کشیدگی بھی مارکیٹ کے جذبات کو متاثر کر رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے اور ایسے حالات میں عام طور پر محفوظ سرمایہ کاری کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کا فائدہ امریکی ڈالر کو ملتا ہے۔ اس صورتحال نے GBP/USD کی اوپر کی جانب رفتار کو مزید محدود کر دیا ہے کیونکہ جب بھی ڈالر محفوظ پناہ گاہ کے طور پر مضبوط ہوتا ہے تو پاؤنڈ کی ریکوری دباؤ میں آ جاتی ہے۔

برطانوی معیشت اور پاؤنڈ کی کمزوری

برطانوی معیشت کی طرف سے بھی اس وقت کوئی خاص مضبوط سپورٹ موجود نہیں جو پاؤنڈ کو واضح طور پر اوپر لے جا سکے۔ مارکیٹ اس بات پر غیر یقینی کا شکار ہے کہ بینک آف انگلینڈ اپنی سخت مالی پالیسی کو کتنے عرصے تک برقرار رکھ سکتا ہے، کیونکہ برطانیہ میں معاشی ترقی سست روی کا شکار ہے اور مہنگائی بھی مکمل طور پر قابو میں نہیں آئی۔ اس غیر یقینی صورتحال نے پاؤنڈ کی قوت کو محدود کر دیا ہے اور GBP/USD کو ایک تنگ رینج میں رکھے ہوئے ہے۔

GBP/USDٹیکنیکل آؤٹ لک: دباؤ اب بھی برقرار

ٹیکنیکل پہلو سے دیکھا جائے تو GBP/USD اب بھی کمزور جھکاؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ قیمت 4 گھنٹے کے چارٹ پر 200-period Simple Moving Average کے نیچے ٹریڈ کر رہی ہے، جو عام طور پر ایک مضبوط مزاحمتی سطح سمجھی جاتی ہے۔ یہی سطح 50 فیصد Fibonacci retracement کے ساتھ بھی مل رہی ہے جو اسے مزید اہم بنا دیتی ہے۔ جب قیمت بار بار 23.6 فیصد Fibonacci سطح سے اوپر جانے میں ناکام رہتی ہے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خریدار ابھی مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکے اور مارکیٹ میں مضبوط بریک آؤٹ کی صلاحیت محدود ہے۔

GBP/USD

اہم مزاحمتی لیولز اور اوپر کی ممکنہ حدیں

اس وقت اوپر کی طرف سب سے اہم رکاوٹ 1.3438 کے قریب موجود ہے جو 38.2 فیصد Fibonacci سطح کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جبکہ اس کے بعد 1.3475 سے 1.3480 کا زون آتا ہے جہاں 200 SMA اور 50 فیصد Fibonacci ایک ساتھ آ جاتے ہیں، اور یہ ایک مضبوط سپلائی زون تشکیل دیتا ہے۔ اگر قیمت اس رکاوٹ کو عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر 1.3520 اور 1.3579 جیسے اگلے اہداف سامنے آ سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے واضح اور مضبوط خریداری کی ضرورت ہوگی جو فی الحال نظر نہیں آ رہی۔

اہم سپورٹ لیول اور ممکنہ نیچے کا خطرہ

نیچے کی طرف اگر دباؤ بڑھتا ہے تو 1.3305 کا لیول اہم سپورٹ کے طور پر کام کرے گا۔ یہ وہ سطح ہے جہاں سے پہلے بھی مارکیٹ نے ردعمل دیا ہے، اور اگر یہ سطح ٹوٹ جاتی ہے تو پھر bearish momentum دوبارہ تیزی پکڑ سکتا ہے اور GBP/USD مزید کمزوری کی طرف جا سکتا ہے۔

نتیجہ: کنسولیڈیشن فیز جاری

مجموعی طور پر مارکیٹ اس وقت ایک واضح رجحان کے بجائے کنسولیڈیشن فیز میں ہے جہاں نہ خریدار مکمل طور پر غالب ہیں اور نہ ہی فروخت کنندگان مضبوط کنٹرول میں ہیں۔ فیڈ کی پالیسی توقعات، امریکی معاشی ڈیٹا اور جغرافیائی خطرات مل کر اس جوڑی کو ایک محدود دائرے میں رکھے ہوئے ہیں، اور اگلی بڑی حرکت غالباً کسی نئے معاشی ڈیٹا یا مرکزی بینک کے واضح اشارے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button