US PCE Price Index کے بعد EURUSD دباؤ میں
Higher US PCE Inflation and Strong Consumer Spending Keep EURUSD Below Key Support Levels
فاریکس مارکیٹ (Forex market) میں امریکی معیشت کے اعداد و شمار ہمیشہ ہی ہلچل مچاتے ہیں. اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ امریکی بیورو آف اکانومک اینالیسس (BEA) کی جانب سے جاری کردہ US PCE Inflation Report نے مارکیٹ کے شرکاء کو محتاط کر دیا ہے۔
اس اہم معاشی ڈیٹا کے جاری ہونے کے بعد، یورو اور امریکی ڈالر کی جوڑی یعنی EURUSD Price After US PCE Inflation شدید دباؤ کا شکار نظر آ رہی ہے. اور یہ 1.1350 کی اہم نفسیاتی سطح سے نیچے ٹریڈ کر رہی ہے۔ مارکیٹ میں امریکی ڈالر (US Dollar) کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمتِ عملی نے یورو کی بحالی کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
اس تفصیلی مضمون میں، ہم نہ صرف مئی کے مہینے کے پی سی ای (PCE) انفلیشن ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے. بلکہ یہ بھی سمجھیں گے کہ ٹیکنیکل اور فنڈامنٹل بنیادوں پر اس جوڑی کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے۔ اگر آپ ایک فاریکس ٹریڈر ہیں. تو یہ انالیسس آپ کو آنے والے دنوں میں بہترین فیصلے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
امریکی پی سی ای انفلیشن (US PCE Inflation): مئی کے مہینے میں سالانہ پی سی ای انفلیشن بڑھ کر 4.1% ہو گئی ہے. جو مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے۔
-
یورو پر دباؤ: EURUSD Price After US PCE Inflation کی رپورٹ کے بعد 1.1350 سے نیچے آ گیا ہے. اور مارکیٹ کا مجموعی رجحان مندی (bearish) کی طرف ہے۔
-
ڈالر انڈیکس (DXY): ڈیٹا کے فوری بعد ڈالر انڈیکس معمولی پیچھے ہٹا. لیکن مجموعی طور پر 101.65 پر مثبت زون میں برقرار ہے۔
-
ٹیکنیکل انڈیکیٹرز: آر ایس آئی (RSI) انڈیکیٹر 28.3 پر اوور سولڈ (Oversold) زون میں داخل ہو چکا ہے. جو کہ مارکیٹ میں شدید فروخت کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
-
اہم لیولز: فوری سپورٹ 1.1350 پر موجود ہے. جبکہ کسی بھی بحالی کی صورت میں پہلا مزاحمتی ہدف (resistance) 1.1411 ہوگا۔
US PCE Inflation Data کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچرز (PCE) پرائس انڈیکس امریکہ میں افراط زر کو ناپنے کا ایک اہم ترین پیمانہ ہے۔ امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) افراط زر کا اندازہ لگانے اور اپنی مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کو ترتیب دینے کے لیے سی پی آئی (CPI) کے مقابلے میں پی سی ای (PCE) کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔
| معاشی اعشاریہ (Economic Indicator) | مئی کا ڈیٹا (May Data) | اپریل کا ڈیٹا (April Data) | مارکیٹ کی توقع (Market Forecast) |
| Annual PCE Inflation | 4.1% | 3.8% | 4.1% |
| Annual Core PCE | 3.4% | 3.2% | 3.4% |
| Monthly Personal Income | +0.7% | +0.3% | +0.4% |
| Monthly Personal Spending | +0.7% | +0.2% | +0.5% |
رپورٹ کے مطابق، مئی میں سالانہ افراط زر 4.1% رہی. جو اپریل میں 3.8% تھی۔ اسی طرح، کور پی سی ای (Core PCE) جو کہ خوراک اور توانائی کی اتار چڑھاؤ والی قیمتوں کو شامل نہیں کرتا. 3.4% ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پرسنل انکم (Personal Income) اور پرسنل اسپینڈنگ (Personal Spending) دونوں میں 0.7% کا اضافہ ہوا. جس نے تجزیہ کاروں کے اندازوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے. کہ امریکی صارفین اب بھی مارکیٹ میں بھرپور پیسہ خرچ کر رہے ہیں. جو معیشت میں طلب کے دباؤ کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
مارکیٹ کا ردعمل اور یو ایس ڈالر انڈیکس کی صورتحال
جیسے ہی افراط زر کے اعداد و شمار سامنے آئے، امریکی ڈالر انڈیکس (USD Index) میں فوری طور پر ایک معمولی گراوٹ دیکھی گئی. کیونکہ ڈیٹا مارکیٹ کی توقعات کے بالکل مطابق تھا۔ سرمایہ کاروں کو کوئی بڑا جھٹکا نہیں لگا. لیکن معیشت میں مسلسل مضبوطی کو دیکھتے ہوئے امریکی ڈالر نے جلد ہی اپنی پوزیشن سنبھال لی۔
پریس ٹائم کے وقت، ڈالر انڈیکس 0.05% کے معمولی اضافے کے ساتھ 101.65 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ ڈالر کی اس پائیداری نے یورو (EUR) کو شدید دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ جب تک عالمی مارکیٹ میں ریسک آف (risk-off) یعنی محتاط ماحول رہے گا، سرمایہ کار ڈالر کو ایک محفوظ پناہ گاہ (safe-haven) کے طور پر ترجیح دیتے رہیں گے، جس سے یورو جیسی خطرے والی کرنسیوں کی قیمت کم ہوتی ہے۔

EURUSD کا ٹیکنیکل تجزیہ
ٹیکنیکل چارٹ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو EURUSD Price After US PCE Inflation واضح طور پر ایک گہرے مندی کے رجحان (Decisive Bearish Trend) میں نظر آ رہا ہے۔

1۔ بولنگر بینڈز اور موونگ ایوریجز (Bollinger Bands & Moving Averages):
یورو کی قیمت اس وقت ڈیلی چارٹ پر 20 روزہ بولنگر سمپل موونگ ایوریج (SMA) سے نیچے آ چکی ہے. اور یہ 100 روزہ موونگ ایوریج سے بھی کافی نیچے ٹریڈ کر رہی ہے۔ یہ پوزیشن ظاہر کرتی ہے. کہ طویل و درمیانی مدت کا رجحان مینڈے (bears) کے ہاتھ میں ہے۔ موجودہ قیمت 1.1351 کے لوئر بولنگر بینڈ (Lower Bollinger Band) کے بالکل قریب منڈلا رہی ہے۔
2۔ ریلیٹو اسٹرینتھ انڈیکس (Relative Strength Index – RSI):
14 دنوں کا آر ایس آئی (RSI) اس وقت 28.3 پر آ چکا ہے۔ ٹیکنیکل ٹریڈنگ کی زبان میں جب بھی آر ایس آئی 30 سے نیچے جاتا ہے. تو مارکیٹ کو "اوور سولڈ” (Oversold) یعنی ضرورت سے زیادہ فروخت شدہ سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ میں کسی بھی وقت ایک عارضی پل بیک (Pullback) یا واپسی دیکھی جا سکتی ہے. لیکن جب تک کوئی مضبوط کینڈل اسٹک پیٹرن (Candlestick Pattern) نہ بنے. اسے خریداری کا سگنل نہیں مانا جا سکتا۔
آنے والے دنوں میں اہم سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز
Key Support and Resistance Levels to Watch
ایک سمارٹ ٹریڈر کے طور پر، آپ کو مارکیٹ کے ان اہم لیولز پر نظر رکھنی چاہیے. جہاں سے قیمت کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے:
-
فوری سپورٹ (Immediate Support) – 1.1350: یہ لوئر بولنگر بینڈ کی سطح ہے۔ اگر EURUSD اس لیول سے نیچے روزانہ کی کینڈل کلوز کرتا ہے. تو اگلا ہدف 1.1300 کی نفسیاتی سطح ہوگی۔
-
ابتدائی مزاحمت (Initial Resistance) – 1.1411: یہ 13 مارچ کا کم ترین پوائنٹ (Low) ہے۔ اگر EURUSD میں کوئی بحالی آتی ہے. تو یہ لیول پہلے ایک دیوار بن کر سامنے آئے گا۔
-
بڑی مزاحمت (Major Resistance Zone) – 1.1530 سے 1.1650: 1.1530 پر بولنگر کا مڈل بینڈ ہے. اور 1.1650 پر 100 روزہ موونگ ایوریج ہے۔ جب تک مارکیٹ اس زون سے اوپر نہیں نکلتی. مارکیٹ پر مندی کا دباؤ برقرار رہے گا۔
مستقبل کی حکمت عملی.
موجودہ معاشی منظرنامے کو دیکھتے ہوئے، EURUSD Price After US PCE Inflation کے حوالے سے فی الحال "سیل آن ریلائز” (Sell on Rallies) یعنی ہر اچھال پر فروخت کی حکمتِ عملی زیادہ محفوظ دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ امریکی معیشت اب بھی مضبوط ہے. اور افراط زر قابو میں آنے کے باوجود بلند ہے. اس لیے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود (interest rates) کو طویل عرصے تک بلند رکھنے کی توقعات برقرار رہیں گی۔ دوسری طرف، یورپی سنٹرل بینک (ECB) کی پالیسیوں پر بھی نظر رکھنا ضروری ہوگا۔
ٹبانہ بازوں (Speculators) اور ریٹیل ٹریڈرز کو چاہیے. کہ وہ جلد بازی میں خریداری سے گریز کریں. کیونکہ اوور سولڈ آر ایس آئی طویل عرصے تک نیچے رہ سکتا ہے. اگر مارکیٹ کا مومنٹم شدید ہو۔ ہمیشہ اپنے اسٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال کریں اور رسک مینجمنٹ کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔
آپ کا اس مارکیٹ کی صورتحال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا یورو 1.1350 کی سطح کو بچا پائے گا یا ہم جلد ہی 1.1300 کا لیول دیکھیں گے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



