AUD/USD میں اتار چڑھاؤ کے باوجود تیزی کا امکان برقرار

آسٹریلوی ڈالر بمقابلہ امریکی ڈالر (AUD/USD) جمعہ کے یورپی سیشن میں تقریباً 0.7120 کے قریب محدود دائرے میں ٹریڈ کر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکی ڈالر کی مضبوطی دباؤ ڈال رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف مجموعی تکنیکی منظرنامہ اب بھی خریداروں کے حق میں نظر آتا ہے۔ مارکیٹ اس وقت دو بڑے عوامل کے درمیان توازن تلاش کر رہی ہے۔ جغرافیائی کشیدگی سے پیدا ہونے والی ڈالر کی طاقت اور آسٹریلوی معیشت سے آنے والے ممکنہ مثبت اشارے۔

امریکی ڈالر کی مضبوطی اور تیل کی قیمتوں کا کردار

حالیہ دنوں میں امریکی ڈالر میں نمایاں مضبوطی دیکھی گئی ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا اس میں رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہے۔

WTI خام تیل کی قیمتیں تقریباً $95 کے قریب مستحکم ہیں۔ جو کہ حالیہ کم ترین سطح $78.88 سے تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام طور پر امریکی مہنگائی (inflation) کے خدشات کو بڑھاتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں فیڈرل ریزرو کے لیے شرح سود میں کمی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار فی الحال امریکی ڈالر کو ایک محفوظ اور پرکشش اثاثہ سمجھ رہے ہیں۔ جس سے AUD/USD جیسے کرنسی جوڑوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

فیڈرل ریزرو کی پالیسی: مارکیٹ کی بڑی توجہ

سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے Federal Reserve کے مانیٹری پالیسی فیصلے پر مرکوز ہیں۔ اگر فیڈ یہ اشارہ دیتا ہے کہ وہ شرح سود کو زیادہ دیر تک بلند سطح پر برقرار رکھے گا۔ تو اس سے امریکی ڈالر کو مزید سپورٹ مل سکتی ہے۔

اس کے برعکس، اگر پالیسی ساز نرم رویہ (dovish stance) اپناتے ہیں اور مستقبل میں شرح سود میں کمی کے اشارے دیتے ہیں، تو AUD/USD میں تیزی کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔

آسٹریلوی CPI ڈیٹا: AUD کے لیے اہم موڑ

آنے والے دنوں میں آسٹریلیا کا Q1 کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) ڈیٹا بھی اس جوڑی کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر مہنگائی توقعات سے زیادہ آتی ہے، تو یہ Reserve Bank of Australia (RBA) کو مزید سخت مانیٹری پالیسی اپنانے پر مجبور کر سکتی ہے، جس سے آسٹریلوی ڈالر کو تقویت ملے گی۔

دوسری جانب، کمزور CPI ڈیٹا RBA پر دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ پالیسی نرم کرے، جس سے AUD کی قدر متاثر ہو سکتی ہے۔

رسک سینٹیمنٹ اور عالمی عوامل

AUD کو عموماً "رسک کرنسی” سمجھا جاتا ہے، یعنی جب عالمی مارکیٹ میں رسک لینے کا رجحان بڑھتا ہے تو AUD مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں جغرافیائی کشیدگی، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں، سرمایہ کاروں کو محتاط بنا رہی ہے۔

اگر عالمی حالات بہتر ہوتے ہیں اور رسک آن ماحول واپس آتا ہے، تو AUD/USD میں مزید تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

تکنیکی تجزیہ: تیزی برقرار مگر احتیاط ضروری

تکنیکی اعتبار سے AUD/USD اب بھی ایک مثبت رجحان میں ہے:

قیمت 20-دن کے EMA (تقریباً 0.7089) سے اوپر برقرار ہے، جو کہ ایک مضبوط سپورٹ زون ہے

RSI انڈیکیٹر 57 کے قریب ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں ابھی مزید اوپر جانے کی گنجائش موجود ہے

حالیہ کم ترین سطح 0.7120 کے قریب سپورٹ فراہم کر رہی ہے

اگر قیمت 0.7089 سے نیچے بریک کرتی ہے، تو اگلا ہدف 0.7000 ہو سکتا ہے، جو ایک اہم نفسیاتی سطح ہے۔

اوپر کی جانب:

0.7222 ایک اہم ملٹی ایئر ہائی ہے

اس کے اوپر مضبوط بریک آؤٹ ہونے کی صورت میں 0.7300 کا ہدف ممکن ہو سکتا ہے

خلاصہ: AUD/USD کے لیے کیا اہم ہے؟

موجودہ مارکیٹ میں AUD/USD کی سمت درج ذیل عوامل پر منحصر ہے:

امریکی ڈالر کی مضبوطی اور فیڈ کی پالیسی

تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

آسٹریلوی CPI ڈیٹا

عالمی جغرافیائی کشیدگی اور رسک سینٹیمنٹ

اگرچہ مختصر مدت میں امریکی ڈالر کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، لیکن مجموعی تکنیکی اور بنیادی عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ AUD/USD اب بھی 0.7220 کی ملٹی ایئر ہائی کی طرف بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button