AUD/USD میں تیزی — جیو پولیٹیکل امیدوں نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا

پیر کے روز عالمی فاریکس مارکیٹ میں AUD/USD کرنسی جوڑی نے نمایاں بہتری دکھائی اور قیمت بڑھ کر تقریباً 0.6930 تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ محض تکنیکی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے مضبوط بنیادی (fundamental) وجوہات کارفرما ہیں۔ جن میں سب سے اہم امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق پیش رفت ہے۔ جیسے ہی عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی، سرمایہ کاروں نے محفوظ اثاثوں سے نکل کر رسک والے اثاثوں کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ جس کا براہ راست فائدہ آسٹریلین ڈالر کو ہوا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان پیش رفت: مارکیٹ کے اعتماد میں اضافہ

حالیہ رپورٹس کے مطابق ایران اس وقت امریکہ کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ اور جلد ہی اس پر باضابطہ سفارتی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ اگرچہ ایران نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا مقررہ وقت کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند نہیں۔ لیکن اس کے باوجود مارکیٹ میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے۔ کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونے جا رہی ہے۔

یہ صورتحال عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب بھی جیو پولیٹیکل خطرات کم ہوتے ہیں۔ تو سرمایہ کار زیادہ منافع والے اثاثوں جیسے کرنسیز، اسٹاکس اور کموڈٹیز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ AUD جیسی کرنسیاں، جو عالمی معیشت کی کارکردگی سے جڑی ہوتی ہیں۔ اس ماحول میں بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔

امریکی ڈالر کی کمزوری: AUD/USD کے لیے سپورٹ

جیو پولیٹیکل کشیدگی میں کمی کے باعث امریکی ڈالر کی محفوظ پناہ گاہ (safe haven) کے طور پر طلب کم ہو گئی ہے۔ اس کا اثر US Dollar Index (DXY) پر بھی واضح نظر آیا۔ جو تقریباً 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 99.90 کے قریب آ گیا۔

جب ڈالر کمزور ہوتا ہے تو اس کا براہ راست فائدہ AUD/USD جیسی کرنسی جوڑیوں کو ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسٹریلین ڈالر نے دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوطی دکھائی اور مارکیٹ میں سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شامل رہا۔

اہم امریکی معاشی ڈیٹا: اگلا بڑا ٹرگر

اگرچہ موجودہ تیزی کی بنیادی وجہ جیو پولیٹیکل پیش رفت ہے۔ لیکن مارکیٹ کی اگلی سمت کا انحصار آنے والے امریکی معاشی ڈیٹا پر ہوگا۔

سب سے پہلے ISM سروسز PMI ڈیٹا اہمیت رکھتا ہے، جس کے بارے میں توقع ہے۔ کہ یہ 56.1 سے کم ہو کر 55.0 پر آ سکتا ہے۔ اگر یہ ڈیٹا توقعات سے کم آیا تو اس سے امریکی معیشت کی رفتار میں سست روی کا اشارہ ملے گا۔ جو ڈالر پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، FOMC میٹنگ منٹس سرمایہ کاروں کو فیڈرل ریزرو کی پالیسی کے بارے میں گہرائی سے سمجھ فراہم کریں گے۔ خاص طور پر یہ دیکھا جائے گا کہ فیڈ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کس حد تک سخت مؤقف اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسی طرح CPI (کنزیومر پرائس انڈیکس) ڈیٹا بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ مہنگائی کی سمت کو واضح کرتا ہے۔ اگر مہنگائی میں کمی آتی ہے تو فیڈ کی جانب سے شرح سود میں نرمی کی توقع بڑھ سکتی ہے۔ جو AUD/USD کے لیے مثبت ثابت ہوگی۔

 تجزیہ: محدود تیزی یا ممکنہ دباؤ؟

اگرچہ بنیادی عوامل AUD/USD کے لیے مثبت نظر آتے ہیں۔ لیکن ٹیکنیکل چارٹ ابھی مکمل طور پر تیزی کی تصدیق نہیں کر رہے۔ اس وقت قیمت 20 دن کی Exponential Moving Average (EMA) یعنی تقریباً 0.6960 کے نیچے ٹریڈ کر رہی ہے۔ جو ایک اہم مزاحمتی سطح ہے۔

مزید برآں، Relative Strength Index (RSI) تقریباً 45 کے قریب ہے۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں خریداری کا دباؤ ابھی کمزور ہے۔ اور فروخت کنندگان مکمل طور پر مارکیٹ سے باہر نہیں ہوئے۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ تیزی عارضی ہو سکتی ہے۔ جب تک کہ قیمت اہم ریزسٹنس لیولز کو عبور نہ کر لے۔

اہم لیولز: مارکیٹ کی سمت کا تعین

قیمت کے موجودہ ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے کچھ اہم لیولز ایسے ہیں۔ جن پر سرمایہ کاروں کی نظر مرکوز ہے۔

اوپر کی جانب، 0.6960 فوری مزاحمت ہے، جبکہ 0.7000 ایک نفسیاتی اور تکنیکی طور پر اہم سطح ہے۔ اگر قیمت اس سطح کے اوپر روزانہ کی بنیاد پر بند ہوتی ہے۔ تو یہ ایک مضبوط تیزی کا سگنل ہوگا اور اگلا ہدف 0.7060 ہو سکتا ہے۔

نیچے کی جانب، 0.6900 ایک اہم سپورٹ ہے۔ اگر یہ سطح ٹوٹتی ہے تو قیمت مزید گر کر 0.6850 اور پھر 0.6800 تک جا سکتی ہے، جو مندی کے رجحان کو مزید مضبوط کرے گا۔

مستقبل کا منظرنامہ: تیزی برقرار رہے گی یا پلٹاؤ آئے گا؟

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ AUD/USD ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں بنیادی اور تکنیکی عوامل ایک دوسرے کے مخالف سمت میں اشارہ دے رہے ہیں۔

اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں واقعی کمی آتی ہے اور ساتھ ہی امریکی معاشی ڈیٹا کمزور آتا ہے تو AUD/USD میں مزید تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر جیو پولیٹیکل صورتحال دوبارہ بگڑتی ہے یا امریکی ڈیٹا مضبوط آتا ہے تو ڈالر دوبارہ مضبوط ہو سکتا ہے، جس سے اس جوڑی پر دباؤ بڑھے گا۔

AUD/USD نتیجہ: محتاط حکمت عملی کی ضرورت

AUD/USD اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں چھوٹی سی خبر بھی مارکیٹ کا رخ بدل سکتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ صرف ایک سمت پر انحصار کرنے کے بجائے دونوں ممکنہ منظرناموں کو مدنظر رکھیں۔

خاص طور پر، 0.7000 کی سطح کو فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے اوپر بریک آؤٹ تیزی کی تصدیق کرے گا، جبکہ نیچے کی جانب بریک ڈاؤن مندی کے رجحان کو دوبارہ فعال کر سکتا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button