EUR/USD 1.1660 کے قریب غیر یقینی کا شکار، ایران جنگ بندی کی کشیدگی اور فیڈ کی سخت پالیسی نے ڈالر کو سہارا دیا

یورو/امریکی ڈالر (EUR/USD) جمعرات کے یورپی سیشن کے آغاز میں 1.1660 کے قریب محدود رینج میں ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔ جہاں قیمت گزشتہ روز کی 1.1721 کی بلند سطح سے نیچے آ کر استحکام حاصل کر رہی ہے۔ مارکیٹ میں اس وقت واضح سمت کا فقدان ہے۔ کیونکہ سرمایہ کار ایک طرف جیوپولیٹیکل خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب امریکی معاشی ڈیٹا اور فیڈ کی پالیسی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
حالیہ پرائس ایکشن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں ابھی فیصلہ کن بریک آؤٹ نہیں آیا۔ بلکہ ایک عبوری مرحلہ جاری ہے جہاں سرمایہ کار بڑے ڈیٹا یا خبروں کے انتظار میں ہیں۔
ایران جنگ بندی: غیر یقینی صورتحال نے مارکیٹ کو جکڑ لیا
عالمی مارکیٹ کی توجہ اس وقت ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ جہاں فریقین ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات لگا رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے خلیج ہرمز کو بند کرنے کا اقدام صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ کیونکہ یہ عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس پیش رفت نے سرمایہ کاروں میں بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ محفوظ اثاثوں، خصوصاً امریکی ڈالر، کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔
اگرچہ یہ خبر سامنے آئی ہے کہ دونوں فریقین پاکستان میں براہ راست مذاکرات کے لیے وفود بھیجنے پر آمادہ ہیں، تاہم مارکیٹ ابھی تک مکمل طور پر پُرامید نہیں، اور محتاط رویہ برقرار ہے۔
ڈالر کی مضبوطی: فیڈ کی سخت پالیسی کا اثر
امریکی ڈالر کی حالیہ مضبوطی کی ایک بڑی وجہ فیڈرل ریزرو کے مارچ اجلاس کے منٹس ہیں، جنہوں نے مارکیٹ کے جذبات کو واضح طور پر متاثر کیا ہے۔
فیڈ پالیسی سازوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مہنگائی کو 2 فیصد کے ہدف تک لانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ اراکین نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر افراط زر قابو میں نہ آیا تو شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فیڈ اب بھی سخت مالیاتی پالیسی (hawkish stance) پر قائم ہے، جو امریکی ڈالر کو سہارا دے رہی ہے اور EUR/USD پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
اہم امریکی ڈیٹا: مارکیٹ کی اگلی سمت کا تعین
مارکیٹ کی اگلی بڑی حرکت کا انحصار آنے والے امریکی معاشی اعداد و شمار پر ہے، خاص طور پر:
PCE Price Index
یہ فیڈ کا پسندیدہ افراط زر کا پیمانہ ہے، جو مہنگائی کے بنیادی رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر یہ ڈیٹا توقع سے زیادہ مضبوط آیا تو ڈالر کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
CPI رپورٹ
جمعہ کو جاری ہونے والی CPI رپورٹ مارچ کی مہنگائی کی مکمل تصویر پیش کرے گی۔ اس میں ایران جنگ کے اثرات بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔
اگر CPI ڈیٹا مضبوط آیا تو:
فیڈ مزید سخت ہو سکتا ہے
ڈالر مزید مضبوط ہوگا
EUR/USD مزید نیچے جا سکتا ہے
یورپی معیشت: کمزور ڈیٹا نے یورو کو محدود رکھا
یوروزون سے آنے والے حالیہ معاشی اعداد و شمار یورو کے لیے زیادہ حوصلہ افزا ثابت نہیں ہوئے۔
جرمنی، جو یوروزون کی سب سے بڑی معیشت ہے، کی صنعتی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی، جو توقعات کے برعکس تھی۔ اگرچہ تجارتی سرپلس میں کمی توقع سے کم رہی اور برآمدات و درآمدات میں اضافہ ہوا، تاہم ان مثبت عناصر کا یورو پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ یورپی معیشت اب بھی دباؤ میں ہے، جس کی وجہ سے یورپی مرکزی بینک (ECB) کے لیے جارحانہ پالیسی اپنانا مشکل ہو سکتا ہے۔
ٹیکنیکل تجزیہ: رجحان اب بھی مثبت مگر کمزور
اگرچہ EUR/USD نے حالیہ دنوں میں کچھ کمی دکھائی ہے، مجموعی طور پر قلیل مدتی رجحان اب بھی مثبت سمجھا جا سکتا ہے۔
اہم انڈیکیٹرز
RSI اب بھی مثبت زون میں موجود ہے
MACD معمولی طور پر مثبت ہے
یہ اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ مارکیٹ میں خریداری کا رجحان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم رفتار میں کمی آ رہی ہے۔

اہم لیولز: مارکیٹ کی سمت کے لیے فیصلہ کن
ریزسٹنس لیولز
1.1721 → حالیہ بلند ترین سطح
1.1740 → اہم تکنیکی رکاوٹ
1.1830 → اگلا ممکنہ ہدف
سپورٹ لیولز
1.1630 – 1.1640 → فوری سپورٹ زون
1.1505 → مضبوط نچلی سطح
اگر قیمت 1.1630 سے نیچے جاتی ہے تو مزید کمی کا امکان بڑھ جائے گا، جبکہ 1.1720 کے اوپر بریک آؤٹ مزید اضافے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
مارکیٹ سینٹیمنٹ: غیر یقینی اور احتیاط کا ماحول
موجودہ مارکیٹ ماحول میں سرمایہ کار محتاط ہیں، کیونکہ کئی عوامل ایک ساتھ کام کر رہے ہیں:
جیوپولیٹیکل کشیدگی
فیڈ کی پالیسی
معاشی ڈیٹا
یہ تمام عوامل EUR/USD کو ایک محدود رینج میں رکھ رہے ہیں، جہاں بڑی حرکت کے لیے کسی بڑے محرک (catalyst) کی ضرورت ہے۔
آگے کا منظرنامہ: کیا توقع کی جائے؟
آنے والے دنوں میں EUR/USD کی سمت کا انحصار درج ذیل عوامل پر ہوگا:
ایران جنگ بندی کی پیش رفت
امریکی CPI اور PCE ڈیٹا
فیڈ کی آئندہ پالیسی
یورپی معاشی کارکردگی
اگر جیوپولیٹیکل صورتحال بہتر ہوتی ہے تو یورو کو سہارا مل سکتا ہے، جبکہ مضبوط امریکی ڈیٹا ڈالر کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔
نتیجہ: EUR/USD نازک مرحلے میں داخل
EUR/USD اس وقت ایک حساس مرحلے میں ہے، جہاں بنیادی اور تکنیکی عوامل ایک دوسرے کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
جیوپولیٹیکل خطرات → ڈالر کے حق میں
ٹیکنیکل مومینٹم → یورو کے حق میں
یہ تضاد مارکیٹ میں غیر یقینی کو بڑھا رہا ہے، اور اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ جلد ہی ایک بڑی حرکت سامنے آ سکتی ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



