یورو/ڈالر 1.1800 کی سطح کی جانب واپسی، تجارتی خدشات کے باعث امریکی ڈالر دباؤ میں

یورو/امریکی ڈالر (EUR/USD) جوڑی نے بدھ کے ایشیائی سیشن کے دوران مثبت رفتار حاصل کرتے ہوئے 1.1800 کی اہم نفسیاتی سطح کے قریب واپسی کی ہے۔ اس سے قبل منگل کو معمولی کمی دیکھی گئی تھی، تاہم امریکی ڈالر (USD) میں نئی فروخت کے دباؤ نے جوڑی کو سہارا فراہم کیا۔

امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) مسلسل تجارتی غیر یقینی صورتحال کے باعث مضبوطی برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے، جس سے یورو کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

 ٹرمپ کے نئے ٹیرف فریم ورک سے مارکیٹ میں بے چینی

EUR/USD تازہ دباؤ اس وقت سامنے آیا جب Donald Trump نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایک نیا ٹیرف فریم ورک متعارف کروایا۔

اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں انہوں نے اعلان کیا:

عالمی سطح پر 150 دن کے لیے 10 فیصد عارضی ٹیرف

سیکشن 122 کے تحت اسے 15 فیصد تک بڑھانے کا امکان

تجارتی ایجنڈا جاری رکھنے کا عزم

ان اقدامات نے منڈی میں خدشات کو جنم دیا ہے، جن میں شامل ہیں:

ممکنہ جوابی اقدامات

عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں

عالمی اقتصادی ترقی پر منفی اثرات

ان عوامل کی وجہ سے امریکی ڈالر پر دباؤ برقرار ہے اور یورو/ڈالر کو محدود سپورٹ مل رہی ہے۔

فیڈرل ریزرو کا محتاط مؤقف برقرار

اگرچہ ڈالر کمزور دکھائی دے رہا ہے، مگر Federal Reserve کا مؤقف نسبتاً سخت (Hawkish) ہی ہے۔

جنوری کی FOMC میٹنگ کے منٹس کے مطابق:

مزید شرح سود میں کمی اس وقت تک مناسب نہیں جب تک مہنگائی میں کمی کا عمل دوبارہ پٹری پر نہ آ جائے۔

پالیسی ساز موجودہ شرح سود کی سطح کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔

مہنگائی کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

بوسٹن فیڈ کی صدر سوسن کولنز نے کہا کہ شرح سود کو موجودہ حد میں کچھ عرصہ برقرار رکھنا مناسب ہوگا، جبکہ رچمنڈ فیڈ کے صدر تھامس بارکن کے مطابق موجودہ مانیٹری پالیسی معاشی خطرات سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔

فیڈ کا یہ “اعلیٰ شرح سود طویل عرصے تک” کا مؤقف ڈالر کی مکمل کمزوری کو محدود کرتا ہے، تاہم تجارتی خدشات فی الحال اس پر غالب آ رہے ہیں۔

یورپی مرکزی بینک کا متوازن پیغام

دوسری جانب، European Central Bank کی صدر Christine Lagarde نے کہا کہ یورو زون میں مہنگائی اور شرح سود کی پالیسی مناسب سطح پر ہے۔

لیگارڈ نے واضح کیا:

فی الحال پالیسی میں کسی تبدیلی پر غور نہیں کیا جا رہا۔

مہنگائی کی صورتحال قابو میں ہے۔

موجودہ مانیٹری پالیسی مناسب ہے۔

یہ بیانات یورو کو بنیادی سپورٹ فراہم کرتے ہیں، جس سے EUR/USD میں مزید کمی محدود رہتی ہے۔

تاہم یورپی پارلیمنٹ نے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے پر ووٹنگ مؤخر کر دی ہے، جو کہ یورو میں جارحانہ خریداری کو روک سکتا ہے۔

آئندہ ڈیٹا اور مارکیٹ کی سمت

مارکیٹ کی توجہ اب درج ذیل اہم معاشی اعداد و شمار پر مرکوز ہے:

یورو زون کی حتمی مہنگائی رپورٹ

جرمنی کی حتمی GDP

GfK کنزیومر کلائمیٹ ڈیٹا

بعد ازاں امریکی سیشن میں فیڈ کے اہم اراکین کی تقاریر بھی مختصر مدتی اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتی ہیں۔

EUR/USD تکنیکی منظرنامہ

1.1800 فوری مزاحمتی سطح ہے

اس کے اوپر استحکام 1.1850 کی جانب راستہ ہموار کر سکتا ہے

نیچے کی جانب 1.1750 اور 1.1700 اہم سپورٹ لیولز ہیں

مجموعی طور پر، بنیادی عوامل ملے جلے ہیں۔ تجارتی خدشات ڈالر پر دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ فیڈ کا سخت مؤقف کمی کو محدود کر رہا ہے۔ اسی لیے سرمایہ کاروں کو بڑے رجحان پر شرط لگانے سے پہلے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button