EUR/USD Falls Below 1.1850 as Safe-Haven Dollar Gains Amid Risk-Off Mood

یورو/امریکی ڈالر (EUR/USD) جوڑی ہفتے کے آغاز میں دباؤ کا شکار رہی اور 1.1850 کی سطح سے نیچے نئی ہفتہ وار کم ترین سطح پر ٹریڈ کرتی دکھائی دی۔ پیر کے روز منفی بندش کے بعد مارکیٹ میں بحالی کے واضح اشارے نظر نہیں آئے۔ جبکہ کمزور رسک سینٹیمنٹ نے اس کرنسی جوڑی کی اوپر کی جانب حرکت کو محدود رکھا۔

عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت محتاط ماحول پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی جانب جھکاؤ دکھا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ڈالر کو بطور محفوظ کرنسی سپورٹ مل رہی ہے۔ اور یہ یورو کے مقابلے میں مضبوطی دکھا رہا ہے۔ اہم معاشی ڈیٹا کی عدم موجودگی میں مارکیٹ کی سمت زیادہ تر رسک موڈ اور سرمایہ کاروں کے جذبات پر منحصر ہے۔

یورو کی ہفتہ وار کارکردگی

اس ہفتے کی کارکردگی کے مطابق یورو بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور رہا، خاص طور پر نیوزی لینڈ ڈالر کے مقابلے میں اس میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یورو امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ، آسٹریلین ڈالر اور سوئس فرانک کے مقابلے میں دباؤ کا شکار رہا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار یورپی معیشت کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

امریکی مارکیٹوں کی بندش کے باوجود ڈالر مضبوط

پیر کے روز امریکہ میں “Presidents’ Day” کی تعطیل کے باعث مالیاتی مارکیٹیں بند رہیں۔ تاہم اس کے باوجود امریکی ڈالر نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر خطرات سے بچنے کا رجحان ہے۔ جہاں سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال میں ڈالر کو ترجیح دیتے ہیں۔

منگل کے ابتدائی سیشن میں امریکی اسٹاک فیوچرز میں 0.2 فیصد سے 0.5 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ اگر وال اسٹریٹ کے بڑے انڈیکس منفی رجحان کے ساتھ کھلتے ہیں۔ اور دباؤ برقرار رہتا ہے، تو ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں EUR/USD مزید نیچے کی جانب بڑھ سکتی ہے۔

یورپ سے اہم معاشی اشارے

آج کے سیشن میں سرمایہ کار جرمنی اور یورو زون کے ZEW اکنامک سینٹیمنٹ ڈیٹا پر نظر رکھیں گے۔ جو معاشی اعتماد کی پیمائش کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ اعداد و شمار توقعات سے کم رہے تو یورو پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

اگرچہ مثبت ڈیٹا یورو کو وقتی سہارا دے سکتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق مارکیٹ کا ردعمل محدود اور مختصر مدت کا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ مجموعی رجحان اب بھی محتاط ہے۔

امریکہ سے آنے والا ڈیٹا اور پالیسی اثرات

امریکہ میں Federal Reserve Bank of New York منگل کو فروری کا ایمپائر اسٹیٹ مینوفیکچرنگ سروے جاری کرے گا۔ جو صنعتی سرگرمیوں کی سمت واضح کرے گا۔ اس کے علاوہ بدھ کے روز دسمبر کے ڈریبل گڈز آرڈرز اور نومبر کے ہاؤسنگ اسٹارٹس کے اعداد و شمار جاری ہوں گے۔ جو امریکی معیشت کی صحت کا اہم اشارہ ہیں۔

سب سے اہم پیش رفت Federal Reserve کی جنوری کی مانیٹری پالیسی میٹنگ کے منٹس کی اشاعت ہوگی۔ ان منٹس سے شرح سود کے مستقبل، افراط زر کے خدشات اور معاشی پالیسی کے بارے میں اشارے مل سکتے ہیں۔ اگر منٹس میں سخت پالیسی کا عندیہ دیا گیا۔ تو ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے، جس سے EUR/USD پر دباؤ بڑھے گا۔

مجموعی منظرنامہ

موجودہ صورتحال میں EUR/USD کی سمت کا انحصار عالمی رسک سینٹیمنٹ، امریکی معاشی ڈیٹا اور فیڈ کی پالیسی توقعات پر ہے۔ جب تک مارکیٹ میں خطرے سے بچنے کا رجحان برقرار رہتا ہے، ڈالر کو برتری حاصل رہنے کا امکان ہے۔

قلیل مدت میں اگر یورپی ڈیٹا مثبت نہ آیا اور امریکی معاشی اشاریے مضبوط رہے تو یہ جوڑی مزید نیچے جا سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی مثبت معاشی سرپرائز یا رسک موڈ میں بہتری سے یورو کو عارضی سہارا مل سکتا ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button