EUR/USD میں وقفہ، 1.1700 سے نیچے استحکام — امریکی مہنگائی ڈیٹا کا انتظار

یورو/امریکی ڈالر (EUR/USD) جمعہ کے ایشیائی سیشن میں 1.1700 کی اہم نفسیاتی سطح سے نیچے معمولی دباؤ کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ اگرچہ اس کرنسی جوڑے نے گزشتہ چار دنوں میں مسلسل بہتری دکھائی۔ مگر اب مارکیٹ میں رفتار سست ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار بڑے فیصلے لینے سے پہلے اہم امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار کا انتظار کر رہے ہیں۔ جو آئندہ سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔

بنیادی عوامل: EUR/USD کیوں دباؤ میں ہے؟

امریکی ڈالر کی محدود مضبوطی — مارکیٹ انتظار میں کیوں؟

فی الحال امریکی ڈالر میں واضح تیزی دیکھنے کو نہیں مل رہی کیونکہ سرمایہ کار

US Consumer Price Index (CPI)

کے اجراء سے پہلے محتاط ہیں۔

یہ ڈیٹا نہ صرف مہنگائی کی موجودہ صورتحال کو ظاہر کرے گا۔ بلکہ یہ بھی طے کرے گا کہ فیڈرل ریزرو مستقبل میں شرح سود کے حوالے سے کتنا سخت یا نرم مؤقف اختیار کرے گا۔ اگرچہ کچھ سرمایہ کار ڈالر خریدنے سے گریز کر رہے ہیں۔ مگر مکمل طور پر فروخت بھی نہیں کر رہے۔ جس کی وجہ سے EUR/USD ایک محدود رینج میں پھنس گیا ہے۔

آبنائے ہرمز کشیدگی — تیل، مہنگائی اور ڈالر کا تعلق

مشرق وسطیٰ میں Strait of Hormuz کے ارد گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ یہ علاقہ دنیا کی تیل سپلائی کا ایک بڑا راستہ ہے۔ اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ کر دیتی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب ہے مہنگائی میں ممکنہ اضافہ، اور یہی عنصر

Federal Reserve

کو شرح سود بلند رکھنے یا مزید سخت پالیسی اپنانے پر مجبور کر سکتا ہے۔

اسی وجہ سے ڈالر کو ایک محفوظ سرمایہ (safe haven) کے طور پر سپورٹ ملتی ہے۔ جبکہ EUR/USD پر دباؤ برقرار رہتا ہے۔

ایران جنگ بندی کی امید — مارکیٹ میں توازن کیوں؟

اگرچہ کشیدگی موجود ہے، لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کی امیدیں بھی مارکیٹ میں گردش کر رہی ہیں۔ یہ امیدیں سرمایہ کاروں کو مکمل طور پر خوفزدہ ہونے سے روکتی ہیں اور ڈالر کی تیزی کو محدود رکھتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ EUR/USD میں شدید گراوٹ نہیں آ رہی۔ کیونکہ ایک طرف جیوپولیٹیکل خطرات ڈالر کو سہارا دے رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف امن کی امیدیں اس کی رفتار کو کم کر رہی ہیں۔

تکنیکی تجزیہ: کیا اپ ٹرینڈ برقرار رہے گا؟

تکنیکی لحاظ سے دیکھا جائے تو EUR/USD کا مجموعی رجحان اب بھی مثبت نظر آتا ہے، چاہے قلیل مدتی دباؤ موجود ہو۔

 اہم بریک آؤٹ — مارکیٹ کا اعتماد کیوں بڑھا؟

حال ہی میں EUR/USD نے ایک مضبوط رکاوٹ کو عبور کیا جس میں:

200 دن کی سادہ موونگ ایوریج (SMA)

38.2% فیبوناچی ریٹریسمنٹ

شامل تھے۔ اس قسم کے بریک آؤٹ کو تکنیکی تجزیہ میں کافی اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ خریدار مارکیٹ پر کنٹرول حاصل کر رہے ہیں۔

مومنٹم انڈیکیٹرز — رفتار کس طرف اشارہ کر رہی ہے؟

Relative Strength Index (RSI) اس وقت تقریباً 58 کے قریب ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں خریداری کی گنجائش ابھی باقی ہے اور اووربوٹ صورتحال نہیں بنی۔

اسی طرح MACD بھی مثبت زون میں ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مجموعی رفتار اب بھی اوپر کی جانب ہے، اگرچہ مختصر وقفہ آ سکتا ہے۔

 اہم لیولز — ٹریڈرز کن سطحوں پر نظر رکھیں؟

ریزسٹنس لیولز کی تفصیل

1.1742 کی سطح پہلا بڑا رکاوٹ زون ہے، جو 50% فیبوناچی ریٹریسمنٹ کے ساتھ منسلک ہے۔ اگر قیمت اس کے اوپر مستحکم ہوتی ہے تو اگلا ہدف 1.1820 ہو سکتا ہے، جو 61.8% فیبوناچی لیول ہے۔

اس کے بعد 1.1931 اور پھر 1.2072 کی سطحیں آئندہ بڑے اہداف کے طور پر سامنے آتی ہیں، جہاں ماضی میں قیمت کو سخت مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔

سپورٹ لیولز کی تفصیل

نیچے کی جانب 1.1672 کی سطح فوری سپورٹ فراہم کر رہی ہے، جو 200 دن کی SMA کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اس کے قریب 1.1665 کا فیبوناچی لیول بھی اہم ہے، جو ایک مضبوط سپورٹ زون بناتا ہے۔

اگر قیمت مزید نیچے آتی ہے تو 1.1568 اور پھر 1.1400 کی نفسیاتی سطح اہم کردار ادا کریں گی، جہاں خریدار دوبارہ مارکیٹ میں داخل ہو سکتے ہیں۔

آئندہ منظرنامہ — CPI ڈیٹا فیصلہ کن کیوں؟

مثبت منظرنامہ (Bullish Case)

اگر امریکی CPI توقعات سے کم آتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ مہنگائی دباؤ میں ہے۔ اس صورت میں فیڈ پر شرح سود کم کرنے یا کم از کم مزید اضافہ نہ کرنے کا دباؤ بڑھے گا۔

ایسی صورتحال میں امریکی ڈالر کمزور ہوگا اور EUR/USD دوبارہ اوپر کی جانب حرکت کرتے ہوئے 1.1740 اور اس سے اوپر جا سکتا ہے۔

منفی منظرنامہ (Bearish Case)

دوسری جانب اگر CPI توقعات سے زیادہ آتا ہے تو یہ ظاہر کرے گا کہ مہنگائی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس صورت میں فیڈ سخت پالیسی برقرار رکھ سکتا ہے، جس سے ڈالر مضبوط ہوگا۔

نتیجتاً EUR/USD دباؤ میں آ کر 1.1600 یا اس سے نیچے کی سطحوں کی جانب جا سکتا ہے۔

حتمی تجزیہ

مجموعی طور پر EUR/USD ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں بنیادی عوامل (مہنگائی، جیوپولیٹیکل کشیدگی) اور تکنیکی سگنلز ایک دوسرے کے ساتھ توازن میں ہیں۔

فی الحال مارکیٹ کسی واضح سمت میں جانے کے بجائے انتظار کی پوزیشن میں ہے، اور آنے والا

US Consumer Price Index

ڈیٹا اس کرنسی جوڑے کے لیے اگلی بڑی موومنٹ کا تعین کرے گا۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button