EUR/USD میں بحالی: امریکی ڈالر کمزور، مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدیں مضبوط

EUR/USD جوڑی پانچ دن کی مسلسل کمی کے بعد بحالی کی جانب گامزن ہے اور 1.1475 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ جبکہ امریکی ڈالر مشرق وسطیٰ میں ممکنہ جنگ بندی کی خبروں کے باعث دباؤ میں ہے۔ تاہم تیل کی بلند قیمتیں اور یورو زون کی آئندہ افراطِ زر رپورٹ مارکیٹ کے لیے اہم رہیں گی۔

EUR/USD کرنسی جوڑی نے پانچ روزہ مندی کے بعد بالآخر کچھ سنبھلنے کے آثار دکھائے ہیں۔ اور منگل کے ایشیائی سیشن میں 1.1475 کے قریب ٹریڈ کرتی نظر آئی۔ یہ بحالی بنیادی طور پر امریکی ڈالر میں معمولی کمزوری کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ جس کے پیچھے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کی امیدیں کارفرما ہیں۔

امریکی ڈالر انڈیکس (DXY)، جو ڈالر کی کارکردگی کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے۔ معمولی کمی کے ساتھ 100.40 کے قریب آ گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ڈالر کی مضبوطی کی بڑی وجہ محفوظ سرمایہ کاری (safe haven) کی طلب تھی۔ لیکن اب حالات میں بہتری کی توقع نے اس طلب کو کم کر دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدیں اور ڈالر پر دباؤ

مارکیٹ میں اعتماد اس وقت بہتر ہوا جب رپورٹس سامنے آئیں کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ چاہے اسٹریٹ آف ہرمز ابھی مکمل طور پر بحال نہ ہو۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکہ طویل فوجی مداخلت سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ اسی وجہ سے سرمایہ کاروں نے ڈالر جیسی محفوظ کرنسیوں سے کچھ حد تک فاصلے اختیار کیے۔ جس سے EUR/USD کو سہارا ملا۔

تاہم صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے کیونکہ اسٹریٹ آف ہرمز کی بندش بدستور برقرار ہے۔ جو عالمی توانائی کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد راستہ ہے۔

تیل کی قیمتیں اور افراطِ زر کا دباؤ

اگرچہ امن کی امیدیں بڑھ رہی ہیں، لیکن تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔ اسٹریٹ آف ہرمز کی مسلسل بندش عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی کو محدود کر رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں افراطِ زر کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

یہ صورتحال مارکیٹ کے لیے ایک پیچیدہ منظر پیش کرتی ہے۔ ایک طرف امن کی امیدیں ڈالر کو کمزور کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف مہنگائی کے بڑھتے خدشات امریکی فیڈرل ریزرو کو شرح سود میں کمی سے روک سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈالر میں کمی محدود نظر آ رہی ہے۔

EUR/USD یورو پر دباؤ برقرار

اگرچہ یورو کو وقتی طور پر ڈالر کی کمزوری کا فائدہ ملا ہے۔ لیکن اس کی مضبوطی محدود رہ سکتی ہے۔ یورو زون توانائی کا بڑا درآمد کنندہ ہے، اس لیے تیل کی بلند قیمتیں اس کی معیشت پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔

توانائی کی بڑھتی لاگت نہ صرف معاشی ترقی کو سست کرتی ہے بلکہ تجارتی خسارے میں بھی اضافہ کرتی ہے، جو یورو کے لیے ایک مستقل دباؤ کا باعث بنتا ہے۔

یورو زون افراطِ زر ڈیٹا پر نظر

اب سرمایہ کاروں کی توجہ یورو زون کے مارچ کے فلیش ہارمونائزڈ انڈیکس آف کنزیومر پرائسز (HICP) پر مرکوز ہے، جو 09:00 GMT پر جاری ہوگا۔ توقع ہے کہ سالانہ افراطِ زر کی شرح 1.9 فیصد سے بڑھ کر 2.7 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

اگر ڈیٹا توقعات سے زیادہ مضبوط آیا تو یورو کو مزید سہارا مل سکتا ہے کیونکہ اس سے یورپی سینٹرل بینک کی سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کی توقع بڑھے گی۔ اس کے برعکس کمزور ڈیٹا یورو پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

EUR/USD مجموعی جائزہ

مجموعی طور پر EUR/USD میں حالیہ بحالی امریکی ڈالر کی کمزوری اور بہتر ہوتے جغرافیائی سیاسی حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم تیل کی قیمتیں، افراطِ زر کے خدشات، اور مرکزی بینکوں کی پالیسیز آئندہ سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گی۔

قلیل مدت میں مارکیٹ محتاط رہنے کا امکان ہے، کیونکہ سرمایہ کار اقتصادی ڈیٹا اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button