EUR/USD میں زبردست تیزی: ڈالر کی کمزوری اور ایران جنگ بندی سے 1.1700 کی سطح عبور

بدھ کے روز یورو/امریکی ڈالر (EUR/USD) کرنسی جوڑی میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں قیمت بڑھ کر 1.1700 کی ماہانہ بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور عالمی مارکیٹ میں بہتر ہوتا ہوا رسک سینٹیمنٹ ہے۔

یورو کو اس وقت سرمایہ کاروں کی جانب سے سپورٹ حاصل ہو رہی ہے کیونکہ مارکیٹ میں خطرات کم ہونے کے باعث سرمایہ کار محفوظ اثاثوں (Safe Haven) جیسے امریکی ڈالر سے نکل کر رسکی اثاثوں کی طرف جا رہے ہیں۔

امریکہ-ایران جنگ بندی سے مارکیٹ میں سکون

مارکیٹ میں بہتری کی سب سے بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنے کے بعد امریکہ نے مجوزہ حملے روک دیے ہیں۔

یہ پیش رفت عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ آبنائے ہرمز تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس کشیدگی میں کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا اور ڈالر کی طلب میں کمی آئی۔

امریکی ڈالر انڈیکس میں نمایاں کمی

امریکی ڈالر انڈیکس (DXY)، جو ڈالر کی قدر کو بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، تقریباً 0.7% گر کر 98.80 کے قریب آ گیا۔ یہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر ڈالر کی مانگ کم ہو رہی ہے۔

مزید برآں، S&P 500 فیوچرز میں 2.5% سے زائد اضافہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار اب زیادہ رسک لینے کے لیے تیار ہیں۔

یوروزون ریٹیل سیلز میں کمی، مگر اثر محدود

یوروزون کے معاشی اعداد و شمار کے مطابق فروری میں ریٹیل سیلز میں 0.2% ماہانہ کمی واقع ہوئی، جو کہ توقعات کے مطابق تھی۔ اگرچہ یہ ڈیٹا معیشت کی سست روی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس کا EUR/USD پر زیادہ منفی اثر نہیں پڑا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت مارکیٹ کی توجہ زیادہ تر جیو پولیٹیکل حالات اور امریکی ڈالر کی کمزوری پر مرکوز ہے۔

تکنیکی تجزیہ: مزید تیزی کا امکان

تکنیکی اعتبار سے EUR/USD میں مضبوط تیزی کا رجحان نظر آ رہا ہے:

قیمت 200 دن کے EMA (تقریباً 1.1560) سے اوپر برقرار ہے، جو کہ ایک مضبوط سپورٹ ہے

RSI انڈیکیٹر 57 پر ہے، جو مثبت مومینٹم کو ظاہر کرتا ہے

Symmetrical Triangle پیٹرن کا بریک آؤٹ ہو چکا ہے، جو مزید تیزی کا اشارہ دیتا ہے

اہم سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز

سپورٹ: 1.1600، 1.1550

ریزسٹنس: 1.1708، 1.1800

اگر قیمت 1.1800 سے اوپر مستحکم ہو جاتی ہے تو یہ مزید تیزی کی تصدیق ہوگی اور نئی ہائیز بن سکتی ہیں۔

آگے کیا دیکھنا اہم ہوگا؟

سرمایہ کار اب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر نظر رکھیں گے، خاص طور پر ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی امن منصوبے پر پیش رفت۔

اس کے علاوہ:

امریکی معاشی ڈیٹا

فیڈرل ریزرو کی پالیسی

جیو پولیٹیکل حالات

یہ تمام عوامل EUR/USD کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے۔

نتیجہ: کیا EUR/USD مزید اوپر جائے گا؟

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے EUR/USD میں تیزی کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے، خاص طور پر اگر:

ڈالر مزید کمزور ہوتا ہے

جیو پولیٹیکل کشیدگی کم رہتی ہے

تاہم، کسی بھی منفی خبر یا مذاکرات کی ناکامی مارکیٹ کو دوبارہ غیر یقینی صورتحال میں ڈال سکتی ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button