EURUSD پر ECB Rate Hike کے باوجود دباؤ برقرار

ECB raises rates by 25 basis points, but geopolitical risks and inflation concerns strengthen the US Dollar and pressure EURUSD.

یورپی سنٹرل بینک (European Central Bank – ECB) نے جون کی اہم میٹنگ میں اپنی مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کو سخت کرتے ہوئے اہم شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے۔ عام طور پر فنانشل مارکیٹس میں یہ اصول مانا جاتا ہے کہ جب کوئی مرکزی بینک شرح سود بڑھاتا ہے، تو اس کی کرنسی مضبوط ہوتی ہے۔ لیکن فاریکس مارکیٹ (forex market) نے اس بار ایک بالکل مختلف ردعمل دکھایا۔

انٹرنیشنل مارکیٹ کے امریکی سیشن (American session) میں یورو اور امریکی ڈالر کی جوڑی، یعنی EURUSD، شدید مندی کے دباؤ (bearish pressure) میں آ گئی. اور تیزی سے 1.1500 کی نفسیاتی سطح (Psychological Level) کی طرف گرنے لگی۔

اس غیر متوقع مارکیٹ موومنٹ (Market Movement) نے دنیا بھر کے ریٹیل ٹریڈرز (Retail Traders) اور خاص طور پر پاکستانی فاریکس کمیونٹی کو حیران کر دیا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوا کہ شرح سود بڑھنے کے بعد بھی یورو اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں ناکام رہا؟

اس کی بنیادی وجہ جیو پولیٹیکل تنازعات (Geopolitical Conflicts) اور مشرق وسطیٰ میں ایران پر امریکی پابندیوں یا حملوں کی نئی دھمکیاں ہیں، جس نے مارکیٹ میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے. اور سرمایہ کاروں کو محفوظ ترین اثاثے، یعنی امریکی ڈالر (US Dollar) کی طرف بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے۔

خلاصہ

  • شرح سود میں اضافہ: یورپی سنٹرل بینک (ECB) نے مارکیٹ کی توقعات کے مطابق سود کی شرح میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

  • یورو پر دباؤ: سود بڑھنے کے باوجود EURUSD Bearish Trend After ECB Rate Hike واضح ہوا. اور جوڑی 1.1500 کی سطح کی طرف گر گئی۔

  • ڈالر کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر مانگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کو دی جانے والی نئی دھمکیوں نے مارکیٹ میں ریسک آف (Risk-off) ماحول پیدا کیا. جس سے امریکی ڈالر (USD) کو مضبوطی ملی۔

  • کرسٹین لیگارڈ کا بیان: ای سی بی کی صدر نے واضح کیا کہ معاشی ترقی کے خطرات نیچے کی طرف (Downside Risks) ہیں جبکہ مہنگائی (Inflation) کے خطرات اوپر کی طرف (upside risks) برقرار ہیں۔

  • مستقبل کا آؤٹ لک: توانائی (Energy) کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے 2027 کے پہلے نصف تک افراط زر 2% کے ہدف سے اوپر رہنے کا خدشہ ہے۔

کیا ای سی بی کے فیصلے کے بعد EURUSD مندی کے رجحان میں ہے؟

ای سی بی کی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے باوجود EURUSD جوڑی شدید مندی کی زد میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ پہلے ہی سود میں اضافے کو پرائس ان (Price in) کر چکی تھی، اور سرمایہ کاروں کی توجہ فوری طور پر سود کے فیصلے سے ہٹ کر عالمی جیو پولیٹیکل تنازعات اور توانائی کے بحران کی طرف چلی گئی. جس کی وجہ سے EURUSD Bearish Trend After ECB Rate Hike مارکیٹ پر حاوی ہو گیا۔

جب بھی کوئی مرکزی بینک سود کی شرح بڑھاتا ہے. تو طویل مدتی سرمایہ کار معاشی نمو (economic growth) کی رفتار کو بھی دیکھتے ہیں۔ ای سی بی کی صدر کرسٹین لیگارڈ (Christine Lagarde) نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ تسلیم کیا کہ یورو زون کی معاشی سرگرمیاں سست ہو رہی ہیں. اور لیبر مارکیٹ (Labour Market) بھی ٹھنڈی پڑ چکی ہے۔

اس اعتراف نے خریداروں (bulls) کا اعتماد کمزور کیا. اور جیسے ہی امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف سخت بیانات سامنے آئے. مارکیٹ نے یورو بیچ کر ڈالر خریدنا شروع کر دیے۔

ای سی بی پریس کانفرنس کے اہم نکات اور معاشی اشارے

ای سی بی کی صدر کرسٹین لیگارڈ نے شرح سود کے فیصلے کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ ان کے بیانات سے یورو زون کی معیشت کی جو تصویر سامنے آتی ہے. اس کو ہم درج ذیل اہم حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:

معاشی ترقی اور لیبر مارکیٹ (Growth and Labour Market)

لیگارڈ کا کہنا تھا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ مارچ کے مہینے میں جو اندازے لگائے گئے تھے. ان کے مقابلے میں گھریلو طلب (Domestic Demand) کافی کمزور رہی ہے۔

اس کے علاوہ، مینوفیکچرنگ (manufacturing) سیکٹر نے کسی حد تک خود کو سنبھالا ہوا ہے. اور عوام کی نجی خریداری یا کنزمپشن (Consumption) معاشی ترقی کو سہارا دے رہی ہے. لیکن مجموعی طور پر ترقی کے خطرات نیچے کی طرف ہیں۔

افراط زر کا آؤٹ لک (Inflation Outlook)

ECB کے مطابق، اگرچہ طویل مدتی افراط زر کی توقعات 2% کے ہدف کے آس پاس مستحکم ہیں، لیکن مختصر مدت (short-term) میں افراط زر کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ توانائی کے جھٹکے (Energy Shocks) کی وجہ سے بنیادی افراط زر (Underlying Inflation) کے کچھ اشارے اوپر گئے ہیں۔

ای سی بی کا تخمینہ ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے 2027 کی پہلی چھماہی میں افراط زر 2% سے اوپر رہے گی. اور یہ خزاں 2027 (autumn of 2027) تک جا کر اپنے ہدف پر واپس آئے گی۔

مالیاتی استحکام کے خطرات (Financial Stability Risks)

پریس کانفرنس میں ایک انتہائی اہم وارننگ بھی دی گئی کہ اگر عالمی مارکیٹوں میں اثاثوں کی قیمتوں (Asset Prices) میں اچانک اور تیز گراوٹ آتی ہے. تو اس سے مالیاتی استحکام (Financial Stability) کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

مستقبل کی حکمت عملی

ایک تجربہ کار مارکیٹ اسٹریٹجسٹ کی حیثیت سے، میرا ماننا ہے. کہ موجودہ مارکیٹ صرف ایک فیکٹر پر نہیں چل رہی۔ ایک طرف ای سی بی کی مجبوریاں ہیں. جہاں اسے معاشی سستی کے باوجود افراط زر کو روکنے کے لیے سود بڑھانا پڑ رہا ہے. اور دوسری طرف امریکہ کی جارحانہ خارجہ پالیسی ہے. جو ڈالر انڈیکس (DXY) کو مسلسل بلندیوں پر رکھ رہی ہے۔

آپ کا اس مارکیٹ موومنٹ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کے خیال میں EURUSD نفسیاتی ہدف 1.1500 کی سطح کو برقرار رکھ پائے گا یا یہ مزید نیچے گرے گا؟ نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button