آسٹریلیا کی معیشت میں سست روی، Australian Manufacturing PMI میں کمی، لیکن AUDUSD مستحکم

Manufacturing and Services Activity Slowdown Raises Economic Questions as AUDUSD Shows Resilience

آسٹریلیا کی معیشت کے لیے فروری کا مہینہ ملا جلا رہا۔ حالیہ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مینوفیکچرنگ اور سروسز دونوں شعبوں میں نمو (Growth) کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ Australian Manufacturing PMI جنوری کے 52.3 سے کم ہو کر فروری میں 51.5 پر آ گئی ہے. جو مینوفیکچرنگ کے شعبے میں سرگرمیوں میں کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس گراوٹ کے باوجود آسٹریلوی ڈالر (AUD) نے مارکیٹ میں استحکام دکھایا ہے. جو کہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک دلچسپ صورتحال ہے۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • Australian Manufacturing PMI میں کمی: فروری میں یہ انڈیکس 51.5 رہا. جبکہ جنوری میں یہ 52.3 تھا۔

  • سروسز اور کمپوزٹ ڈیٹا: سروسز پی ایم آئی 56.3 سے گر کر 52.2 اور کمپوزٹ پی ایم آئی 55.7 سے کم ہو کر 52.0 پر آگیا۔

  • افراط زر کا دباؤ: اگرچہ سرگرمیاں سست ہوئیں، لیکن خام مال کی قیمتوں اور لاگت (Input Costs) میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

  • مارکیٹ کا ردعمل: ڈیٹا کمزور ہونے کے باوجود AUDUSD کی جوڑی (Pair) 0.17% اضافے کے ساتھ 0.7055 پر ٹریڈ کر رہی ہے۔

  • مستقبل کا منظر نامہ: ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کے لیے شرح سود کے حوالے سے فیصلے اب مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

Australian Manufacturing PMI کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟

Australian Manufacturing PMI ایک معاشی اشاریہ ہے جو فیکٹریوں اور پیداواری شعبے کی صحت کو ظاہر کرتا ہے۔ 50 سے اوپر کی ریڈنگ معاشی پھیلاؤ (Expansion) کو ظاہر کرتی ہے. جبکہ 50 سے نیچے کی ریڈنگ سکڑاؤ (Contraction) کی علامت ہے۔

یہ انڈیکس اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ جی ڈی پی (GDP) کے سرکاری اعداد و شمار سے پہلے جاری ہوتا ہے. اور معیشت کی سمت کا قبل از وقت اندازہ لگانے میں مدد دیتا ہے۔ جب Australian Manufacturing PMI گرتی ہے. تو اس کا مطلب ہے کہ نئے آرڈرز اور پیداوار میں کمی آ رہی ہے. جو بالآخر معاشی سست روی کا باعث بن سکتی ہے۔

فروری 2026 کے اعداد و شمار کا تجزیہ

فروری کی ابتدائی (preliminary) ریڈنگز کے مطابق:

  1. Australian Manufacturing PMI: 51.5 (سابقہ: 52.3)

  2. Services PMI: 52.2 (سابقہ: 56.3)

  3. Composite PMI: 52.0 (سابقہ: 55.7)

یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آسٹریلیا کا نجی شعبہ (Private Sector) اگرچہ اب بھی ترقی کر رہا ہے. (کیونکہ ریڈنگ 50 سے اوپر ہے). لیکن ترقی کی یہ رفتار گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں کافی کم ہو گئی ہے۔ خاص طور پر سروسز سیکٹر (Services Sector) میں بڑی گراوٹ تشویشناک ہے. کیونکہ یہ آسٹریلوی معیشت کا ایک بڑا حصہ ہے۔

Australian Manufacturing PMI کا آسٹریلوی ڈالر (AUDUSD) پر کیا اثر پڑا؟

عمومی طور پر، جب کسی ملک کا PMI Data توقعات سے کم آتا ہے. تو اس کی کرنسی گر جاتی ہے۔ تاہم، اس بار AUDUSD میں 0.17% کا اضافہ دیکھا گیا. اور یہ 0.7055 کی سطح پر پہنچ گیا۔

اس گراوٹ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پی ایم آئی رپورٹ میں "قیمتوں کے دباؤ” (Price Pressures) کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگرچہ پیداوار سست ہوئی ہے. لیکن لاگت (costs) بڑھ رہی ہے۔ مارکیٹ کو لگتا ہے کہ اس "اسٹکی انفلیشن” (sticky inflation) کی وجہ سے ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) شرح سود (Interest Rates) کو طویل عرصے تک بلند سطح پر رکھ سکتا ہے. جو کرنسی کو سہارا دے رہا ہے۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں، میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ٹریڈرز صرف ہیڈ لائن نمبر (Headline Number) کو دیکھتے ہیں. لیکن اصل کہانی "ان پٹ پرائسز” میں چھپی ہوتی ہے۔ 2026 کے اس ڈیٹا میں بھی یہی ہوا. اگرچہ گروتھ کم تھی. مگر Inflation کے خدشات نے آسٹریلوی ڈالر کو گرنے سے بچا لیا۔

آسٹریلوی معیشت کے لیے بڑے چیلنجز: ایک ماہرانہ تجزیہ

1. افراط زر اور لاگت میں اضافہ (Inflationary Pressures)

S&P Global کی رپورٹ کے مطابق، فروری میں فیکٹریوں اور سروسز کمپنیوں کو بجلی، خام مال اور اجرتوں (Wages) کی مد میں زیادہ ادائیگی کرنی پڑی۔ یہ صورتحال RBA کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتی ہے. کیونکہ ایک طرف معیشت سست ہو رہی ہے. اور دوسری طرف قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

2. ملازمتوں کی مارکیٹ (Labor Market)

دلچسپ بات یہ ہے کہ سست روی کے باوجود کمپنیوں نے نئی بھرتیاں جاری رکھی ہیں۔ سروسز سیکٹر میں ملازمتوں کی شرح گزشتہ تین سالوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کاروباری اداروں کو اب بھی مستقبل میں بہتری کی امید ہے، لیکن یہ بلند اجرتیں مہنگائی کو مزید ہوا دے سکتی ہیں۔

3. عالمی طلب میں کمی (Global Demand)

آسٹریلیا کے برآمدی آرڈرز (Export Orders) میں بھی معمولی اضافہ ہوا ہے. لیکن مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بیرونی طلب سست رہی ہے۔ چین، جو آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے. کی معاشی حالت براہ راست ان نمبروں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

کیا RBA شرح سود میں اضافہ کرے گا؟ (RBA Monetary Policy Outlook)

موجودہ حالات میں RBA ایک مشکل موڑ پر کھڑا ہے۔ فروری کے پی ایم آئی ڈیٹا سے واضح ہے کہ معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  • اگر RBA ریٹ بڑھاتا ہے: تو معاشی سست روی (Slowdown) گہری ہو سکتی ہے اور بے روزگاری بڑھ سکتی ہے۔

  • اگر RBA ریٹ نہیں بڑھاتا: تو بڑھتی ہوئی لاگت (Input Costs) افراط زر کو 2-3% کے ہدف سے بہت دور لے جائے گی۔

سرمایہ کاروں کو اب RBA کے اگلے اجلاس کے منٹس (Minutes) اور افراط زر (CPI) کے ڈیٹا کا انتظار رہے گا تاکہ مستقبل کی سمت کا تعین کیا جا سکے۔

اختتامیہ.

Australian Manufacturing PMI کے اعداد و شمار معیشت کے لیے ایک انتباہ (Warning Sign) ہیں۔ اگرچہ ہم اب بھی نمو (Growth) کے زون میں ہیں. لیکن رفتار کا کم ہونا اور لاگت کا بڑھنا ایک خطرناک امتزاج ہے۔ آسٹریلوی ڈالر کی حالیہ مضبوطی شاید عارضی ثابت ہو اگر عالمی سطح پر ڈالر دوبارہ مضبوط ہوا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آسٹریلوی معیشت اس سست روی کے باوجود Inflation پر قابو پا سکے گی؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button