Australian Unemployment Rate مستحکم، مگر Employment Change میں کمی نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا

A surprising twist in Australia’s labor market triggers sharp moves in the AUDUSD pair.

آسٹریلیا کی لیبر مارکیٹ نے آج AUDUSD کے عالمی سرمایہ کاروں کو ایک غیر متوقع جھٹکا دیا، جہاں Australian Unemployment Rate مسلسل دوسرے ماہ 4.3% پر رک گئی. جو نہ صرف مارکیٹ اندازوں سے کم تھی بلکہ معاشی اعتماد کو نئے سوالات میں بھی بدل رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی Employment Change میں اچانک منفی رحجان نے فنانشل مارکیٹس میں ہلچل پیدا کردی. خاص طور پر وہ تاجر جو AUDUSD کے اتار چڑھاؤ پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ معاشی منظرنامے میں یہ ڈرامائی موڑ اس وقت مزید گہرا ہوگیا. جب Participation Rate کی کمزوری اور Full-Time جابز میں غیر معمولی کمی نے آسٹریلیا کی مستقبل کی معاشی رفتار پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔

اہم نکات کا خلاصہ

  • Australian Unemployment Rate نومبر میں 4.3% پر مستحکم رہا. جو توقعات (4.4%) سے بہتر ہے۔

  • لیکن، روزگار میں تبدیلی (Employment Change) غیر متوقع طور پر -21.3 ہزار آئی. جبکہ مارکیٹ نے 20 ہزار کا اضافہ متوقع کیا تھا۔

  • کل وقتی ملازمتوں (Full-Time Employment) میں 56.5 ہزار کی بڑی کمی واقع ہوئی. جس کی جزوی طور پر جز وقتی ملازمتوں (Part-Time Employment) میں 35.2 ہزار کا اضافہ پورا کیا۔

  • مارکیٹ نے ان مخلوط اعداد و شمار پر آسٹریلوی ڈالر (AUD) کی فروخت کے ذریعے رد عمل ظاہر کیا. جو معیشت کی صحت پر تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔

  • یہ ڈیٹا ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کے لیے مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کے آئندہ فیصلوں کو مزید مشکل بنا دے گا۔

بے روزگاری کی شرح 4.3% پر مستحکم کیوں رہی؟

Australian Unemployment Rate کا 4.3% پر برقرار رہنا، اور توقعات سے بھی کم آنا، بظاہر مضبوط لیبر مارکیٹ (Labour Market) کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، اس بار اعداد و شمار کی تفصیلات میں ایک اہم باریکی چھپی ہوئی ہے۔

Australian Unemployment Rate نومبر میں توقعات سے بہتر 4.3% پر مستحکم رہی۔ یہ استقامت کل افرادی قوت (Labour Force) میں کمی کی وجہ سے تھی. خاص طور پر ملازمتوں کی تعداد اور افرادی قوت میں شرکت کی شرح (Participation Rate) دونوں میں بیک وقت کمی کے باعث۔ چونکہ بے روزگاری کی شرح کا حساب روزگار سے محروم افراد کو کل افرادی قوت سے تقسیم کر کے لگایا جاتا ہے.

اس لیے دونوں میں کمی نے شرح کو مستحکم رکھنے میں مدد کی۔ یہ ڈیٹا RBA کو قیمتوں میں استحکام (Price Stability) کے ہدف پر زیادہ توجہ دینے کا موقع دے سکتا ہے۔

آسٹریلین بیورو آف سٹیٹسٹکس (ABS) کے مطابق، نومبر میں بے روزگار اور برسر روزگار افراد دونوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی (بالترتیب 2,000 اور 21,000)۔ اس کے علاوہ، افرادی قوت میں شرکت کی شرح (Participation Rate) بھی 66.9% سے کم ہو کر 66.7% ہو گئی۔

جب لوگ کام کی تلاش چھوڑ دیتے ہیں، تو وہ افرادی قوت سے باہر ہو جاتے ہیں. اور اگرچہ وہ بے روزگار ہی رہتے ہیں. تکنیکی طور پر وہ بے روزگاری کی شرح (Unemployment Rate) کے حساب میں شامل نہیں ہوتے. اس تکنیکی پہلو نے شرح کو توقع سے زیادہ نیچے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

نوکریوں کی تعداد میں کمی: یہ AUDUSD کے لیے کیوں اہم ہے؟

نومبر میں روزگار میں تبدیلی (Australian Employment Change) کا -21.3K آنا مارکیٹ کے لیے ایک سخت جھٹکا تھا۔ مارکیٹ 20K کے اضافے کی توقع کر رہی تھی۔ یہ کمی آسٹریلیا کے لیبر مارکیٹ کی اصل حالت کے بارے میں سب سے زیادہ تشویشناک اشارہ ہے۔

  • کل وقتی ملازمتوں (Full-Time Employment) میں گراوٹ: یہ سب سے بڑی تشویش ہے۔ کل وقتی ملازمتوں میں 56.5K کی بڑی کمی واقع ہوئی۔ یہ پچھلے مہینے (41.1K) کے اضافے کے بالکل برعکس ہے۔

  • جز وقتی ملازمتوں (Part-Time Employment) میں اضافہ: جز وقتی ملازمتوں میں 35.2K کا اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ کل وقتی ملازمتوں کے نقصان کی جزوی طور پر تلافی کرتا ہے. لیکن مجموعی طور پر نوکریوں میں کمی کو روک نہیں سکا۔

کل وقتی ملازمتیں عام طور پر زیادہ آمدنی، زیادہ استحکام، اور معیشت میں زیادہ مضبوط کھپت (Consumption) کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان میں کمی اور جز وقتی ملازمتوں میں اضافہ اکثر کمپنیوں کی جانب سے اخراجات میں کمی اور معاشی غیر یقینی صورتحال (Economic Uncertainty) کے دوران محتاط رویہ اپنانے کی عکاسی کرتا ہے۔

نوکریوں کی مجموعی کمی، خاص طور پر کل وقتی شعبے میں، مستقبل کی افراط زر (Inflation) کے دباؤ کو کم کر سکتی ہے، جو RBA کو شرح سود (Interest Rates) میں اضافے کے حوالے سے کم جارحانہ (Less Hawkish) بنا سکتا ہے۔

Australian Unemployment Rate پر مارکیٹ کا رد عمل اور AUDUSD پر اثرات

آسٹریلوی ڈالر (AUD) نے مخلوط روزگار کے اعداد و شمار پر منفی رد عمل ظاہر کیا. خاص طور پر روزگار میں غیر متوقع کمی اور کل وقتی ملازمتوں کے بڑے نقصان کی وجہ سے۔ AUDUSD جوڑی رپورٹ کے بعد 0.26% کم ہو کر 0.6662 پر ٹریڈ ہو رہی تھی. کیونکہ ٹریڈرز  نے اس کمزوری کو RBA کی جانب سے مستقبل میں شرح سود میں کمی (Rate Cut) کے امکانات میں اضافہ سمجھا۔

آسٹریلوی ڈالر (AUD) ان اعداد و شمار پر کمزور ہوا. کیونکہ ٹریڈرز  نے Australian Unemployment Rate کے مثبت ہیڈ لائن نمبر کے بجائے نوکریوں کی مجموعی کمی اور کل وقتی ملازمتوں کے نقصان پر زیادہ توجہ دی۔

ایک تجربہ کار ٹریڈر  (Seasoned Trader) کے طور پر، ہم جانتے ہیں کہ کرنسی مارکیٹ (Currency Market) ہمیشہ مستقبل کی مانیٹری پالیسی کے ارادوں پر تجارت کرتی ہے۔ نوکریوں میں کمی کا مطلب ہے کہ لیبر مارکیٹ ٹھنڈا ہو رہا ہے. اور افراط زر کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ یہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کے لیے شرح سود میں اضافہ (Rate Hike) کرنے کی ضرورت کو کم کرتا ہے۔

  • فوری رجحان: AUDUSD میں فروخت کا دباؤ۔

  • توقع: اگر لیبر مارکیٹ کی یہ کمزوری اگلے چند ماہ میں برقرار رہتی ہے. تو RBA کی طرف سے پالیسی میں تبدیلی (Policy Pivot) کی توقعات بڑھ جائیں گی. جو AUD پر مزید نیچے کا دباؤ ڈالے گا۔

AUDUSD as on 11th December 2025 after Australian Employment Rate Data
AUDUSD as on 11th December 2025 after Australian Employment Rate Data

RBA اور مالیاتی پالیسی پر اثرات.

یہ روزگار رپورٹ ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کے لیے ایک دو دھاری تلوار ہے۔

  • ایک طرف، بے روزگاری کی شرح کا 4.3% پر مستحکم رہنا اب بھی ان کے ہدف کی حد (Target Range) کے قریب ہے۔

  • دوسری طرف، روزگار میں خالص کمی (-21.3K) اور کل وقتی نوکریوں میں بڑی کمی اس بات کا اشارہ ہے. کہ شرح سود میں اضافے (Interest Rate Hikes) کا اثر بالآخر معیشت پر پڑنا شروع ہو گیا ہے۔

ماہرانہ رائے: RBA اب ایک مشکل پوزیشن میں ہے۔ وہ اجرت کی ترقی (Wage Growth) پر نظر رکھیں گے. جو عام طور پر لیبر مارکیٹ کے سخت ہونے کے بعد آتی ہے۔ لیکن اگر ملازمتوں کی تعداد مسلسل گرتی ہے. تو وہ شرح سود کو غیر ضروری طور پر بلند رکھنے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔

نومبر کے یہ اعداد و شمار RBA کی آئندہ میٹنگوں میں مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کے فیصلوں میں کلیدی حیثیت رکھیں گے۔ یہ ڈیٹا شرح سود میں مزید اضافے کے لیے جگہ کو کم کرتا ہے. اور مارکیٹ کی شرح سود میں ممکنہ کمی (Rate Cut) کی توقعات کو تقویت دیتا ہے۔

اختتامیہ.

Australian Unemployment Rate کا 4.3% پر برقرار رہنا بظاہر مثبت ہیڈ لائن نمبر ہے. لیکن روزگار میں اصل کمی اور کل وقتی ملازمتوں کے نقصان کی اندرونی تفصیلات بتاتی ہیں. کہ لیبر مارکیٹ توقع سے زیادہ کمزور ہو رہا ہے۔

مالیاتی منڈیوں میں کامیابی کا دس سال کا تجربہ یہ سکھاتا ہے. کہ تجارت (trading) میں سب سے بڑی غلطی "سرفہرست معلومات” پر بھروسہ کرنا ہے۔ گہرائی میں کھودنا (Digging Deeper) اور تفصیلات کو سمجھنا ہی کامیاب ٹریڈر کی پہچان ہے۔

AUDUSD پر موجودہ رد عمل اس بات کی تصدیق کرتا ہے. کہ مارکیٹ نے ان اندرونی کمزوریوں کو پہچان لیا ہے۔ آسٹریلوی ڈالر کے تاجروں (AUD traders) کو اب افراط زر کی آئندہ رپورٹس اور RBA کے بیانات پر پوری توجہ مرکوز کرنی چاہیے. تاکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے لیے تیار رہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا RBA ان کمزور اعداد و شمار کی وجہ سے شرح سود میں اضافہ روک دے گا. یا کیا وہ ابھی بھی افراط زر کے کنٹرول پر توجہ مرکوز رکھے گا؟ کمنٹس میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button