پاکستان کا External Debt: حقیقت کیا ہے؟ وزارتِ خزانہ کی وضاحت اور معاشی حقائق کا تجزیہ

Ministry of Finance Clarifies External Public Debt Cost, Global Interest Rate Impact and Pakistan’s Stabilization Roadmap

پاکستان کی معیشت میں "بیرونی قرضہ” External Debt ہمیشہ سے ایک بحث طلب موضوع رہا ہے۔ حال ہی میں میڈیا میں گردش کرنے والی بعض خبروں نے عوام اور سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا کی. جس پر وزارتِ خزانہ (Ministry of Finance) کو باقاعدہ وضاحت جاری کرنی پڑی۔ اس آرٹیکل میں ہم نہ صرف ان اعداد و شمار کا جائزہ لیں گے. بلکہ یہ بھی سمجھیں گے. کہ عالمی مارکیٹ کے بدلتے ہوئے حالات پاکستان کے قرضوں پر کیسے اثر انداز ہو رہے ہیں۔

مختصر خلاصہ.

  • قرض کی تقسیم: پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 138 ارب ڈالر ہے، لیکن حکومت کی براہِ راست ذمہ داری (Public External Debt) صرف 92 ارب ڈالر ہے۔

  • سود کی شرح: عوامی قرضوں کا 75 فیصد حصہ رعایتی (Concessional) ہے. جس پر اوسط سود صرف 4 فیصد ہے. نہ کہ 8 فیصد جیسا کہ پروپیگنڈا کیا گیا۔

  • ادائیگیاں: مالی سال 2025 میں سود کی ادائیگیاں 3.59 ارب ڈالر متوقع ہیں. جس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر سود کی شرح میں اضافہ ہے۔

  • استحکام: آئی ایم ایف (IMF) پروگرام اور کثیر الجہتی اداروں سے ملنے والے فنڈز نے پاکستان کے Foreign Exchange Reserves کو سہارا دیا ہے۔

کیا پاکستان کا کل External Debt واقعی ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے؟

عام طور پر جب 138 ارب ڈالر کے ہندسے کا ذکر کیا جاتا ہے. تو تاثر یہ ملتا ہے. کہ یہ سارا بوجھ حکومتِ پاکستان پر ہے۔ تاہم، وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے. کہ اس رقم میں نجی شعبے کے قرضے (Private Sector Debt)، بینکوں کی ادھار لی گئی رقوم اور عوامی شعبے کے اداروں (PSEs) کے قرضے بھی شامل ہیں۔

حکومت کا اصل بیرونی قرضہ 92 ارب ڈالر ہے۔ اس میں سے ایک بہت بڑا حصہ (تقریباً 75 فیصد) عالمی بینک (World Bank) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) جیسے اداروں سے انتہائی آسان شرائط پر لیا گیا ہے۔

کیا پاکستان External Debt پر 8 فیصد سود ادا کر رہا ہے؟

 یہ دعویٰ کہ پاکستان اوسطاً 8 فیصد سود ادا کر رہا ہے. تکنیکی طور پر غلط ہے۔ پاکستان کے بیرونی عوامی قرضوں پر اوسط سود کی شرح تقریباً 4 فیصد ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق، صرف 7 فیصد قرضہ کمرشل بینکوں سے لیا گیا ہے. اور مزید 7 فیصد یورو بانڈز (Eurobonds) کی شکل میں ہے۔ باقی تمام قرضہ رعایتی بنیادوں پر ہے. جس کی وجہ سے مجموعی بوجھ کم رہتا ہے۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی عالمی مارکیٹ میں بے یقینی پھیلتی ہے. تو قیاس آرائیاں بڑھ جاتی ہیں۔ 2022 میں جب پاکستان کے ڈیفالٹ کے چرچے تھے. تو بانڈ مارکیٹ میں ییلڈز (Yields) غیر معمولی حد تک بڑھ گئی تھیں. لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ حکومت کے پرانے قرضوں پر سود کی شرح بدل گئی ہے۔ مارکیٹ پرائس اور Actual Cast of Debt میں فرق کرنا ایک منجھے ہوئے سرمایہ کار کی نشانی ہے۔

سود کی ادائیگیوں میں اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرضہ رعایتی ہے تو پھر ادائیگیوں کا حجم 1.99 ارب ڈالر (2022) سے بڑھ کر 3.59 ارب ڈالر (2025) تک کیوں پہنچا؟ اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں.

1. عالمی سطح پر سود کی شرح میں اضافہ (Global Interest Rate Dynamics)

امریکی فیڈرل ریزرو (US Federal Reserve) نے Inflation کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود کو 0.75% سے بڑھا کر 5.50% تک پہنچا دیا تھا۔ چونکہ پاکستان کے بہت سے قرضے بین الاقوامی مارکیٹ ریٹس (جیسے SOFR) سے منسلک ہوتے ہیں. اس لیے عالمی سطح پر مہنگی رقم نے پاکستان کی ادائیگیوں میں بھی اضافہ کیا۔

2. IMF اور کثیر الجہتی قرضوں میں اضافہ

2022-23 کے دوران جب پاکستان کے ذخائر ایک ماہ کی درآمدات سے بھی کم رہ گئے تھے. تو حکومت نے آئی ایم ایف (IMF) سے رجوع کیا۔ ان نئے قرضوں نے اگرچہ معیشت کو سہارا دیا. لیکن ان کی واپسی اور سود کی مد میں ادائیگیوں کے حجم میں بھی اضافہ ہوا۔

اہم اداروں کو کی جانے والی ادائیگیاں.

وزارتِ خزانہ نے شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے اہم قرض خواہوں کو دی جانے والی رقوم کی تفصیلات درج ذیل بتائی ہیں:

قرض خواہ (Creditor) کل ادائیگی (ارب ڈالر) سود کا حصہ (ملین ڈالر)
آئی ایم ایف (IMF) 1.50 580
ورلڈ بینک (World Bank) 1.25 419
ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) 1.54 615
نیا پاکستان سرٹیفکیٹس 1.56 94
کمرشل لونز (Commercial Loans) ~3.00 327

مستقبل کا منظرنامہ: کیا معاشی استحکام ممکن ہے؟

پاکستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر کر استحکام کی طرف گامزن ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ قرضوں کے انتظام (Debt Management) کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

ایکسٹرنل اکاؤنٹ کی مضبوطی

زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے کے لیے برآمدات میں اضافہ اور ترسیلاتِ زر (Remittances) پر توجہ دی جا رہی ہے۔ جب تک پاکستان اپنے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (Current Account Deficit) کو قابو میں رکھے گا. External Debt کا دباؤ کم محسوس ہوگا۔

فنانشل مارکیٹس میں "کریڈٹ ریٹنگ” بہت اہمیت رکھتی ہے۔ جب موڈیز (Moody’s) یا فچ (Fitch) جیسی ایجنسیاں پاکستان کے آؤٹ لک کو بہتر کرتی ہیں. تو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔ موجودہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے. کہ پاکستان اب ری پیمنٹ کے خطرے سے نکل کر مینیجمنٹ کے فیز میں داخل ہو رہا ہے۔

اختتامیہ.

پاکستان کے External Debt کی صورتحال تشویشناک ضرور ہے لیکن ویسی نہیں جیسی بعض خبروں میں پیش کی گئی۔ 92 ارب ڈالر کا عوامی قرضہ، جس کا بڑا حصہ رعایتی ہے، معیشت کے لیے سنبھالنا ممکن ہے. بشرطیکہ سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔ عالمی مارکیٹ میں سود کی شرح میں حالیہ کمی پاکستان کے لیے ایک مثبت اشارہ ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا پاکستان کو مزید کمرشل قرضوں سے بچ کر صرف رعایتی فنڈنگ پر انحصار کرنا چاہیے؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button