پاکستان میں مہنگائی کم مگر ریلیف کہاں؟ Inflation, Base Effect اور قیمتوں کا جمود
Despite a dramatic fall in inflation rates, grocery and essential costs stay painfully high for common citizens.
Pakistan میں 2023 کے دوران Inflation نے 38 فیصد کی بلند ترین سطح کو چھوا، اور دو سال کے اندر 2025 میں یہ 3.5 فیصد تک گر گئی۔ یہ بظاہر ایک بڑی کامیابی ہے۔ لیکن عام شہری اب بھی مہنگی Grocery, Healthcare اور Education کی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر Inflation واقعی کم ہو گئی ہے، تو پھر ریلیف کہاں ہے؟
خلاصہ — Summary
-
2023 میں Inflation کی سطح 38 فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی.
-
2025 میں Inflation کم ہوکر 3.5 فیصد پر آ گئی.
-
Pakistan میں مہنگائی کم ضرور ہوئی، لیکن قیمتیں وہیں کی وہیں ہیں.
-
Base Effect کی وجہ سے Inflation کے اعداد و شمار کم دکھائی دیتے ہیں.
-
Grocery, Healthcare, اور Education اب بھی مہنگے ہیں.
-
Wage Growth سست روی کا شکار ہے.
-
Energy Prices اور Circular Debt کے مسائل برقرار.
-
SBP Interest Rate 22 فیصد پر برقرار.
-
IMF Conditions کے باعث سخت مالی پالیسیاں لاگو رہیں.
2020 سے 2025 تک کا Inflation سفر
Pakistan میں 2020 کے دوران Inflation کی سطح 9.74 فیصد تھی۔ اگلے سال معمولی کمی آئی. لیکن 2022 میں صورتحال بدل گئی۔ CPI اوسط 19.87 فیصد تک پہنچ گئی۔ 2023 میں تو یہ شرح 30.77 فیصد کی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی. اور مئی 2023 میں 38 فیصد کی بلند ترین ماہانہ شرح درج ہوئی۔
2024 میں کمی کی ابتدا ہوئی، اور 2025 کے پہلے پانچ ماہ میں Inflation کی اوسط 4.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ لیکن یہ اعداد و شمار صرف سطحی ہیں. کیونکہ حقیقی قیمتیں اب بھی بلند ہیں۔
قیمتیں کم کیوں نہیں ہوئیں؟ — Understanding the Base Effect
Base Effect ایک ایسا شماریاتی فریب ہے جو مہنگائی کو کم ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر: آٹا 2021 میں 50 روپے فی کلو تھا. جو 2023 میں 120 روپے ہو گیا۔ اب 2025 میں بھی وہی 120 روپے ہے۔ قیمت نہیں بڑھی، لیکن کم بھی نہیں ہوئی۔
لہٰذا، Inflation کی شرح کم ضرور ہوئی، لیکن اشیاء کی قیمتیں جوں کی توں ہیں، اور عوام کے لیے یہ کسی ریلیف سے کم نہیں۔
2022–2023 کا طوفان — Key Inflation Drivers
مہنگائی میں اچانک اضافے کی کئی وجوہات تھیں:
-
Ukraine War کے بعد عالمی سطح پر Food اور Energy Prices میں اضافہ.
-
روپے کی شدید گراوٹ.
-
تباہ کن سیلاب اور زرعی پیداوار کا نقصان.
-
IMF Bailout کی سخت شرائط اور تاخیر.
-
SBP کی جانب سے Interest Rate بھی 22 فیصد تک بڑھانا.
ان تمام عوامل نے مل کر ایک اقتصادی طوفان برپا کیا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی کمی — Pending Reforms
ماہرین کے مطابق اگرچہ Inflation کم ہوئی ہے. لیکن قیمتوں کی سطح اب بھی بہت بلند ہے۔ Wage Growth نہ ہونے کے برابر ہے. جبکہ Healthcare اور Education میں مہنگائی اب بھی 10 فیصد سے زیادہ ہے۔
Food Supply Chains اب بھی کمزور ہیں. اور Energy Prices میں کوئی مستقل کمی نہیں آئی۔ Circular Debt کے مسائل جوں کے توں ہیں۔
سابق مالیاتی مشیر مہتاب شیخ کے مطابق:
"یہ ایسا ہے جیسے آپ کار کو کریش کے بعد اچانک بریک لگا دیں — نقصان ہو چکا ہوتا ہے، رفتار صرف رکتی ہے۔”
یہی حال Inflation کا ہے — قیمتیں بلند ہو چکی ہیں. اب صرف وہ پہلے جتنی تیزی سے نہیں بڑھ رہیں۔ لیکن عوام کے لیے یہ کوئی ریلیف نہیں، بلکہ ایک Cumulative Economic Pain ہے۔
پاکستان میں Inflation کا گراف اگرچہ نیچے آ گیا ہے، لیکن مہنگائی کے اثرات اب بھی ہر پاکستانی کے گھر میں موجود ہیں۔ Base Effect, Wage Stagnation, اور Price Rigidity جیسے عوامل اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ اعداد و شمار کچھ بھی کہیں، عوام کو کسی قسم کی عملی ریلیف حاصل نہیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



